Monday, 01 June 2026
  1. Home/
  2. Aaghar Nadeem Sahar/
  3. Jang, Das Nukat Aur Abraham Accord

Jang, Das Nukat Aur Abraham Accord

28 فروری 2026ء سے شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے جو دس نکات امریکی میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچے، وہ انتہائی اہم بھی ہیں اور حیران کن بھی، اہم اس لیے کہ صد شکر! یہ جنگ ختم ہو رہی ہے، حیران کن اس لیے کہ یہ نکات دیکھ کر یوں لگ رہا ہے کہ امریکہ اپنی مرضی پر یہ معاہدہ کرنے جا رہا ہے اور اس میں ایران کی خودداری کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، ایران کی خود داری اس لیے یاد آئی ہے کہ اس جنگ میں ایران کی پلاننگ اور اتحاد نے دنیا کو حیران کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تو ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے اتحادی بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنا ہماری غلطی تھی، ایرانی ایک چالاک اور ذہین قوم ہے۔

میں نے یہاں امریکہ کی بجائے ٹرمپ اس لیے لکھا کہ اسرائیل اور ایران جنگ میں اترنے کا فیصلہ سراسر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی تھا اور اس وجہ سے امریکہ کے اندر سے ٹرمپ کو جس پریشر اور مسائل کا سامنا رہا، اس سے بھی دنیا واقف ہے۔ آج اگر امریکہ مذاکرات کی میز تک پہنچا ہے تو اس کے پیچھے بھی ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی مخالفت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے، ساٹھ روز کے اندر جنگ بندی بھی اس لیے ضروری تھی کہ یہ جنگ اگر تیسرے ماہ میں داخل ہو جاتی تو کانگریس کی طرف سے منظوری ضروری ہو جاتی، اس اجازت سے بچنے کے لیے پاکستان کی ثالثی تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کی گئی۔

آج جو دس نکات سامنے آئے، ان سے بھی بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ ٹرمپ امن کا خواہاں اسی لیے کہ مڈٹرم الیکشن سر پہ ہیں، ٹرمپ اپنے سب سے بڑے اتحادی اسرائیل کی وجہ سے خود کو مزید کسی بڑی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا، ابراہم اکارڈ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ خواہش تو ہو سکتی ہے مگر اسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور پاکستان کی جانب سے کورا جواب، ٹرمپ ڈاکٹرائن کی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملا دے گا۔

جنگ بندی کی شرائط میں پہلی جنگ بندی میں مزید ساٹھ روز کی توسیع ہے، دوسری ایران آبنائے ہر مز میں بچھائی سرنگیں ختم کرے گا اور آبنائے ہرمز کو بالکل ایسے کر دے گا، جیسے جنگ سے قبل تھا، تیسری یہ جنگ بندی لبنان اسرائیل جنگ پر بھی لاگو ہوگی مگر اسرائیل کسی بھی وقت حزب اللہ پر حملہ کر سکتا ہے، چوتھی آبنائے ہرمز کے بعد امریکہ ناکہ بندی ختم ہوگی، پانچویں ایرانی تیل مارکیٹ میں فروخت ہو سکے گا، چھٹی مذاکرات کا آغاز تبھی ہوگا جب ایران میں موجود ا فزودہ یورینیم تلف کی جائے گی، ساتویں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گی کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیاری بنائے گا اور نہ ہی خریدے گا، آٹھویں امریکہ فوج حتمی معاہدے تک خطے میں موجود رہے گی، نویں مذاکرات کی کامیابی کے بعد امریکہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی پیدا کرے گا اور دسویں شرط امریکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثوں تک ایران کو رسائی مل جائے گی، یہ وہ دس نکات ہیں جو امریکی میڈیا کی طرف سے منظر عام پر آئے۔

ان دس نکات کو پڑھنے کے بعد یہ بات بہت حد تک واضح ہو چکی کہ امریکہ یہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے مگر صرف اور صرف اپنی شرطوں پر اور اگر یہ جنگ امریکی شرطوں پر ہی ختم ہونی تھی تو پھر ایران کی جانب سے اس قدر مزاحمت، خطے میں اس قدر کشیدگی اور کئی ممالک میں اربوں ڈالر کا نقصان سمجھ میں نہیں آتا۔

ان نکات میں تیسری، چھٹی اور ساتویں شرط ایران کے جنگی نظریے کی مکمل طور پر مخالفت ہے، اگر یہ جنگ ایسے ہی ختم ہو جاتی ہے اور اسرائیل کو اس بات کی اجازت مل جاتی ہے کہ جب وہ چاہے حزب اللہ کو نشانہ بنا سکتا ہے تو پھر لبنان اسرائیل جنگ بندی کیسے ممکن ہو سکتی ہے، اس پورے معاہدے میں کہیں بھی اسرائیل یا نیتن یاہو کو پابند نہیں کیا گیا کہ وہ لبنان اور فلسطین پر اپنی جارحیت کو نہ صرف بند کرے بلکہ ان دو ممالک میں کی گئی نسل کشی پر معافی بھی مانگے اور ہرجانہ بھی ادا کرے۔

اسرائیل یا نیتن یاہو، ہمیشہ سے امریکہ ایران جنگ بندی کے خلاف ہیں، ٹرمپ کو امریکہ میں مخالفت کا سامنا بھی اس لیے ہے کہ ٹرمپ نے یہ جنگ محض نیتن یاہو کو خوش کرنے کے لیے شروع کی، اب جب اس جنگ میں ایران اور اسرائیل سے کہیں زیادہ نقصان امریکہ کا اپنا ہو چکا، ٹرمپ کو جنگ چھوڑ کر بھاگنا پڑ رہا ہے اورامریکہ کی ایسی گھنائونی شکست "عالمی دہشت گرد نیتن یاہو"کے لیے بھی حیران کن ہے۔ ٹرمپ اور اس کے اتحادی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انھیں اس جنگ میں اپنے ہی ملک اور کانگریس کی جانب سے اس قدر تنقید کا سامنا ہو سکتا تھا، آج اس جنگ کے خلاف مظاہرے دنیا بھر میں تو ہو ہی رہے ہیں، امریکہ میں بھی یہ مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

جنگ بندی کے دس نکات میں چھٹا اور ساتواں خود ایران کے لیے کبھی قابل قبول نہیں ہوگا اور اگر ایران ان نکات کو تسلیم کر لیتا ہے تو پھر ایران یہ جنگ ہار جائے گا اور امریکہ اگلے سو سال کے لیے مزید طاقتور ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ یہ دس نکات ایران کو کسی بھی بڑی قیامت سے گزار سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مراکش اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کا بھی اعلان کیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ، اب اس بات کے خواہش تھے کہ کسی طرح باقی مسلم ممالک بھی ایک میز پر بیٹھ جائیں اور اسرائیل کو آزاد ریاست تسلیم کریں تاکہ نیتن یاہو اور ٹرمپ درپردہ مقاصد حاصل کر سکیں، اس معاہدے کی حتمی شکل اور نیا نام "ابراہم اکارڈ" رکھا گیا۔

آج جب ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان کو ابراہم اکرڈ پر دستخط کی دعوت دی، مسلم دنیا میں ایک بھونچال آ گیا ہے، پاکستان میں خاص طور پر اس ٹویٹ اور معاہدے کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک طرف پاکستانی وزیر اعظم کا ٹرمپ کے لیے نوبل پرائز کی سفارش اور جنگ میں ثالثی کی پیش کش، دوسری جانب ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی ایڈمنسٹریشن کی غیر معمولی پذیرائی سے سینکڑوں نہیں ہزاروں سوال سامنے آرہے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais