Friday, 05 June 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Nange Sar Walon Ki Khair Khabar

Nange Sar Walon Ki Khair Khabar

"ننگے سر کے متعلق کیا فرماتے ہیں ابونثر؟" شادی کی تقریب تھی۔ اربابِ سخن ایک ہی میز کے گرد براجمان تھے۔ کھانا کھلنے، کے انتظار میں خوش گپیاں جا ری تھیں۔ پہنچتے ہی سلام دُعا سے پہلے سوال سُنا توجاننے کی ضرورت ہی نہیں رہی کہ آج کی خوش گپیوں کا موضوع کیا ہے۔ سو، نشست سنبھالتے ہی عرض کیا: "صاحبو! شرعی فتویٰ چاہیے تو حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن مد ظلہ، العالی سے رجوع لائیے۔ ہمیں تو اُنھوں نے فقط لسانی جوڑ توڑ کانائب مفتی مقرر کیا ہے"۔

"یوں ہے تو یوں ہی سہی۔ روغنی نان توڑنے سے پہلے لسانی جوڑ توڑ ہی سہی!"

انتظار کے صبر آزما لمحات گزارنے کے لیے ایک بے صبرے دوست نے پہلے تجویز پیش کی، پھر فرمایا کہ "فرمائیے!"

اپنا ننگا سر سہلاتے ہوئے فرمایا: "ہم نے اپنے بزرگوں کو، سوائے حالت احرام کے، مجمعِ عام میں کبھی ننگے سر نہیں دیکھا۔ نئی نسل خوش نصیب ہے کہ اس کے بزرگ اس کو اپنا ننگا تو کیا چٹیل سر بھی دکھاتے پھرتے ہیں"۔

یہ بات کہتے ہی بات بڑھ گئی۔ پھرجو بات چلی تو چلتی ہی چلی گئی۔

ہماری تہذیب میں (ٹوپی، بڑے رومال، دستار یا پگڑی سے) سر ڈھانکنا عزت و شرافت کی علامت جانا جاتا ہے۔ آج بھی ہمارے ملک کے مختلف خطوں میں مقامی معززین اپنے ہاں آنے والے معزز مہمانوں کے سر پر ٹوپی رکھتے یاپگڑی پہناتے ہیں۔ یہ رسم مہمان کو اعلیٰ ترین اعزاز دینے کی علامت مانی جاتی ہے۔ خود ٹوپی یا پگڑی بھی عزت ہی کی علامت ہے۔ یہی وجہ سے کہ محاوروں ہی میں نہیں فلموں میں بھی کسی کے سامنے اپنے آپ کو حقیر ثابت کرنے کے لیے یا کسی سے فریاد کرنے کے واسطے فریادی اپنی (قراقلی) ٹوپی یا کلاہ والی پگ، اُتار کر اُس کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔

میر تقی میرؔ اپنے پُر آشوب دور میں اپنے آپ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے:

میرؔ صاحب! زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

اس شعر سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس زمانے میں اہلِ زمانہ نے اپنے زمانے کو نازک زمانہ، قرار نہ دیا ہو۔ جیسا کہ عرض کیا، دستار، عمامہ یاٹوپی عزت کی علامت ہے۔ ہمارے مدرسۂ ثانویہ کے اُستاد واجد علی زیدی مرحوم کہاوت کہا کرتے تھے: "دوست کی نظر ٹوپی پر ہوتی ہے اور دُشمن کی نظر جوتے پر"۔

شاید دُشمن زیادہ ہُشیار (بلکہ اپنے کرانچی، والوں کی زبان میں ڈیڑھ ہُشیار،) ہوتا ہوگا کہ جوتم پیزار، شروع ہونے سے پہلے ہی احتیاطاً جانچ لیتا ہوگا کہ کیسا جوتا سر پر پڑنے والا ہے۔

انگریزوں کی آمد سے قبل برعظیم میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کی اکثریت کسی نہ کسی طرح اپنا سر ڈھانک کر رکھتی تھی۔ سر ڈھانکنا تہذیب و شرافت اور شائستگی کی علامت تھا۔ محفل میں، بالخصوص بزرگوں اور معززین کے آگے ننگے سربیٹھنا بدتہذیبی میں شمارکیا جاتا۔ لڑکپن میں والد مرحوم کو دیکھا کہ اگر گھر میں لیٹے ہوئے ہیں اور اچانک اُن کے بڑے بھائی مولانا ابوالجلال ندویؒ آپہنچے تووالد صاحب گھبرا کر اُٹھتے اور سب سے پہلے اپنی ٹوپی تلاش کرتے۔ اِس عاجز نے والد صاحب کو اپنے برادرِ بزرگ کے سامنے کبھی ننگے سر بیٹھے نہیں دیکھا۔

انگریز ہر چند کہ ہَیٹ اور کیپ بھی پہنا کرتے تھے، مگر اُن کے ہاں سر ڈھانکنا ضروری نہ تھا۔ اُنھوں نے ننگے سر رہنے کو تہذیب کی علامت بنا دیا۔ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لکھنؤ میں ہوا۔ لکھنؤ کے لوگ مسلم تہذیب و ثقافت کا مرقع ہوا کرتے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تو ان کے سرپر ٹوپی نہ تھی۔ نواب محمد اسمٰعیل خان نے اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی اپنے سر سے اُتار کر قائد اعظم کے سر پر رکھ دی۔ قائد اعظم کو یہ ٹوپی اتنی پسند آئی کہ انھوں نے اسے اپنے لباس کا جزو بنا لیا۔ یوں برعظیم کے مسلمانوں میں یہ ٹوپی "جناح کیپ" کے نام سے مقبول ہوگئی۔ کچھ عرصہ قبل تک ہمارے حکمران قائد اعظم کی تقلید میں اہم قومی مواقع پر شیروانی اور جناح کیپ پہنا کرتے تھے۔ مگر اب توانگریزی سوٹ پہن کر، انگریزی میں، اپنے منصب کاحلف ننگے سر بھی اُٹھا لیتے ہیں۔

ننگے سر گھر سے نکل آنا کبھی وحشت و بد حواسی کی علامت تھی۔ لوگ کسی معزز آدمی کو ننگے سر دیکھتے تو چونک پڑتے کہ"بے چارے پر کون سی ایسی مصیبت یا اُفتاد آئی کہ اپنا ہوش ہی نہ رہا، ننگے سر گھر سے باہر نکل آیا"۔ ننگے سرپایا جانا رنج و غم، نالہ و ماتم اور سوگ کی بھی نشانی تھی۔ شاید آج بھی ہے۔ ننگے سرہونے کے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں ہونا بھی ہوش وحواس کھو بیٹھنے اوربے چینی و بے قراری کا اظہار ہے۔ اُردو کا مشہور محاورہ ہے "ننگے پاؤں، ننگے سر"۔ یہ محاورہ سراسیمگی، پریشانی، بے چارگی، بدحواسی اور شدید صدمے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔

شدید صدمے کے ذکر پر ایک لذیذ قصہ یاد آگیا۔ یہ قصہ ملا واحدی نے اپنی کتاب "میرے زمانے کی دلی" میں تحریر کیا ہے۔ قصہ سنانے والے میر باقر علی داستان گو ہیں۔ ملاواحدی صاحب کو مولانا حکیم ابوالکمال حمید اللہ ماہرؔ دہلوی نے املا کرایاتھا۔ مولانا ماہرؔ پیدائشی نابینا تھے اور حافظہ غضب کا پایا تھا۔ میر باقر علی نے جس طرح قصہ سنایا تھا مولانا نے لفظ بہ لفظ ویسا ہی لکھوا دیا۔ اس قصے میں منظر نگاری ایسی ہے گویا آپ کے سامنے کوئی فلم چل رہی ہو۔ قصہ بہت طویل ہے۔ ہم اس قصے کا خلاصہ کچھ اُن کے کچھ اپنے الفاظ میں تحریر کرتے ہیں:

ایک شہر میں دو بھائی رہتے ہیں۔ چھوٹا بھائی لائق ہے۔ اُس کی شادی ہو چکی ہے۔ بڑا بھائی دیوانہ ہے، مگر بزعمِ خود فرزانہ۔ چھوٹے بھائی کی دُلھن میکے سدھاری ہوئی ہے۔

ایک دن اُس نے بڑے بھائی سے کہا: "بھائی تم جا کر اپنی بھاوج کو لے آؤ۔ مگر دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں جا کر بھی اپنا دیوانہ پن بگھارو۔ وہ لوگ جو کچھ بھی تم سے پوچھیں اس کا جواب یا "ہاں" دینا یا "نہیں"۔ مہربانی کرکے ان دو باتوں کے علاوہ کچھ نہ کہنا"۔

بڑے بھائی نے کہا: "واہ بھائی! تم نے خوب تدبیر بتائی"۔

یہ بھائی سے رخصت ہو کر روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک سرائے میں ٹھہرے۔ رات کو انھوں نے روٹی پکوائی۔ آم کا اچار گھر سے لائے تھے۔ روٹی بچ گئی تو روٹی اور آم کا اچار اپنی پگڑی میں لپیٹ کر سرہانے رکھا اور سو رہے۔ آنکھ لگی تو ایک کتا روٹی کی بُو سونگھتا ہوا آیا اور ان کی پگڑی لے بھاگا۔ صبح اٹھے تو ننگے سر تھے۔

سرائے کے بھٹیارے سے پوچھا: "بھائی دیکھنا۔ کیا چیز ہماری جاتی رہی؟"

بھٹیارے نے حیران ہو کر کہا: "بہ اسبابِ ظاہر تو کچھ نہیں معلوم ہوتا"۔

چلتے چلتے تیسرے دن اُس شہر میں داخل ہوئے جہاں اُن کی بھاوج رہتی تھیں۔ بھاوج کے محلّے پہنچے توبھائی کے خسر اپنے گھر کے آگے دس پانچ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اُنھوں نے جو داماد کے بھائی کو ننگے سر آتے دیکھا تو گھبرا کر پوچھا: "خیر تو ہے؟"

دیوانے بھائی نے سوچا، بھائی نے کہا تھا کہ "نہیں" کہنا یا "ہاں" کہنا تو بھائی نے پہلے"نہیں" کہا تھا۔

پس جواب دیا: "نہیں"۔

خسر صاحب نے پوچھا: "کیا بھائی بیمار ہیں؟"

انھوں نے کہا "ہاں"۔

خسر نے پوچھا: "علاج ہو رہا ہے؟"

انھوں نے جواب دیا: "نہیں"۔

خسر نے کہا: "توصاف کیوں نہیں کہتے کہ مرگئے"۔

انھوں نے کہا: "ہاں"۔

اب تو وہاں کہرام مچ گیا۔ محلے کے لوگ جمع ہوگئے۔ دو چار دن سوگ منایا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: "بھاوج کو میرے ساتھ بھیج دیجیے"۔

خسر نے کہا: "اب وہ جا کر کیا کریں گی، وہ تو بیوہ ہوگئیں"۔

انھوں نے کہا: "بجا فرمایا" اور چلے آئے۔

بھائی نے پوچھا: "بھاوج کو نہیں لائے؟"

انھوں نے جواب دیا: "اجی جناب! بھاوج کو کیا لاتا؟ وہ تو بیوہ ہوگئیں"۔

بھائی نے کہا: "اے تیرا ستیاناس! میں یہاں جیتا بیٹھا ہوں اور وہ بیوہ ہوگئیں؟"

وہ بولے: "پھوپی اماں بیوہ ہوئیں آپ جیتے بیٹھے رہے۔ دادی صاحبہ بیوہ ہوئیں آپ جیتے بیٹھے رہے۔ اماں جان بیوہ ہوئیں، آپ کا کیا ہے؟ آپ توجیتے ہی بیٹھے رہیں گے"۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais