کراچی سے عزیزہ "خاک زادی" نے ایک عریضہ ارسال کیا ہے: "آں جہانی غیر مسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی پڑھا تھا۔ مگر ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیے"۔
سوال برطرف۔ جواب دینے پہلے ہم اِس صاحبزادی کو خاک زادی، کا عرف اختیار کرنے پر داد دینا چاہیں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہماری اِس بیٹی کا نام ماہم، (میرا چاند) ہے یا ماہِ تمام، (پورا چاند)۔ ہم سب ہی خاک زادے، ہیں۔ ماہ زادہ، کوئی نہیں۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں، کہ رہتی دنیا تک کے انسانوں سے خطاب تھا، رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد اِس مفہوم کا ملتا ہے: "تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے"۔
مولانا ابوالجلال ندویؒ نے پیدائشِ آدمؑ پر ایک طویل نظم "تکوین" (بمعنی "تخلیق") کہی تھی۔ اُسی نظم کا ایک شعر ہے:
خاک زادے کو خلافت دی گئی
ذاتِ باری کی نیابت دی گئی
زادہ، کا مطلب ہے جنا ہوا۔ شاہ زادہ، کسی بادشاہ کا جنا ہوتا ہے، نواب زادہ، کسی نواب کا، خان زادہ، کسی خان کا اور پیرزادہ، کسی پیر صاحب کا۔ ہمارے ہاں کچھ خال خال لوگ اور مغرب میں بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو اُردو کی زنانی لغت کے مطابق حرام کے جنے، ہوتے ہیں۔ اُنھیں کیا کہا جاتا ہے؟ آپ جانتے ہی ہوں گے۔ غالباً ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر اقبالؔ نے "حضورِ حق" اپنا وہ شعر پڑھا ہوگا، جو "ارمغانِ حجاز" (فارسی) میں ہے اور جس کا دوسرا مصرع شیخ سعدیؔ کا ہے:
بسے نا دیدنی را دیدہ ام من
"مرا اے کاشکے مادر نہ زادے"
"مجھے بہت سی نہ دیکھنے والی، چیزیں بھی دیکھنی پڑگئی ہیں۔ اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا"۔
جننے، پر ایک قصہ یہ بھی یاد آیا کہ مجیدؔ لاہوری نے حفیظؔ جالندھری کے ایک شعر کی تقلیدِ معکوس، کی تھی۔ حفیظؔ کا شعر کچھ یوں تھاکہ
حفیظؔ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
جب کہ مجیدؔ لاہوری نے بڑے معنی خیز انداز میں یہ دعویٰ کیا:
مجیدؔ اہلِ جہاں کب جانتے تھے
بڑے زوروں سے جنوایا گیا ہوں
بات بہت لمبی ہوگئی۔ بتانا بس یہ تھا کہ زادہ، کا مطلب ہے جنا ہوا اور زادی، اس کی تانیث ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنے بیٹے کا تعارف اِن الفاظ میں کراتے ہیں کہ "یہ میرا صاحب زادہ، ہے" وہ ذرا سوچ سمجھ کر تعارف کرایا کریں۔ بین السطور بڑی بیہودہ بات مستور ہے۔
اب آئیے اُس سوال کی طرف جو پیدا ہوگیا ہے، غالباً لوگوں کے تکیۂ کلام میں دیے جانے والے یہ طعنے سن سن کر کہ "سوال ہی پیدا نہیں ہوتا"۔ تکیۂ کلام پر خیال آیا کہ سوال میں خاک زادی "آں جہانی" کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ "ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے"۔ یہ ایک صاحب، کون صاحب ہیں؟ ان کا بڑا تذکرہ سنا ہے۔ ہمارے ایک دوست تو جب بھی ملتے ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ "ایک صاحب نے بتایا ہے، ایک صاحب کہہ رہے تھے، ایک صاحب نے انکشاف کیا ہے" وغیرہ وغیرہ۔ ایک دن اپنے اِس دوست کو دیکھا کہ لپک جھپک کر تیز تیز چلتے ہوئے کہیں جارہے ہیں۔ یوں ہی دریافت کرلیا:
"حضرت! خیر تو ہے؟ کہاں جارہے ہیں؟"
جواب ملا: "ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اُن کے جنازے میں جارہا ہوں"۔
"اناللہ" پڑھ کر اُن سے تعزیت کی اور سکون کا سانس لیا کہ اب ایک صاحب، کے ارشادات و فرمودات سے نجات مل جائے گی۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بلکہ خاک زادی، شدہ۔
ہاں توایک صاحب، نے یہ بات تو بالکل درست بتائی ہے کہ آں جہانی، فارسی الاصل لفظ ہے۔ آں، کے معنی ہیں وہ اور جہاں، کے معنی ہیں دُنیا۔ اِیں جہاں، یہ دُنیا اور آں جہاں، وہ دُنیا۔ یائے نسبتی (ی) لگاکر آں جہاں، سے آں جہانی، بنالیا گیا ہے۔ آں جہانی، کے لفظی معنی ہوئے اُس دنیا میں جا بسنے والا، یا اگلی دنیا میں چلا جانے والا۔ مگر ایک صاحب، کی یہ بات درست نہیں کہ آں جہانی، مسلم و غیر مسلم دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نہیں صاحب! استعمال تو نہیں ہوتا، ہاں کوئی استعمال کرلے تو بھلا کون روک سکتا ہے؟
یوں تو سب ہی اِس جہان سے اُس جہان میں جاتے ہیں۔ خواہ اُس جہان کے وجود کو مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مسلم وہ ہے جس نے اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے احکام کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کردیا۔ غیر مسلم نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ وہ جانے، اُس کا کام جانے۔ پس جب کوئی مسلمان اِس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم اُسے مرحوم، کہتے ہیں یا مرحومہ۔ لفظی معنی مرحوم یا مرحومہ کے ہیں "جس پر اللہ نے رحم فرمایا"۔ ایمان کے ساتھ اِس دنیا سے رخصت ہونا اللہ کی رحمت، ہی ہے۔ لہٰذا ہماری زبان میں ہر فوت شدہ مسلمان کے لیے مرحوم، مرحومہ،ؒ یاؒ ا جیسے دعائیہ کلمات استعمال کرنے کا رواج ہے۔ غیر مسلم تو کفر اور انکار پر ڈٹا رہ کر اِس دنیا سے اُس دنیا میں جاتا ہے۔ چلا گیا، اب کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اُس کی مرضی و منشا کے خلاف اُس کا لاشہ گھسیٹ کر اب اسلام کے دامنِ رحمت میں لا ڈالنے کا اختیار ہمیں تو نہیں۔ یہ اختیار خود اُسی کو تھا۔ سو احتراماً یا تعظیماً ہر فوت شدہ غیر مسلم کو اُردو میں آں جہانی، کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔
جو لوگ اس بات کے قائل تھے کہ مسلم و غیر مسلم دونوں کو آں جہانی، کہا جائے، ذرا خود اُن کے نام کے ساتھ آں جہانی، لگا کر دیکھیے کیسا لگے گا، مثلاً آں جہانی رشید حسن خان، یا آں جہانی شمس الرحمٰن فاروقی۔ رائج طریقہ تو یہی ہے کہ مسلم کو مرحوم، کہا جائے، غیر مسلم کو آں جہانی۔ اگر ایک صاحب، نہیں کہنا چاہتے تو نہ کہیں۔ اُن سے ہاتھا پائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورتِ شعری کے تحت اُردو شاعری میں حسن کو بھی کافر، قرار دیا گیا ہے۔ سید آلِ رضاؔ مرحوم کہتے ہیں:
سوچیے تو حسنِ کافر کچھ نہیں
دیکھیے تو دیکھتے رہ جائیے
ان کافروں، کی وجہ سے بتوں، سے بھی عشق کرلیا جاتا ہے۔ محبوب کو صنم، کہہ دیا جاتا ہے یا بُتِ کافر، قرار دیا جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ کافر انسانوں کے ساتھ ساتھ پتھر کے بت بھی جہنم کا ایندھین بنیں گے۔ چناں چہ اسی جان کاری، کی وجہ سے حضرتِ بیدلؔ جونپوری اپنے بتوں، کی وفات کی اطلاع یوں دیتے ہیں:
اِس جہاں میں جن بتوں کو ہم نے اپنا دل دیا
ہو گئے سب آں جہانی، اطلاعاً عرض ہے