Sunday, 02 August 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Haye Raam, General Kanu, Lad Gaye

Haye Raam, General Kanu, Lad Gaye

اتوارکے روز ہم پروفیسر صاحب کے گھر پہنچے تو اُنھیں افسردہ پایا۔ ہفتے کے کسی اور دِن پہنچتے تب بھی اُنھیں ایسا ہی پاتے۔ اُردو کے اُستاد ہیں۔ ماضی تمنّائی اور ماضی شکّی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ پڑھاتے وقت شک اُن کی پیشانی کی ہرہر شکن سے ہویدا ہوتا ہے۔

ایک روز ایک لڑکا اُن سے کمرۂ جماعت ہی میں پوچھنے لگا: "سر! ماضی شکّی اور ماضی مشکوک میں کیا فرق ہے؟"

اِس بیہودہ سوال پر اُنھیں اپنا ماضی یاد آگیا۔ مزید کئی دِنوں تک افسردہ رہے۔ خیر، تو اُس روز، یعنی اتوار کے روز ہمیں دیکھ کر فرمایا: "ہم تو نئی نسل سے اچھے مستقبل کی تمنّا رکھتے ہیں، مستقبل تمنائی۔ مگر ہمارے ماضی شکّی سے زیادہ اس نسل کا مستقبل مشکوک ہے"۔

پوچھا: "وہ کیسے؟"

فرمایا: "میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا۔ پریپ، میں تھا۔ میاں اب کچی پہلی اور پکّی پہلی، کا مذاق اُڑتا ہے۔ لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کے کسی نومولود بچے کو پنگوڑے سے اُٹھاکرPlay Group اور، Preparatory Class میں بِٹھا دیا جائے اور اُسے اُس کے پوپلے منہ سے Prep بولنا سکھایا جائے توکسی کو ہنسی آتی ہے نہ مذاق سوجھتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی تو صرف اِسی بات کو رو رہے تھے:

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ خود اُن ہی کی قوم، غلامی میں قومِ بنی اسرائیل سے بھی کئی درجے گئی گزری ہوجائے گی اور فراعنۂ وقت کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرکرکے اُن پر فخر و مباہات کا اظہار کیاکرے گی۔ خوشی خوشی اُن کے تعلیمی قتل کے صداقت نامے وصول کیا کرے گی"۔

"پروفیسر صاحب! آخر ہُوا کیا ہے؟"

"بھائی! ہوا یہ کہ جب میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا تو میں نے پوچھا، بیٹا آج کس مضمون کا پرچہ تھا؟ پہلے تو یہ سوال ہی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جب ماں نے سمجھایا کہ دادا ابو پوچھ رہے ہیں کس سبجیکٹ کا پیپر تھا؟ تو کہنے لگا، جی کے کا"۔ لمحے بھر توقف کیا۔ پھر بولے: "بھائی! سوال اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے اُس کی ماں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو بہونے مجھے پڑھانے والے انداز میں بتایا کہ اباجی! جی کے، جنرل نالج کوکہتے ہیں"۔

پروفیسر صاحب کی بات کاٹ کر عرض کیا: "جنرل نالج پر ایک پرانا قصہ یاد آگیا۔ پروفیسر صاحب! آپ کو بھی یاد ہوگا۔ چھٹی جماعت کا قصہ ہے۔ ایک بار ہماری انگریزی کی کلاس میں سیاہ فام خواجہ انجم خلجی نے جو انگریزی کے پُرجوش حامی ہونے کی وجہ سے لارڈ میاں کالے، کہے جاتے تھے، اِسی لفظ کو جنرل کنالج، پڑھ دیا تھا۔ جس پر قریشی صاحب بہت ہنسے تھے۔ پھر اُنھوں نے انگریزی زبان کی اور بھی کئی بوالعجبیاں ہمیں بتائی تھیں"۔

"ہاں میاں خوب یاد ہے۔ بلکہ ایک اِس سے بھی زیادہ دلچسپ واقعہ یاد ہے۔ تمھیں بھی یاد ہوگا۔ ایک بار خیرپورناتھن شاہ کے لالہ لچھمن لال نے جو اپنی مثالی کنجوسی کی وجہ سے لالہ دمڑچی لال، کہے جاتے تھے ایک انگریزی اخبار میں General Knowledge کی سرخی دیکھی تو اس کو "جنرل کنؤ، لَد گئے" پڑھ لیا۔ لالہ جی اِسے بریکنگ نیوز، سمجھے اور یہ خبر پڑھ کر خاصی دیر تک ملول رہے۔ نامعلوم جنرل صاحب کا دیہانت، ہوجانے پردیر تک سوگوار رہے۔ میں نے بھی دلاسا دیا کہ لالاجی کیوں دُکھی ہوتے ہو؟ آخر ایک نہ ایک دِن ہم تم سب ہی لد جائیں گے۔ آج جنرل کنؤرام، لدے ہیں، کل کو ہم لادے جائیں گے۔ یہ سن کر لالاجی نے اپنی چندیا سہلاتے ہوئے کہا، سچ کہتے ہو۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ"۔

"بات تو آپ کے ننھے پوتے کی ہورہی تھی جو جی کے، کا امتحان دے کر آیا تھا"۔

"ہاں میاں! خوب یاد دِلایا۔ میں نے بچے کا پرچہ دیکھا۔ انگریزی زبان میں چھوٹے چھوٹے معروضی سوالات تھے۔ ارے وہی جو آبجیکٹو ٹائپ کہلاتے ہیں"۔

ہم نے پھر بات کاٹی: "ارے پروفیسر صاحب! آبجیکٹو ٹائپ، تو ہمارے آپ کے زمانے کے معروضی سوالات کہلاتے تھے۔ نئے زمانے کے یہ سوالات آبجیکٹو ٹائپ نہیں کہلاتے، اب اُنھیں، MCQs کہا جاتا ہے۔ Multiple Choice Questions"۔

"اماں جو بھی کہا جاتا ہو، بات سنو، بلکہ بپتا سنو۔ بچے سے پرچہ لے کر میں نے دیکھا کہ بچے نے تمام سوالات پرصحیح کا نشان لگا رکھا تھا، سوائے ایک سوال کے۔ میں نے پوچھا، کیوں میاں تم نے اِس سوال پر نشان کیوں نہیں لگایا؟ اُس نے جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ میں نے کہا، یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ اُس نے پھر یہی کہا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں نے سوال کا ترجمہ کرتے ہوئے پوتے سے اُردو میں پوچھا، بیٹا! یہ بتاؤ اگر پٹرول پمپ پر ماچس جلائی جائے تو کیا ہوگا؟ بچے نے جھٹ جواب دیا، آگ لگ جائے گی۔ میں نے کہا، بیٹا! اِس سوال کے جواب میں یہی تو لکھنا تھا۔ اُس نے پھر وہی جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ اب میں نے اُس سے باقی سوالات کے معانی پوچھے، جن کے وہ انگریزی میں درست جوابات لکھ آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مطلب کسی سوال کا اُسے خاک نہیں آتا تھا۔ مگر نتیجہ آیا تو رٹّا اسکول، نے جی کے، میں نِنّانوے فی صد نمبردے کر اُسے اوّل بدرجۂ اوّل پاس کردیا تھا"۔

ہم نے تائید کی: "جی ہاں! ان جدید تعلیمی اداروں سے ہمارے ننھے منے بچے غیر حقیقی طور پر اور حیرت انگیز حد تک اعلیٰ ترین نمبر لے آتے ہیں۔ گال پر ستارہ بنوا کر چلے آتے ہیں۔ سالانہ تقاریب میں ایوارڈ، کے نام پر پلاسٹک کی تختیاں لے آتے ہیں اور یہی نہیں، آگے چل کر اسناد اور ڈگریاں بھی وصول کر لاتے ہیں، مگر علم نہیں حاصل کر پاتے۔ ان پر تو وہی مَثَل صادق آتی ہے کہ پڑھنا آئے نہ لکھنا، نام محمد فاضل۔ مگر صاحب! کوئی مردِ خدا ایسا نہیں جو اس اِندھیر کے خلاف سرکار دربار میں آواز اُٹھائے"۔

ہمارے اِن تائیدی کلمات پر پروفیسر صاحب بدک گئے۔ کہنے لگے: "تمھارے اس جواب پر وہی قصہ یاد آگیا کہ ایک گدا نے کسی دروازے پر صدا لگائی تو اندر سے آواز آئی کہ بابا! گھر میں کوئی بندہ نہیں۔ بابا نے فہمائش کی، بیٹا! تھوڑی دیر کے لیے تُو ہی بندہ بن جا۔ ارے میاں! ذرا کی ذرا تم ہی مردِ خدا بن جاؤ۔ کچھ اِس موضوع پر بھی لکھ ڈالو۔ لکھو کہ، کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟ کیا انگریزی ذریعۂ تعلیم کے اوزارکی مدد سے ہمارے بچوں سے اُن کے مشاہدے، اُن کے تجربے، اُن کے تجزیے، اُن کے دیکھنے، اُن کے سننے اور اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جائے گی؟ کیا اُنھیں کلّی طور پر محض اغیار کی اندھی، گونگی اوربہری غلامی ہی کے لیے مینوفیکچر، کیا جائے گا؟"

عرض کیا: "اِس موضوع پر ہم پہلے بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور بہت کچھ مزید لکھ سکتے ہیں۔ مگر موضوع کی زَد میں ہمارے کچھ ایسے ساتھی بھی آتے ہیں جو قوم کو غلامی سے نجات دِلانے اور ملک میں انقلاب لانے کے علم بردار ہیں۔ تاہم اپنے نامور نجی اور کاروباری تعلیمی اِداروں میں وہ بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔ لہٰذا ہماری طرف سے بھی معذرت اور اپنے سوالات کا وہی جواب قبول کیجیے جو آپ کو آپ کے پوتے نے دیا تھا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا"۔

پروفیسر صاحب نے اپنے مقدّر پر (مُراد اُن کی وسیع وعریض پیشانی سے ہے) ایک ہتّڑ مارا اور فرمایا:

"ہائے رام! جنرل کنَؤ، لَد گئے!"

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui