Thursday, 01 October 2026
  1. Home/
  2. Blog/
  3. Unzila Siddiqui/
  4. Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

سیاست کے ایوانوں سے لے کر گلی محلوں کے چائے خانوں تک، ایک لفظ جو ہمارے کانوں میں سب سے زیادہ رس گھولتا ہے یا پھر کبھی کبھی تلخی کا احساس دلاتا ہے، وہ ہے "جمہوریت"۔ جمہوریت صرف ایک طرزِ حکومت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جس کی بنیاد عوام کی حاکمیت، ان کے حقوق کی پاسداری اور ایک مساوی معاشرے کی تشکیل پر رکھی گئی ہے۔ جمہوریت کا حسن اس بات میں پنہاں ہے کہ اس میں طاقت کا سرچشمہ کوئی فردِ واحد یا مخصوص طبقہ نہیں، بلکہ وہ عام انسان ہوتا ہے جو تپتی دھوپ میں لائن میں کھڑا ہو کر اپنے ووٹ کی پرچی سے ملک کا مستقبل طے کرتا ہے۔ لیکن جب ہم اس خوبصورت سیاسی فلسفے کو اپنے اردگرد کی تلخ حقیقتوں کے ترازو میں تولتے ہیں، تو ایک گہرا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ جمہوریت کے دعوے اپنی جگہ، مگر عام آدمی کے مسائل اور اس کی روزمرہ کی جدوجہد آج بھی ایک تشنہ سوال بن کر کھڑی ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کا پودا ہمیشہ عوامی امنگوں کے خون سے سینچا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ریاست کے وسائل پر پہلا حق اس کے شہریوں کا ہوگا۔ ایک ایسی فلاحی ریاست جہاں غریب کو سستا انصاف ملے، بیمار کو دوا میسر ہو، بچے کو قلم اور کتاب نصیب ہو اور ہر فرد کو چھت اور روزگار کی ضمانت ملے۔ ادبی اصطلاح میں کہیں تو جمہوریت عوامی درد کے مداوے کا نام ہے۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں جمہوریت کا تصور صرف پانچ سال بعد لگنے والے ایک انتخابی میلے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ووٹ ڈالنے تک تو عوام "رعیت سے راج کماری" بن جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی ووٹوں کی گنتی ختم ہوتی ہے اور اقتدار کا ہما کسی کے سر پر بیٹھتا ہے، عوام دوبارہ اپنے پرانے مسائل کے اندھیرے کنویں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

اگر ہم اپنے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو عوامی مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جو دہائیوں سے جوں کی توں ہے۔ بجلی کا بحران، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، گلی کوچوں میں ابلتے ہوئے گٹر، اور مہنگائی کا وہ طوفان جس نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایک عام آدمی صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کی پہلی سوچ یہ ہوتی ہے کہ آج کے دن کا راشن کیسے پورا ہوگا، بچوں کے اسکول کی فیس کہاں سے آئے گی، اور اگر کوئی بوڑھا باپ یا معصوم بچہ بیمار ہو گیا تو ہسپتال کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو کسی بھی جمہوری ریاست کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں جہاں حکمران طبقہ شاہانہ زندگی گزار رہا ہو اور عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں۔

سیاست دان اکثر یہ بحث کرتے ہیں کہ جمہوریت کو پنپنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ بات سر آنکھوں پر، لیکن کیا وقت کا گزرنا صرف عوام کے صبر کا امتحان ہے؟ جمہوریت کا ایک اہم ستون "احتساب" اور "عوامی نمائندگی" ہے۔ جب عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے پارلیمان میں بھیجتے ہیں، تو وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کے حلقے کے مسائل، ان کی محرومیاں اور ان کی آواز اس سب سے بڑے ایوان میں گونجے گی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ پارلیمان کے اندر بحث و تکرار تو بہت ہوتی ہے، ایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالا جاتا ہے، ذاتی عناد اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے راتوں رات قوانین بھی بدل دیے جاتے ہیں، لیکن اگر کچھ نہیں بدلتا تو وہ اس غریب ووٹر کی تقدیر ہے جس نے اس امید پر انگوٹھا لگایا تھا کہ شاید اس بار اس کے گھر کا چولہا مستقل جل سکے۔

یہاں ایک اور اہم پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ ہے تعلیم اور شعور کا فقدان۔ جمہوریت اسی وقت بہترین پھل دیتی ہے جب ووٹر باشعور ہو اور وہ برادری، ذات پات یا محض جذباتی نعروں سے بالاتر ہو کر کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ ہمارے ہاں جان بوجھ کر عوام کو بنیادی تعلیم اور سیاسی شعور سے دور رکھا گیا ہے تاکہ انہیں ایک مخصوص دائرے میں مقید رکھا جا سکے. جب تک ایک عام شہری اپنے حقوق اور فرائض سے واقف نہیں ہوگا، تب تک وہ اپنے مسائل کا حل لانے والے سچے رہنما کا انتخاب نہیں کر پائے گا۔ ادبی پیرائے میں کہیں تو، جہالت کے اندھیروں میں جمہوریت کا چراغ اپنی پوری آب و تاب سے نہیں جل سکتا۔

سیاستدانوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ مسائل کی تمام تر ذمہ داری پچھلی حکومتوں یا نظام کی خرابی پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ ناصحانہ اور معذرت خواہانہ انداز اب عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ جمہوریت نام ہے ڈیلیور کرنے کا، عوام کو ریلیف دینے کا۔ اگر کوئی نظام عوام کو تحفظ، انصاف اور بنیادی ضرورتیں فراہم نہیں کر سکتا، تو عام آدمی کے لیے اس نظام کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر عوام کے دلوں میں مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہی مایوسی کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا زہر ہے۔ جب لوگ قانون اور نظام سے ناامید ہو جاتے ہیں، تو معاشرے میں انارکی اور بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے، جو جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

نرم اور دردمندانہ لہجے میں بات کی جائے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جمہوریت کے اس ڈھانچے میں روح پھونکیں۔ جمہوریت صرف کتابوں میں لکھی ہوئی تعریف یا تقریروں میں بکھرے ہوئے الفاظ کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہونی چاہیے جو عوام کے معیارِ زندگی سے جھلکے۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے محلات سے نکل کر عوامی مسائل کی تپش کو خود محسوس کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ایک مزدور کی اجرت اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اور اس کی ضرورت کے مطابق نہیں ملے گی، جب تک ایک کسان کو اس کی فصل کا صحیح معاوضہ نہیں ملے گا، اور جب تک ایک عام شہری خود کو ریاست کے سایہِ عاطفت میں محفوظ نہیں سمجھے گا، تب تک جمہوریت کا یہ سفر ادھورا رہے گا۔

آئیے اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ جمہوریت کا حسن اس کے مکالمے اور عوامی خدمت میں ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کا ایک دوسرے کے خلاف ہونا سیاسی حسن کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن عوامی مسائل پر دونوں کا متفق نہ ہونا ایک المیہ ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار جیسے امور پر قومی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے، جہاں سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف انسان کی فلاح کو مقدم رکھا جائے۔

آخر میں، یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ نظام کوئی بھی ہو، اس کی کامیابی کا معیار صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین طبقے کا کتنا خیال رکھتا ہے۔ جمہوریت بلاشبے ایک بہترین نظام ہے، بشرطیکہ اسے اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ عوامی مسائل کا حل کسی جادو کی چھڑی سے ممکن نہیں، لیکن ایک سچی نیت، ہمدرد دل اور مسلسل جدوجہد سے اس فاصلے کو مٹایا جا سکتا ہے جو اس وقت ایوانوں اور گلی کوچوں کے درمیان حائل ہے۔ عوام اب کھوکھلے وعدوں سے تھک چکے ہیں، انہیں اب عملی اقدامات اور اپنے مسائل کا پائیدار حل چاہیے، کیونکہ جمہوریت عوام سے ہے، اور عوام ہی جمہوریت کا اصل حاصل ہیں۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui