ارضِ مقدس کے سفر کی سرشاری اس دن سے شروع ہو جاتی ہے جب آپ اس سفر کا ارادہ کرتے ہیں، یہ سوچ کر ہی آپ کے دن رات مہکنے لگتے ہیں کہ آپ ان راستوں پر سفر کرنے والے ہیں جن پر کبھی دنیا کی سب سے مہربان و شفیق ہستی اور ان کے صحابہ کرامؓ چلتے رہے ہیں، یہ خیال واقعی اندر سے معطر کر دینے والا ہے۔ میں اس سفر کا ارادہ کئی سال سے کر رہا تھا مگر خدا کے حضور سے منظوری دیر سے ہوئی، اس منظوری کے لیے نہ دولت اہم ہے اور نہ کاغذات، خدائے لم یزل کا اپنا ہی پیمانہ ہے، اپنا ہی اصول ہے۔ میرے دوست جنھیں یہ سفر نصیب ہوا تھا، مجھے مسلسل کہا کرتے کہ "ایک بار لازمی جائو"، میں یہی کہا کرتا تھا کہ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے اور پھر وہ وقت آ گیا جب میری جیب میں پیسے نہیں تھے مگر بلاوا آ چکا تھا، اوپر سے منظوری ہوگئی تھی اور اس منظوری کی ایک وجہ میری ماں تھیں، ان کے اندر بیت اللہ دیکھنے کی جو تڑپ تھی، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، وہ ہر نماز کے بعد خدا کے حضور گڑگڑاتیں کہ "اے رب العزت! مجھے مرنے سے پہلے اپنا گھر دکھا" یہی وہ شدت تھی جو خدا کو پسند آئی اور منظوری ہوگئی، اس منظوری میں مجھ جیسا گناہ گار کیسے قبول ہوگیا۔ بس یہ ماں کی دعائوں کا نتیجہ لگتا ہے۔ میں جب جب وہاں جانے کا سوچتا تھا، غالب کا شعر ذہن میں آتا تھا: کعبے کس منہ سے جائو گے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی ارضِ مقدس پر روانہ ہونے سے پہلے اس سفر کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا، پڑھ رکھا تھا، کچھ سفر نامے بھی نظر سے گزرے تھے مگر سچ پوچھیں کوئی سفر نامہ اور کوئی یاداشت کام نہ آئی، بس یہ سفر تھا اورمیں تھا، درمیان میں کچھ بھی نہیں تھا۔
مجھے ایک دوست کہنے لگے کہ برادر! دعائیں لکھ لیجیے گا، وہاں جا کر بھول نہ جانا، میں مسکرا دیا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ وہاں صرف آنسو تھے، میں تھا یا پھر دنیا کا واحد حاجت روا اور مشکل کشا۔ ہمارے ہاں اس بات پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی، جو دعا مانگی جائے، فوری قبول ہوتی ہے، اس بارے میں علمائے کرام مختلف روایات اور بزرگان دین کے اقوال بیان کرتے ہیں۔ بیت اللہ میں داخلے کے وقت صحابہ کرامؓ کا یہ عمل تھا کہ وہ جب بھی بیت اللہ کو دیکھتے تو"بسم اللہ اللہ اکبر"پڑھا کرتے، یہ دعا بھی ہے اور اقرار بھی۔
عمرہ زائرین، بیت اللہ میں داخلے کے لیے باب فہد استعمال کرتے ہیں، اس دروازے سے داخل ہوں تو سامنے بیت اللہ کی عمارت کا ایک مختصر حصہ نظر آنے لگتا ہے مگر زائرین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آغاز میں نظریں جھکائے رکھیں اور بیت اللہ کے عین سامنے جا کر نظریں اوپر اٹھائیں اور پھر جی بھر کے اپنے رب سے مانگیں، جو کچھ مانگ سکتے ہیں، جو کچھ سنا سکتے ہیں، جتنی عرضیاں ڈال سکتے ہیں، وہاں ڈال دیں، یہ منظر بہت دیدنی ہوتا ہے۔ میں نے اس سفر میں سب سے زیادہ اس منظر کو انجوائے کیا، انڈونیشیا، فلپائن، نائیجیریا، سوڈان، چین، یمن، ازبکستان، تاجکستان، ترکی، مصر، آذر بائیجان اور پاکستان سمیت پوری دنیا سے تشریف لانے والے زائرین کو پہلی نظر پر گڑگڑاتے دیکھا، کوئی نوجوان تھا یا بزرگ، عورت تھی یا مرد، سب چیخ رہے ہیں، بلک رہے ہیں اور بیت اللہ کو مخاطب کرکے مانگ رہے ہیں، اپنے دکھ سنا رہے ہیں، عرضیاں ڈال رہے ہیں، جھولیاں بھر رہے ہیں۔ میں نے ہچکیاں مار کر روتے اور فرش پر گرتے لوگ بھی دیکھے، یہ منظر اندر سے ہلا دینے والا ہوتا ہے اور سوچ پوچھیں کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی، بیٹے کو علم نہیں کہ پہلو میں ماں ہے، بھائی کو علم نہیں کہ پہلو میں بہن ہے، سب ایک دوسرے سے ناآشنا بس رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں اور یہ عمل تادیر جاری رہتا ہے۔
ایک دن طواف کے دوران بڑا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا، تہجد کا وقت تھا، میری بیت اللہ میں آخری رات تھی، میں والدہ اور زوجہ کے ساتھ الوداعی طواف کے کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک نوجوان لڑکی جواپنی ماں کے ساتھ طواف کر رہی ہے، اونچی آواز میں "بسم اللہ اللہ اکبر"کہتی ہے اور فرش پر گرتے ہی بے ہوش ہو جاتی ہے، اسے کچھ دیر کوشش کے بعد اٹھایا جاتا ہے، وہ دوبارہ اونچی آواز میں "بسم اللہ اللہ اکبر"پڑھتی ہے اور نیچے گرتے ہی بے ہوش ہو جاتی ہے، یہ عمل کافی دیر تک جاری رہتا ہے۔ لوگ حیران بھی تھے اور خوش بھی، چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں، کوئی کہتا تھا اس عورت کو زیارت ہوگئی ہے، کوئی کہتا ہے کہ بخشی گئی ہے، کوئی کہتا ہے بیت اللہ کا جلوہ برداشت نہیں کر سکی، وغیرہ وغیرہ۔ میں اس حد تک تو متفق ہوں کہ بیت اللہ کا جلوہ انتہائی حیران کن ہوتا ہے، آپ کو اندر سے ہلا دیتا ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل رہے ہوتے ہیں، لب اور ہاتھ کپکپا رہے ہوتے ہیں، آپ کچھ نہیں بولتے مگر آپ کا اندر بول رہا تھا، اندر چیخ رہا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ریاض الجنہ میں پیش آیا، ایک انتہائی خوبصورت نوجوان عین اس لمحے انتقال کر جاتا ہے جب وہ روضہ رسول کے ساتھ والے حصہ میں نوافل ادا کرکے جالی کے قریب پہنچتا ہے۔ یہ سب ایسے ہی نہیں ہوتا، یہ کرم کے فیصلے ہوتے ہیں، یہ بلاوے قسمت والوں کے حصے میں آتے ہیں، بیت اللہ کا جلوہ ہو یا روضہ رسول کا روح پرور منظر، یہ ان دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو محبت، عشق اور عاجزی سے لبریز ہوتے ہیں۔
بیت اللہ کو دیکھتے رہنا بھی عبادت ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق اس شخص پر بیس رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، جو بیت اللہ کے سامنے بیٹھ کر اسے صرف دیکھتا رہتا ہے، میری یہ عادت تھی، میں اکثر نماز کے بعد حرم کے صحن میں بیٹھ جایا کرتا اور گھنٹوں بیت اللہ کو دیکھتا رہتا، موقع پاتے ہی قریب جاتا، غلاف کعبہ کو چومتا اور پھر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا، یہ وقت اور یادیں زندگی کا سرمایہ بن چکیں۔ مجھے دوست کہا کرتے تھے، تم ایک بار جائو گے تو بار بار وہاں جانے کا دل کرے گا، آج ایسا ہی ہے، جب سے واپس آیا ہوں، ایک پل بھی دل نہیں لگا، یہی خواہش کہ ہے دوبارہ اڑ کر وہاں پہنچ جائوں اور اسے سرزمین پر باقی کی زندگی گزار دوں۔