Wednesday, 19 August 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Americi Siasat Aur Pakistan Ka Mustaqbil

Americi Siasat Aur Pakistan Ka Mustaqbil

موسمِ گرما کی ایک شام تھی، جب میں اپنے ایک دانشور دوست کے ساتھ تاریخی شہر کی پرانی فصیل پر ٹہل رہا تھا۔ غروبِ آفتاب کی سرخ شعاعیں افق کو سنہری کر رہی تھیں اور ہمارے سامنے عالمی سیاست کا ایک نیا منظر تھا۔ میرے دوست نے کہا، "کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں حکمت عملی کیسے بدل رہی ہے؟ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض عارضی تبدیلی ہے، مگر میرا گمان ہے کہ اس کے پیچھے گہرے اسباب ہیں"۔

میں نے کہا، "کیا آپ کا یہ خیال اس لیے ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کو کم کر رہا ہے؟"

دوست نے جواب دیا، "نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے ہی نظام کا شکار ہو رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا دو تہائی اور THAAD کا ساٹھ فیصد ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے؟ یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک سپر پاور جو کبھی اپنے بے پناہ جنگی ذخیرے پر نازاں تھی، اب اپنی بقا اور ردِ عمل کے درمیان ایک مشکل چال چل رہی ہے"۔

میں نے کہا، "تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی یہ 'لو کلید' حکمت عملی محض ایک نیا حربہ نہیں، بلکہ اس کی اندرونی کمزوری کا عکس ہے؟"

دوست نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "بالکل ایسا ہی ہے۔ جب کوئی طاقت اپنے اتحادیوں کو کھونے لگتی ہے، تو اس کا اثر پوری عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ دیکھیں، خلیجی ریاستیں جن کے پاس کھربوں ڈالر کے امریکی ٹریژری بل ہیں، اب لیکویڈیٹی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پیٹرو ڈالر کی عمارت اپنی ہی بنیادوں پر لرز رہی ہے"۔

میں نے کہا، "تو کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کا پابندیوں کا نظام، جو کبھی عالمی سیاست کا ناقابلِ شکست ہتھیار تھا، اب اپنے ہی اتحادیوں کی بے چینی کا شکار ہے؟"

دوست نے کہا، "یقیناً! اور اس کا سب سے بڑا ثبوت چین کا اپنی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے بغاوت کا کھلا اعلان ہے۔ CIPS جیسے نظام کا ابھرنا اور ایران کی چینی کرنسی اور کرپٹو میں ادائیگیوں کی قبولیت، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے"۔

میں نے کہا، "یہ تو بہت دلچسپ ہے۔ مگر اس سب کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ ہم تو ایک چھوٹی سی معیشت ہیں، جو ان بڑی طاقتوں کے ڈرامے کا محض تماشائی ہے"۔

دوست نے مسکراتے ہوئے کہا، "یہی تو سب سے بڑا دھوکہ ہے! کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کی پالیسیاں گویا ایک کشتی ہیں جس کا مسافر تو اشرافیہ ہے، مگر ڈوبنے کا خوف پوری قوم کو لاحق ہے۔ امریکہ اپنی ڈالر کی بالادستی کو بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اسی ڈالر کے حصول کے لیے اپنی قومی دولت کو یورپی اور امریکی بینکوں میں محفوظ کر رہا ہے"۔

میں نے کہا، "یہ تو ایک عجیب تضاد ہے۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کی جنگ ان وسائل کے لیے ہے، تو دوسری طرف پاکستان اپنے وسائل کو اسی جنگ میں داؤ پر لگا رہا ہے"۔

دوست نے کہا، "بالکل ایسا ہی ہے اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس عالمی تبدیلی کو صرف ایک تماشائی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، یا وہ اس کا ایک فعال حصہ بننے کی تیاری کر رہا ہے؟ جب امریکہ اپنے ہی اوزاروں کی کاٹ پر شک کر رہا ہے، تو ہمیں اس سے کیا سبق ملنا چاہیے؟"

میں نے کہا، "تو کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینا چاہیے؟"

دوست نے کہا، "یہ تو صرف ایک پہلو ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ جوں جوں عالمی نظام بدل رہا ہے، ہمیں اپنی کشتی کا رخ بھی بدلنا ہوگا۔ ورنہ ہم وہی کشتی رہیں گے جو پرانے نقشوں کے سہارے سفر کر رہی ہے، جبکہ سمندر کی لہریں بدل چکی ہیں"۔

میں نے کہا، "یہ تو بہت گہری بات ہے۔ مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری قیادت اس تبدیلی کو سمجھ سکتی ہے؟"

دوست نے کہا، "یہ وہی سوال ہے جو ہر قوم سے پوچھا جاتا ہے جب وہ اپنی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہوتی ہے۔ ہماری قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا انحصار محض مادی وسائل پر نہیں، بلکہ حکمت اور تدبیر پر بھی ہے"۔

میں نے کہا، "تو کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنی پالیسیوں کو نئے عالمی نظام کے مطابق ڈھالنا چاہیے؟"

دوست نے کہا، "یہی تو حقیقت ہے۔ BRICS جیسے فورم کا ابھرنا، جس کی رکنیت بڑھتی جا رہی ہے، امریکی پابندیوں کے نظام کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ وہی دور ہے جب عالمی طاقتوں کا توازن بدل رہا ہے اور نئے مراکزِ قوت وجود میں آ رہے ہیں۔ پاکستان کو اس تبدیلی کو صرف ایک خبر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کی ازسرنو تشکیل کے لیے ایک موقع سمجھنا چاہیے"۔

میں نے کہا، "یہ تو بہت فکرانگیز ہے۔ مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم اس تبدیلی کو اپنا سکتے ہیں؟"

دوست نے کہا، "یہ وہی سوال ہے جو ہر عظیم قوم نے اپنے اوجِ کمال پر پوچھا ہے۔ ہمیں اپنی قومی سوچ کو نئے افق کی طرف لے جانا ہوگا۔ جب عالمی سمندر کی لہریں بدل رہی ہیں، تو ہمیں اپنی کشتی کا رخ بھی بدلنا ہوگا۔ یہ وہی سبق ہے جو ہمارے مقدر کا تعین کرے گا اور ہم اسے کس طرح اپناتے ہیں، یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے"۔

میں نے کہا، "یہ تو بہت گہرا فلسفہ ہے۔ مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری قوم اس فلسفے کو سمجھ سکتی ہے؟"

دوست نے کہا، "یہ وہی سوال ہے جو ہر فلسفی نے اپنے عہد میں پوچھا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں وہی لمحات اہم ہوتے ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کرتی ہیں۔ ہمیں اپنی ان پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا جو ہمیں عالمی نظام کے ساتھی کی بجائے اس کا محتاج بنا رہی ہیں"۔

میں نے کہا، "تو کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ایک نیا راستہ چننا چاہیے؟"

دوست نے کہا، "یہی تو حقیقت ہے کہ قوموں کی بقا کا راز ان کی اپنی حکمتِ عملی میں مضمر ہے، نہ کہ دوسروں کی عطا کردہ اسکیموں میں۔ دیکھتے ہیں کہ یہ نیا عالمی نظام ہمیں کس راہ پر لے جاتا ہے اور ہم اس میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی پالیسیوں کا محاسبہ کرنا ہوگا اور اس محاسبہ کے بغیر کوئی قوم عظیم نہیں بن سکتی"۔

میں نے کہا، "یہ تو بہت فکرانگیز ہے۔ مگر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم اس محاسبہ کے لیے تیار ہیں؟"

دوست نے کہا، "یہ وہی سوال ہے جو ہر قوم سے پوچھا جاتا ہے جب وہ اپنی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ یہ وہی اصول ہے جو ہمارے مقدر کا تعین کرے گا"۔

اس پر ہماری گفتگو ختم ہوئی، مگر اس کا اثر ہمارے دلوں میں گہرا تھا۔ جب ہم فصیل سے اتر رہے تھے، تو میرے دوست نے آخری بار کہا، "یاد رکھیں، قوموں کی زندگی میں وہی لمحات اہم ہوتے ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کرتی ہیں۔ ہمیں اپنی ان پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا جو ہمیں عالمی نظام کے ساتھی کی بجائے اس کا محتاج بنا رہی ہیں۔ ورنہ ہم وہی کشتی رہیں گے جو پرانے نقشوں کے سہارے سفر کر رہی ہے، جبکہ سمندر کی لہریں بدل چکی ہیں"۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui