Friday, 21 August 2026
  1. Home/
  2. Blog/
  3. Unzila Siddiqui/
  4. Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

انسانی تاریخ کا پہلا اور بنیادی سبق یہی ہے کہ ہر آنے والے دور کا اپنا ایک مخصوص مزاج، تمدنی تقاضے اور مختلف سوچ ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی نئی نسل اپنے خوابوں، نئے خیالات اور صلاحیتوں کے ساتھ عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھتی ہے، تو قدیم اور جدید کے درمیان خیالات کا ایک خاموش سا نسلی تصادم جنم لیتا ہے۔ آج جب ہم "جین زی" (Generation Z) کے نمائندے کے طور پر عملی زندگی، شعبۂ طب اور صحافت کا حصہ بن رہے ہیں، تو ہمیں بھی اکثر ایک ان دیکھے کھنچاؤ، سست روی کے طعنوں اور کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بطور ایک ڈینٹسٹ اور کالم نگار، جب میں کلینکل ڈسپلن اور صحافتی دنیا دونوں کو ایک ساتھ دیکھتی ہوں، تو میرا پختہ ماننا ہے کہ اس فکری فرق کو بے جا تنقید کا رنگ دینے کے بجائے اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے، تو افہام و تفہیم کے کئی خوبصورت راستے نکل سکتے ہیں۔

ہم سے پہلی نسلوں نے اپنے عہدِ زریں میں مسلسل محنت، طویل اوقاتِ کار، ذاتی زندگی کی قربانی اور ادارے کے ساتھ لچکدار وفاداری کو ہی کامیابی کا واحد اور حتمی معیار جانا۔ ان کا یہ جذبۂ عمل بلاشبہ قابلِ احترام ہے، کیونکہ اسی ثبات، پختگی اور ان تھک قربانی نے آج کے مضبوط معاشی اور تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا دور جن حیرت انگیز رفتاریوں، ڈیجیٹل تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت اور پیچیدہ معاشی حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس نے زندگی اور کام سے متعلق سوچ کے تمام پرانے زاویے بدل کر رکھ دیے ہیں۔

آج کا سمجھدار نوجوان اگر روایتی نو سے پانچ کی چکر کاٹتی یکسان زندگی کے ساتھ ساتھ کام میں کچھ لچک، ذہنی سکون، باہمی احترام اور ذاتی خودداری کا طالب ہے، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ محنت سے جی چرا رہا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے طب کی دنیا میں ہم جانتے ہیں کہ مسلسل دباؤ اور برن آؤٹ مریض اور معالج دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، یہی اصول ہر شعبے اور انسانی زندگی پر لاگو ہوتا ہے۔ ہماری نسل کام کو زندگی کو سنوارنے اور معاشی ضرورت پوری کرنے کا ایک اہم وسیلہ تو سمجھتی ہے، مگر اسے پوری انسانی زندگی کا واحد اور حتمی مقصد قبول کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو حسنِ خوبی سے نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنے شائقین، جیسے فری لانسنگ، جدید ہنر اور تخلیقی نگارشات کو بھی اپنی روزمرہ زندگی میں برابر جگہ دیتا ہے تاکہ اس کا وجود صرف ایک بے روح مشین نہ بنے۔

موجودہ دور کی تیز رفتار ذہنی کشمکش، غیر یقینی صورتِ حال اور مسلسل تناؤ کے ماحول میں ذہنی صحت اور ورک لائف بیلنس کوئی پرتعیش خواہشات نہیں، بلکہ وقت کی شدید ترین ضرورت بن چکے ہیں۔ جب ایک نوجوان سکون اور توازن کی بات کرتا ہے، تو وہ اصل میں اپنے کام کے معیار کو مزید نکھارنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ایک پرسکون اور متوازن ذہن ہی ادارے کو بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس نسلی فرق کو ایک عمیق خلیج بنانے کے بجائے باہمی ہم آہنگی کا خوبصورت پل بنائیں۔ بزرگوں کا تجربہ اور محنت کی شاندار روایت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، جبکہ نئی نسل کی تکنیکی بصیرت اور تازہ فکر اس سفر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اگر ادارے اور معاشرہ ہماری اس مثبت سوچ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ایک کارآمد تبدیلی کے طور پر تسلیم کریں، تو ایک پرامن، خوشگوار اور زیادہ پیداواری ماحول جنم لے سکتا ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui