Wednesday, 12 August 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Aik Taqreer Bamuqabla So Taqreerain

Aik Taqreer Bamuqabla So Taqreerain

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک مخصوص بحث لوٹ آتی ہے۔ ہمارے سیکولر اور لبرل دوست قائداعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس والی تقریر کے چند جملے نکالتے ہیں، انہیں خوبصورت سا پوسٹر بنا کر لگاتے ہیں اور فاتحانہ انداز میں اعلان کرتے ہیں کہ لیجیے، ثابت ہوگیا، بانی پاکستان تو خود ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔ اگلے کئی دن یہی ورد چلتا رہتا ہے۔ خاکسار برسوں سے یہ منظر دیکھ رہا ہے اور ہر بار ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ اتنی بڑی عمارت اتنی چھوٹی بنیاد پر کھڑی کیسے کی جا سکتی ہے؟

پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ وہ تقریر ہوئی کن حالات میں تھی۔ دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا، قائداعظم اس کے صدر منتخب ہوئے تھے اور آزادی میں صرف تین دن باقی تھے۔ پنجاب اور بنگال جل رہے تھے، ہجرت کے قافلے لٹ رہے تھے، لاشیں گر رہی تھیں۔ جو غیر مسلم اس علاقے میں رہ گئے تھے وہ سہمے ہوئے تھے کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا؟ ایسے وقت میں ایک ذمہ دار سربراہ کا پہلا فرض یہی بنتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ کا یقین دلائے۔

قائداعظم نے یہی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مسجدوں میں جائیں، اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں، آپ سب ریاست کے برابر شہری ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے، ان جملوں میں ایسا کیا ہے جو کسی اسلامی ریاست کے تصور سے ٹکراتا ہو؟ غیر مسلم شہریوں کو عبادت کی آزادی اور جان و مال کا تحفظ دینا تو اسلامی ریاست کا اپنا مطالبہ ہے، کوئی رعایت یا احسان نہیں۔

اصل زور جس فقرے پر ہے وہ یہ ہے کہ مذہب کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں دو باتیں مسلسل نظرانداز کی جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ قائداعظم نے فوراً وضاحت کر دی تھی کہ میری مراد سیاسی معنوں میں ہے، ریاست کے شہری ہونے کے اعتبار سے۔ یعنی شہریت کا معیار مذہب نہیں ہوگا، ووٹ اور حقوق مذہب دیکھ کر نہیں ملیں گے۔ دوسری بات یہ کہ اس سے پہلے کے پیراگراف میں وہ متحدہ ہندوستان کے اس زہریلے ماحول کا ذکر کر رہے تھے جہاں مذہب اور ذات پات کو امتیاز اور تعصب کا ہتھیار بنا لیا گیا تھا۔ اس تناظر میں تقریر کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔

ویسے بھی اصول یہ کہتا ہے کہ کسی شخصیت کا فکری موقف ایک تقریر کے دو جملوں سے متعین نہیں ہوتا، اس کے مجموعی کلام سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی کے سو بیانات میں سے ایک نکال کر باقی ننانوے کو رد کر دیں تو یہ تحقیق نہیں بددیانتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظم نے تقسیم سے پہلے اور بعد میں جو درجنوں تقریریں اور پیغامات دیے، ان کا رخ کدھر ہے؟

جواب کھلی کتاب کی طرح سامنے ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جیسے تیرہ سو برس پہلے تھے اور پاکستان کا دستور اسلامی اصولوں پر استوار ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے ماہرین سے کہا کہ مغرب کا معاشی نظام انسانیت کو انصاف نہیں دے سکا، آپ ایسا نظام وضع کیجیے جو اسلام کے تصور مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو۔ امریکی عوام کے نام نشری پیغام میں کہا کہ دستور ابھی بننا ہے مگر یہ جمہوری ہوگا اور اس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہوں گے اور صوبہ سرحد میں تو انہوں نے دوٹوک کہا تھا کہ ہم نے پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا لینے کے لیے نہیں مانگا، ہمیں ایک تجربہ گاہ چاہیے جہاں اسلامی اصولوں کو آزما کر دکھایا جا سکے۔

اب ایک لمحے کو انصاف کیجیے۔ کیا ان تمام بیانات کو ایک طرف رکھ کر صرف گیارہ اگست کے دو جملوں کو حتمی سند مان لینا کوئی علمی رویہ ہے؟ اس سے بھی مضبوط دلیل وہ ہے جو تاریخ خود فراہم کرتی ہے۔ اگر گیارہ اگست کی تقریر واقعی سیکولر ریاست کا اعلان تھی تو اس وقت یہ بات کسی کو سنائی کیوں نہ دی؟ نہ مسلم لیگ کے کسی رہنما نے یہ مطلب لیا، نہ اخبارات نے، نہ مخالفین نے، جو قائداعظم کی ہر بات میں سے نکتہ نکالنے کے عادی تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کے انتقال کے بعد اسی دستور ساز اسمبلی نے، جس کے وہ صدر تھے، قرارداد مقاصد منظور کی۔ اسے پیش کرنے والے لیاقت علی خان تھے، وہی شخص جو برسوں قائداعظم کے سب سے قریب رہا۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ قائداعظم دستور کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کی بات کئی بار کہہ چکے تھے۔ دستور اخلاقی وعظ نہیں ہوتا، ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے۔۔

پھر سب سے سادہ سوال باقی رہ جاتا ہے۔ اگر ریاست کو مذہب سے لاتعلق ہی رہنا تھا تو تقسیم کی ضرورت کیا تھی؟ دو قومی نظریے کی بنیاد ہی یہ تھی کہ مسلمان محض ایک اقلیت نہیں، ایک الگ تہذیب اور الگ قوم ہیں۔ اگر یہ فرق ختم کر دیا جائے تو تحریک پاکستان کی ساری عمارت گر جاتی ہے۔ سیکولر ریاست تو ساتھ ہی بن رہی تھی، بھارت کا دستور اسی راستے پر گیا۔ لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑ کر، ہزاروں جانیں دے کر ایک ایسی ریاست بنانے کیوں نکلتے جو اصولاً پہلے سے دستیاب تھی؟

میرے نزدیک ریاست کا اسلامی ہونا کوئی نعرہ نہیں، ایک عملی ضرورت ہے۔ ہر نظام کو ایک فکری منبع درکار ہوتا ہے، جہاں سے وہ اپنے اصول اور حدود طے کرے۔ کسی معاشرے کا منبع اس کی روایت ہوتی ہے، کسی کا افادیت پسندی، ہمارے ہاں یہ منبع قرآن و سنت ہیں۔

اسلامی ریاست کا مطلب پاپائیت ہرگز نہیں۔ جو لوگ تکفیر بانٹتے ہیں، زبردستی عقیدہ منوانا چاہتے ہیں، فرقے کی بنیاد پر خون بہاتے ہیں، وہ اسلامی ریاست کے مقدمے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم سب کی منزل ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست ہونی چاہیے۔ جہاں اقتدار امانت ہو، جہاں کمزور کو انصاف ملے۔

یہی وجہ ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر مجھے کبھی بوجھ نہیں لگی۔ کسی شہری کے ساتھ اس کے عقیدے کی بنیاد پر زیادتی نہ ہو، یہ خود اسلامی تعلیم ہے۔ میثاق مدینہ اسی اصول پر کھڑا تھا۔ نجران کے عیسائیوں سے ہونے والا معاہدہ اسی اصول کی توثیق کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کے باشندوں کو جو تحریری امان دی، وہ آج بھی پڑھنے کے قابل ہے۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہری کی جان، مال، عبادت گاہ اور عزت محفوظ ہے، یہ کوئی جدید رعایت نہیں، چودہ سو سال پرانا اصول ہے۔ گیارہ اگست کی تقریر اس اصول کے خلاف نہیں، اس کے عین مطابق ہے۔

سو معاملہ سیدھا ہے۔ گیارہ اگست کی تقریر سیکولرازم کا منشور نہیں، ایک اسلامی ریاست کے اندر شہریوں کے حقوق کا منشور ہے۔ اسے قائداعظم کی باقی تقریروں کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کے ساتھ رکھ کر پڑھیے، تصویر مکمل ہو جائے گی۔ ادھوری تصویر پر بحث کرتے ہوئے ہمیں اٹھہتر برس گزر گئے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم پوری تصویر دیکھنے کی زحمت کریں؟

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui