جہاز نے بادل چیرے تو نیچے تیان شان کے برف پوش پہاڑ دھوپ میں چاندی کی طرح چمک رہے تھے۔ جون کا مہینہ ہے مگر چوٹیوں پر دسمبر بیٹھا ہے۔
الماتی پانچویں بار میرے سامنے ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو یہ شہر ہر بار پہلی بار لگتا ہے۔
قازق زبان میں الما سیب کو کہتے ہیں اور الماتی کا مطلب ہے سیبوں کی سرزمین۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ دنیا کے ہر سیب کا جدِ امجد، مالس سیورسی، انہی تیان شان کے دامن میں پیدا ہوا۔ یعنی آپ نے زندگی میں جو بھی سیب کھایا، اس کا شجرہ کہیں نہ کہیں اسی شہر سے جا ملتا ہے۔ بندہ سوچتا ہے، کمال ہے، جس شہر نے دنیا کو پھل بانٹا، اس ہفتے وہی شہر علم بانٹ رہا ہے۔
میں ان دنوں وسطی ایشیا کے اسپیکنگ ٹور پر ہوں۔ تاشقند سے بشکیک تک یہ پورا خطہ انگڑائی لے رہا ہے اور اس انگڑائی کا مرکز اس ہفتے الماتی ہے۔ پھر میری اگلی منزل تاشقند اور بشکیک ہے۔
گیارہ سے تیرہ جون تک یہاں نیو ویژن 2026 سجا ہے، جسے نوبل فیسٹ بھی کہتے ہیں۔ وسطی ایشیا کی سب سے بڑی بزنس کانفرنس۔ کاروباری لوگ، سرمایہ کار، سائنسدان اور وزیر، سب ایک چھت تلے اور چھت بھی کون سی؟ ریپبلک پیلس، الماتی کا وہ تاریخی ہال جہاں سوویت دور میں صرف ریاستی تقریبات ہوا کرتی تھیں۔
قازقستان نے 2026 کو باقاعدہ صدارتی فرمان سے ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیا ہے۔ یہ محض نعرہ نہیں۔ فورم کا افتتاح نائب وزیراعظم ژاسلان مادیئف کریں گے، جن کے پاس مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کی پوری وزارت ہے۔ یہ صاحب الماتی میں پیدا ہوئے، کولمبیا اور ایم آئی ٹی سے پڑھے، لندن میں مورگن اسٹینلے کے ٹریڈنگ فلور پر بیٹھے اور وزیر بننے سے پہلے بائنانس قازقستان چلا رہے تھے۔ دنیا میں گنتی کے ملک ہیں جن کی کابینہ میں مصنوعی ذہانت کا الگ وزیر بیٹھا ہو۔ اس ملک نے وزیر کو نائب وزیراعظم کا درجہ بھی دے رکھا ہے۔
اور مہمان کون کون؟ ذرا فہرست دیکھیں۔ ژوزے باروسو، نوبیل لاریٹ، پرتگال کے سابق وزیراعظم اور یورپی کمیشن کے دس سال صدر، یعنی وہ شخص جس کی میز سے یورپ کی معیشت گزرتی رہی۔ ڈان ٹیپ سکاٹ، جس کی کتاب وکی نامکس نے ڈیجیٹل معیشت کی تعریف بدل دی اور جو بلاک چین ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا بانی ہے۔ جان کیہو، جس کی مائنڈ پاور نے لاکھوں ذہن بدلے۔ جان گرے، جس کی کتاب "مین آر فرام مارس اینڈ وومین آر فرام وینس" دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں ہے۔ کسٹمر سروس کے عالمی استاد جان شول اور لوک جولیا، وہ فرانسیسی سائنسدان جس نے ایپل کی سری بنانے میں حصہ ڈالا اور آپ کا فدوی عارف انیس!
وڈے وڈے نام اور سب الماتی کے ریپبلک پیلس میں اتر آئے ہیں۔
کل صبح اسی ریپبلک پیلس کے مرکزی ہال میں پانچ ہزار شرکا کے سامنے فورم کا مرکزی پلینری سجے گا۔ موضوع، 2026 کی منڈی، ایک ایسی دنیا جو اب ہمارے قابو میں نہیں رہی۔ اسٹیج پر پرتگالی وزیر اعظم باروسو ہوں گے اور ٹیپ سکاٹ۔ ایک طرف وہ تجربہ جو اقتدار کے ایوانوں سے آتا ہے، دوسری طرف وہ بصیرت جو ٹیکنالوجی کی تجربہ گاہوں سے اور درمیان میں سوال پوچھنے والا وادی سون کا چرواہا!
جی ہاں، یہ پلینری مجھے ماڈریٹ کرنا ہے۔
پرسوں، تیرہ جون کو، پلاٹینم اسٹیج پر باروسو کے ساتھ میری الگ نشست ہے۔ موضوع جیو پولیٹکس۔ یک قطبی دنیا کے بعد کا منظر، 2026 سے 2030 تک طاقت کے نئے مراکز اور یورپ، امریکہ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کا نیا مقابلہ۔ بند کمرے کی یہ گفتگو ان لوگوں کے لیے ہے جو خبر سے پہلے رجحان پڑھنا چاہتے ہیں۔
اور جانیو، یہاں ایک لطیفہ نہیں، ایک گہری بات ہے۔ جس سوال پر کل پانچ ہزار لوگ بیٹھیں گے، قابو سے نکلتی دنیا میں کیسے جیا جائے، اس کا جواب دراصل اسٹیج کے نیچے کی زمین ہے۔
قازقستان وہ ملک ہے جس کے پاس سوویت یونین ٹوٹنے پر دنیا کا چوتھا بڑا ایٹمی ذخیرہ آ گیا تھا، چودہ سو سے زائد وار ہیڈ۔ اس نے سارے کے سارے واپس کر دیے اور سیمی پلاٹنسک کا وہ میدان بند کر دیا جہاں چالیس برس میں ساڑھے چار سو ایٹمی دھماکے ہوئے تھے۔ آج وہی ملک دنیا کا سب سے بڑا یورینیم پیدا کرنے والا ہے، عالمی پیداوار کا تقریباً چالیس فیصد۔ یعنی بم چھوڑ دیا، ایندھن بیچ رہا ہے۔ یہی اس سرزمین کا مزاج ہے۔ انسان کو خلا میں بھیجنے والا پہلا راکٹ بھی یہیں سے اڑا تھا، بائیکونور سے، جب گاگرین نے زمین کو پہلی بار باہر سے دیکھا۔ ٹراٹسکی جلاوطن ہو کر یہیں الماتی میں بیٹھا رہا۔ اسٹالن نے جن قوموں کو اجاڑا، کوریائی، جرمن، چیچن، وہ سب اسی مٹی میں آباد ہوئے اور آج یہاں ایک سو تیس قومیتیں ایک جھنڈے تلے رہتی ہیں۔ دسمبر 1986 میں سوویت یونین کے خلاف پہلا جلوس بھی اسی شہر کی سڑکوں پر نکلا تھا اور جب ایک مغربی فلم نے اس ملک کا مذاق اڑایا تو اس قوم نے احتجاج کے بجائے وہی فقرہ اٹھا کر اپنی سیاحت کا نعرہ بنا لیا اور سیاحوں سے جیبیں بھر لیں۔
روس اوپر، چین دائیں اور دنیا کا سب سے بڑا خشکی میں بند ملک بیچ میں۔ جس کے پاس سمندر تک نہیں، اس نے توازن کو ہی اپنا سمندر بنا لیا۔ کل جب میں باروسو سے پوچھوں گا کہ بے قابو دنیا میں چھوٹی قومیں کیسے جئیں، تو میرے پاؤں کے نیچے کا فرش خود جواب دے رہا ہوگا۔
کبھی کبھی جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھتے ہوئے عجیب خیال آتا ہے۔ وادی سون کی گلیوں سے چلا ہوا ایک لڑکا، جس کے پاس کبھی کرائے کے پیسے پورے نہیں ہوتے تھے، کل اس اسٹیج پر کھڑا ہوگا جہاں پرتگال کا سابق وزیراعظم اور یورپ کا سابق نگران اس کے سوال کا انتظار کرے گا۔ یہ کسی جادو کا کمال نہیں۔ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ خواب پاسپورٹ نہیں دیکھتے۔ الحمداللہ! یہ صرف رب کی کرنی ہی ہے اور کس میں اتنے تپڑ ہیں۔
الماتی کے پہاڑوں پر شام اتر رہی ہے۔ کل صبح پانچ ہزار چہروں کا سامنا ہے۔
اور سچ یہ ہے کہ منزل پر پہنچ کر بھی اصل مزہ سفر ہی کا ہے۔