Sunday, 07 June 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Adam Itminan e Insan: Aik Nafsiyati o Fikri Mutala

Adam Itminan e Insan: Aik Nafsiyati o Fikri Mutala

انسان اپنی ساخت میں ایک عجیب تضاد سموئے ہوئے ہے۔ وہ خواہ کسی بھی حال میں ہو، اس کے باطن میں ایک مسلسل خلش، ایک غیر مرئی تشنگی اور ایک مبہم سی بے قراری موجود رہتی ہے۔ یہ بے اطمینانی محض خارجی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی شعور کے اندر کارفرما ایک پیچیدہ نفسیاتی میکانزم کا مظہر ہے۔ بظاہر انسان اپنے مسائل، محرومیوں اور ناکامیوں کو اپنی بے چینی کا سبب قرار دیتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور تہہ دار ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان دکھوں سے دوچار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کو ایک منفرد، غیر معمولی اور ناقابلِ برداشت تجربہ سمجھ بیٹھتا ہے۔

انسانی ذہن کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ تقابل کے عمل میں دیانتداری سے کام نہیں لیتا۔ وہ اپنی تکلیف کو مکمل شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا براہِ راست تجربہ کر رہا ہوتا ہے، جبکہ دوسروں کے دکھ اس کے لیے محض ایک سنی سنائی یا سطحی حقیقت ہوتے ہیں۔ یہی فرق ادراک، ایک ایسا فریب پیدا کرتا ہے جس میں انسان اپنے غم کو کائنات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے دائرۂ نظر کو وسیع کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ہر شخص اپنے اندر ایک مکمل داستانِ الم لیے پھرتا ہے، ایسی داستان جو اکثر دوسروں پر آشکار نہیں ہوتی۔

مزید برآں، انسانی ذہن میں "وہم" ایک خاموش مگر طاقتور قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ وہم حقیقت کو مسخ کرکے ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو دلکش بھی ہوتی ہے اور فریب دہ بھی۔ انسان یہ گمان کرتا ہے کہ دوسروں کی زندگی زیادہ آسان، زیادہ خوشحال اور زیادہ پُرسکون ہے۔ یہ گمان خصوصاً موجودہ عہد میں سوشل میڈیا کے ذریعے مزید تقویت پا چکا ہے، جہاں زندگی کا صرف روشن اور دلکش پہلو پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً دیکھنے والا اپنے معمولی سے مسائل کو بھی ایک بڑے المیے کے طور پر محسوس کرنے لگتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی زندگی کے تاریک پہلوؤں سے ناواقف ہوتا ہے۔

انسانی نفسیات کا ایک اور نازک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے دکھوں سے ایک عجیب قسم کی وابستگی پیدا کر لیتا ہے۔ یہ وابستگی محض جذباتی نہیں بلکہ وجودی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنے غم کو اپنی شناخت کا حصہ بنا لیتے ہیں، جیسے کوئی شاعر اپنے درد کو تخلیق کا سرچشمہ سمجھتا ہے یا کوئی عاشق اپنے کرب کو اپنی وفاداری کی علامت تصور کرتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے دکھ کو چھوڑ دینا گویا اپنی ذات کے ایک حصے سے دستبردار ہونا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے مسائل سے نجات کے مواقع ہونے کے باوجود ان سے چمٹا رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی میں اصل مسئلہ مصیبتوں کی موجودگی نہیں بلکہ ان کے ادراک کا زاویہ ہے۔ ایک ہی صورتحال مختلف افراد کے لیے مختلف معنی رکھ سکتی ہے۔ جو چیز ایک شخص کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، وہی دوسرے کے لیے ایک معمولی آزمائش ہوسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صبر اور ذہنی بلوغت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ جب انسان اپنے ذہن کو تربیت دیتا ہے، اپنے خیالات کو منظم کرتا ہے اور اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھتا ہے تو وہی حالات جو پہلے بوجھ محسوس ہوتے تھے، نسبتاً ہلکے معلوم ہونے لگتے ہیں۔

موجودہ دور میں مادی ترقی نے انسانی خواہشات کو بے حد بڑھا دیا ہے۔ سہولیات کی فراوانی کے باوجود ذہنی سکون کی کمی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی توجہ ہمیشہ اس چیز پر مرکوز رکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔ وہ اپنی نعمتوں کو نظر انداز کرکے اپنی محرومیوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھتا ہے۔ یہی رویہ ایک مستقل عدمِ اطمینان کو جنم دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرلے اور اپنی موجودہ حالت کے مثبت پہلوؤں پر غور کرے تو اس کی زندگی میں ایک واضح توازن پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی ایک قابلِ غور حقیقت ہے کہ اگر انسانوں کو اپنی مصیبتیں ایک دوسرے سے تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ نئی مشکلات سے زیادہ پریشان ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنی مخصوص صورتحال کے ساتھ ایک خاص قسم کی عادت اور برداشت پیدا کر لیتا ہے۔ نئی آزمائشیں نہ صرف اجنبی ہوتی ہیں بلکہ ان میں وہ پہلو بھی شامل ہوتے ہیں جن کا پہلے کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اس طرح انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی اپنی مشکلات، باوجود تمام تر تلخی کے، اس کے لیے زیادہ قابلِ برداشت تھیں۔

زندگی کی فطرت ہی تغیر اور توازن پر قائم ہے۔ یہاں کوئی حالت مستقل نہیں، نہ خوشی دائمی ہے نہ غم ابدی۔ یہی حقیقت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ اسے ہر حال میں ایک متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ خوشی میں حد سے زیادہ سرشار ہونا مناسب ہے اور نہ غم میں مکمل طور پر ٹوٹ جانا دانشمندی ہے۔ اصل حکمت یہ ہے کہ انسان ہر کیفیت کو ایک عارضی مرحلہ سمجھے اور اس سے سیکھنے کی کوشش کرے۔

مزید برآں، قبولیت (acceptance) ایک بنیادی نفسیاتی اصول ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کسی بھی صورتحال کو بہتر بنانے کا پہلا قدم اسے تسلیم کرنا ہے۔ اگر انسان مسلسل انکار کی کیفیت میں رہے تو وہ نہ صرف اپنی توانائیاں ضائع کرتا ہے بلکہ بہتری کے امکانات کو بھی محدود کر دیتا ہے۔ قبولیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی حالت پر قناعت کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرکے اس میں بہتری کے لیے سنجیدہ کوشش کرے۔

انسانی معاشرے میں ایک عام رجحان یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گفتگو کو محض شکایات تک محدود رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مسائل کا ذکر تو کرتے ہیں مگر ان کے حل کے بارے میں سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ حالانکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے مسائل کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ یہ عمل آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو بے بسی سے نکال کر خود اعتمادی کی طرف لے جاتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais