Sunday, 31 May 2026
  1. Home/
  2. Abdullah Tariq Sohail/
  3. Bas Thora Sa Aur

Bas Thora Sa Aur

صحافت اور صحافی صحیفہ سے ہے اور جرنل اور جرنلسٹ جرنلزم سے۔ فی زمانہ صحیفہ اور جرنل سے مراد وہ کتابچہ یا مجموعہ اوراق ہے جو ایک ہی نام سے بار بار چھپے اور ہر بار مواد نیا ہو۔ بار بار چھپنے سے مراد روز کے روز بھی ہے اور مہینے کے مہینے بھی۔ ہفتہ میں ایک بار بھی اور مہینے میں دوبار بھی۔ تین ماہ بعد چھپنے والے صحفیفے بھی ہوتے ہیں اور ششماہی بھی اور صحیفے کی ایک قسم وہ بھی ہے جو سال کے سال چھپتا ہے، یعنی سال میں ایک بار جیسے کہ مشہور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے سالانہ مجلے۔

لیکن اس میں بھی استثنیٰ ہے۔ جیسے بھارت کی دوسری مشہور ترین اردو یونیورسٹی (بلکہ ساتھ ہی تہذیبی مرکز بھی) جامعہ ملیہ کا مجلہ۔ یہ ہر مہینے چھپتا ہے۔ نہ جانے کب سے چھپ رہا ہے اور اب تک چھپے جا رہا ہے۔ یا پھر مرحوم عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد کا ادبی اور سائنسی مجلہ سائنس۔ " اپنے زمانے میں اس نے ہندوستان بھر میں دھوم مچا دی تھی۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد بھارتی حکومت نے پولیس ایکشن کرکے حیدر آباد کی عثمانی ریاست کو ختم کر دیا تو اس کے اوراق بھی ایک ایک کرکے مرحوم ہو گئے۔ اس پولیس ایکشن میں لاکھوں مسلمان قتل کر دیئے گئے تھے۔ ریاست بھر کے کنوئیں لاشوں سے اٹ گئے تھے۔

خیر بات کہاں سے چلی گئی، کدھر کو نکل گئی۔ مطلب یہ تھا کہ صحیفہ پرانے زمانے میں محض کتابچے کو کہا جاتا تھا، پھر زمانہ بدلا اور یہ ایک شعبہ بن گیا۔ صحافی اس آدمی یا عورت کو کہتے ہیں جس کا تعلق کسی صحیفے سے ہو۔ اس اعتبار سے سرسید اور مولانا صلاح الدین احمد بھی صحافی تھے۔ اگرچہ انہیں صحافی نہیں، سکالر، ادیب اور دانشور کہا جاتا ہے۔ صحافی ہونے کیلئے شرط اس صحیفے سے وابستگی ہے جس کا تعلق خبر اور خبر کے تجزیئے کی دنیا سے ہو۔

صحافت کا دانشوری سے کچھ واسطہ نہیں ہے لیکن آج کل صحافی اور دانشور ہم معنے ہو گئے ہیں۔ ٹی وی کے ٹاک شو میں بیٹھا ہوا ہر شخص دانشور قرار پاتا ہے یہاں تک کہ الیکشن کمیشن والے کنور شمشاد یا دلشاد، کیا نام ہے، وہ بھی دانشور کہلاتے ہیں۔ حیرت ہے، ابھی تک کسی ٹی وی نے اپنے پرائم ٹائم میں را انوار کو کوئی پروگرام نہیں دیا۔ ان میں ایسی کیا کمی ہے کہ انہیں دانشور کے ٹائٹل سے محروم رکھا جائے۔ ان کے بعد عزیر بلوچ کی باری بھی آ سکتی ہے۔

بات ایک بار پھر کسی اور طرف نکل گئی، اصل بتانے والی بات یہ تھی کہ باقی دنیا میں صحافی خبر دینے والے کو کہتے ہیں اور خبر چاہے اچھی ہو یا بری اور پاکستان میں صحافی بری خبر دینے والے کو کہا جاتا ہے، اس لئے کہ پاکستان میں اچھی خبر کبھی آتی ہی نہیں، صرف بری خبر آتی ہے، اس لئے صحافی اور بری خبر بھی لازم و ملزوم ہو گئے۔ بری خبر یعنی بم دھماکے، دہشت گردی، کرپشن، مہنگائی، جرائم، پولیس مقابلے حادثات وغیرہ۔۔ ، استثنیٰ یہاں بھی ہے، کبھی کبھار بری خبر کے پیچھے پیچھے اچھی خبر بھی آ جاتی ہے جیسا کہ ان دنوں تازہ تازہ واردات ہوئی تیل کی قیمت ڈیڑھ سو روپے لٹر بڑھا دی گئی، بری خبر تھی، لیکن کچھ ہی دن بعد یعنی کل یہ اچھی خبر بھی آ گئی کہ تیل 22 روپے سستا ہوگیا، یعنی ڈیڑھ سو روپے مالیت والا غم اب محض سوا سو روپے کا رہ گیا کبھی کبھار، بہت ہی کبھی کبھار ایسا ہو بھی جاتا ہے۔ مثلاً بجلی کا یونٹ دس روپے مہنگا کر دیا، پھر خبر آئی کہ چھ پیسے یونٹ سستا کر دیا۔ گویا نیٹ اضافہ دس روپے سے کم ہو کر محض نو روپے چورانوے پیسے کا رہ گیا۔ یا کبھی یہ بری خبر آئی کہ بم دھماکہ میں 30 شہید ہو گئے پھر اچھی خبر بھی پیچھے پیچھے آ گئی کہ نہیں 30 نہیں صرف 29 شہید ہوئے۔ اس طرح کی متضاد خبروں کے آنے کے عمل کا سائنسی نامخدمت کو عزت دو ہے۔

***

وزیر اعظم کے اس بیان کو دلچسپی اور توجہ سے پڑھا گیا جو انہوں نے آج ہی دیا ہے۔ فرمایا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا میری پہلی ترجیح ہے۔

ماہرین لسانیات و بشریات و ریلیفیات صبح سے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اس کی تشریحات پر کسی اتفاق رائے تک پہنچا جا سکے۔ اس میں تو کوئی شک کسی کو بھی نہیں ہے کہ بیان بالکل درست ہے۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا والا معاملہ ہے یا پھر اظہر من الشمس کا۔ لیکن اختلاف الفاظ کے معنے پر ہے۔ مثلاً عوام سے کیا مراد ہے۔ کچھ کا خیال ہے آئی پی پی مالکان یا پٹرولیم کمپنیوں کے مافیاز کو عوام کہا جاتا ہے۔ بعض کے خیال میں اشرافیہ کی جملہ انواع کا اجتماعی نام عوام ہے۔ بعض کے زیر بحث یہ بات ہے کہ ریلیف کے کیا معنے ہیں۔ کل پرسوں کی بات ہے ایک بچے نے باپ سے پوچھا، ڈیڈی، ریلیف کسے کہتے ہیں، باپ نے غصے سے کہا، انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے ہو اور ریلیف کے معنے نہیں آتے؟ بچے نے کہا، ڈیڈی پتہ ہوتا تو کیوں پوچھتا۔ باپ نے زور کا تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا اور کہا، اب سمجھ میں آیا، ریلیف کیا ہوتا یا ہوتی ہے۔

بہر حال وزیر اعظم کا یہ اعتراف یا انکشاف بہت اہم ہے اور اسے مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف کے اس بیان سے ملا کر پڑھا جا رہا ہے کہ بجٹ میں عوام پر کم سے کم وزن ڈالا جائے، یعنی وزن تو ڈالا جائے لیکن وہ بہت زیادہ نہ ہو۔ اگرچہ یہاں بھی یہ معاملہ تشریح طلب ہے کہ کم از کم وزن کی شرح کیا ہے اور زیادہ کی حد کیا ہے۔ نیز اس بیان سے یہ مفروضہ بھی واضح ہوگیا کہ اب تک عوام پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ میاں نوازشریف کے خیال میں کافی نہیں ہے، اس لئے انہوں نے وفاقی حکومت کو مزید وزن ڈالنے کی ہدایت کی ہے، اس شرط کے ساتھ کہ زیادہ نہیں، بس تھوڑا سا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais