Monday, 25 May 2026
  1. Home/
  2. Aaghar Nadeem Sahar/
  3. Teen Crore Nojawano Ki Haq Talfi

Teen Crore Nojawano Ki Haq Talfi

اٹھائیسویں ترمیم کے بارے مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، حکومتی بینچوں سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی، پاکستان تحریک انصاف جسے بطور سیاسی پارٹی رد کر دیا گیا ہے۔ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ آج اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے رہی سہی کسر بھی نکالی جا رہی ہے، ووٹر کی عمر جو پوری دنیا میں سولہ سے اٹھارہ سال ہے، یہاں پچیس کی جا رہی ہے، محض اس لیے کہ ایک پارٹی کا ووٹر نوجوان ہے، کس قدر ظلم کی بات ہے کہ پوری دنیا میں نوجوانوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں ان کا بنیادی حق تک چھینا جا رہا ہے۔

آج جب اٹھائیسویں ترمیم میں ووٹر کی عمر کا مسئلہ زیر غور آیا تو میری نظر ماضی کے اوراق پر پڑی، مجھے یہ سمجھنے میں ذرا دیر نہیں لگی کہ ووٹر کی عمر کا مسئلہ کیوں زیربحث آیا اور اس کے پیچھے وجوہات کیا ہیں۔ میں مختلف ویب سائٹس سے دیکھ رہا تھا کہ باقی ممالک میں ووٹر کی عمر کیا ہے، متحدہ عرب امارات کے علاوہ درجنوں ممالک میں ووٹر کی عمر اٹھارہ سال ہی رکھی گئی ہے، کچھ ممالک میں تو ووٹر کی عمر سولہ بھی ہے جیسا کہ آسٹریا، برازیل، ارجنٹائن، مالٹا، کیوبا اور کچھ یورپی ممالک(مثلا جرمنی اور بیلجیئم)، ان ممالک میں سولہ یا سترہ سال کے نوجوان مخصوص انتخابات (جیسے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات)میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ اندونیشیا، سنگا پور، کویت اور عمان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہاں ووٹر کی عمر اکیس سال طے کی گئی ہے۔

میرے سامنے اس وقت ملک بھر کے ووٹرز کا ڈیٹا پڑا ہے، کس صوبے اور ضلع میں مختلف ووٹر کی ایج ریشو کیا ہے، میں پورا ریکارڈ کھول کر بیٹھا ہوں، میں حیران ہوں کہ جس میں ملک نوجوانوں (18 سے 25 کے درمیان) کی شرح اٹھارہ فیصدہے۔ مارچ 2023ء کی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کی تعداد(رجسٹرڈ ووٹرز) صوبہ پنجاب میں ایک کروڑ پچیس لاکھ تینتیس ہزار پچپن (12533055)، سندھ میں اڑتالیس لاکھ تینتیس ہزار چار سو اکسٹھ(4833461)، خیبر پختونخوا میں چوالیس لاکھ تہتر ہزار پانچ سو تینتالیس (4473543)، بلوچستان میں دس لاکھ ترانوے ہزار آٹھ سو اکتیس(1093831) اور اسلام آباد میں ایک لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو دو(187502) ہے، مجموعی طور پر یہ تعداد دو کروڑ اکتیس لاکھ اکیس ہزار تین سو بانوے(23121392)بن رہی ہے۔

اب یہ تو صرف اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان ووٹرز کی تعداد ہے، یہ کل ووٹرز کا اٹھارہ فیصد بنتا ہے، مارچ 2023ء سے مارچ 2026ئء تک(تین سال میں میں)، ایک اندازے کے مطابق اس تعداد میں ستر سے اسی لاکھ کا اضافہ ہوا ہے یعنی اب یہ مجموعی تعداد تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اٹھائیسویں ترمیم میں ووٹرز کی عمر بڑھا کر پچیس کر دی جاتی ہے تو ہم کتنے کروڑ نوجوانوں کی حق تلفی کر رہے ہیں اور ان کے اندر عدم اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔ یہ تین کروڑ کے قریب نوجوان اس ملک کا سرمایہ ہیں، اس ملک کا روشن مستقبل ہیں بلکہ نوجوان کسی بھی ملک کا مستقبل اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب ان تین کڑور نوجوانوں کے پاس نہ تو اپنے خواب ہیں اور نہ ہی اپنی تعبیریں۔ ایسا نظام جو بنجر آنکھوں سے روشنی کی تقسیم چاہتا ہے، ایسا کسی جنم میں بھی ممکن نہیں ہوگا۔

اس پہلو کو ہم ایک اور انداز سے بھی دیکھ سکتے ہیں، فروری 2024ء کے الیکشن میں ٹرن آئوٹ 47 فیصد رہا جب کہ 2018ء کے الیکشن میں ٹرن آئوٹ 52فیصد تھا، فافن رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کل ووٹرز بارہ کروڑچھیاسٹھ لاکھ پچاس ہزارایک سو تراسی (126650183)ہیں، جن میں سے قومی اسمبلی کی 263 نشستوں پر چھ کروڑ پانچ لاکھ آٹھ ہزار دوسوبارہ (60508212) ووٹ کاسٹ ہوئے اور یوں یہ تناسب 47فیصد بتایا جا رہا ہے، ان سینتالیس فیصدسے اگر ہم نوجوان ووٹرز(18سے 25)کو نکال دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے دس سے پندرہ فیصد ووٹرز کا حق رائے دہی چھین لیا ہے، یوں تو اس ملک میں حق رائے دہی چھیننے کی رسم بہت پرانی ہے مگر پھر بھی برائے نام الیکشن تو ہوتے رہے ہیں، جیتنے والے فارم پینتالیس سے ہوں یا سنتالیس سے، پارلیمنٹ تو بنتی رہی ہے اور ہر دور میں یہی پارلیمنٹ عوامی حقوق پر تکلیف دہ کردار بھی ادا کرتی رہی ہے۔

چلیں ہم یہ بات مان جاتے ہیں کہ" جب الیکشن لڑنے والی کی عمر پچیس ہونی چاہیے تو ووٹرز کی پچیس کیوں نہیں ہو سکتی؟"، اب وہ حکومتی اراکین جو ووٹرز کی عمر بڑھانے پر متفق ہیں، ان سے میرا معصومانہ سوال ہے کہ اگر ووٹرز کی عمر بڑھا کر بھی، تین کروڑ نوجوانوں سے حق رائے دہی چھین کر بھی اگر ان کو اگلے جنرل الیکشن میں شکست ہو جاتی ہے تو کیا یہ اٹھائیسویں ترمیم لانے والا قبیلہ شکست تسلیم کر لے گا؟ کیوں کہ فروری 2024ء کے الیکشن کے بعد فارم پینتالیس اور فارم سینتالیس کی جس بحث نے جنم لیا ہے، اگلی کئی دہائیاں یہ بحث یونہی چلتی رہے گی۔ اب تو یہ خوف بھی سر اٹھانے لگا ہے کہ کہیں یہ تین کروڑ نوجوان اس بات کا نہ تقاضا کر دیں کہ گزشتہ تمام جنرل الیکشنز کے فارم پینتالیس منظر عام پر لائے جائیں۔

الیکشن جیتنے کی کہانی بھی ہمارے ہان بہت منفرد اور یاد رکھے جانے کے قابل ہے، سب سے پہلے تو ہماری سیاسی پارٹیاں کسی شریف آدمی کو ٹکٹ نہیں دیتیں، انھیں علم ہوتا ہے کہ شریف آدمی بے چارہ کیا الیکشن لڑے گا کیوں کہ الیکشن لڑنے کے لیے بے بہا پیسہ چاہیے، الیکشن کمپین بھی ہوتی ہے اور بڑے پیمانوں پر خریدوفروخت بھی، جہاں معاملہ خریدوفروخت یا الیکشن کمپین سے نہ چلتا ہوں، وہاں ہمارے ہاں مار دھاڑ سے بھی کام چلا لیا جاتا ہے اور جو امیدوار اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کنے کے بعد اسمبلی پہنچے گا، اس کی پہلی ترجیح عوامی حقوق کیسے ہو سکتے ہیں، اس نے جتنا خرچ کیا، اس کا بھی تو کوئی حل نکالنا ہوتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais