Thursday, 04 June 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Ibrahimi Bayaia, Wahdat e Adyan Aur Fikri Hudood Ka Sawal

Ibrahimi Bayaia, Wahdat e Adyan Aur Fikri Hudood Ka Sawal

عصرِ حاضر میں مذہب، سیاست اور عالمی سفارت کاری کے باہمی تعلقات ایک نئی نوعیت کی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بین المذاہب مکالمے، مذہبی رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کے عنوانات کے تحت متعدد اقدامات سامنے آرہے ہیں جن کا مقصد مختلف عقائد کے حامل افراد کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دینا ہے۔ تاہم جب یہ مباحث عقیدے کی بنیادی حدود، مذہبی شناخت اور حق و باطل کے تصورات سے متصادم ہونے لگتے ہیں تو فکری اور مذہبی حلقوں میں شدید اختلافات جنم لیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں "ابراہیمی" تصور اور "وحدتِ ادیان" کے موضوع پر ہونے والی گفتگو اسی نوعیت کی ایک اہم بحث ہے جس نے مسلم دنیا میں وسیع فکری ردعمل پیدا کیا ہے۔

اس حوالے سے سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء کا ایک قدیم مگر معروف فتویٰ بارہا زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ یہ فتویٰ بنیادی طور پر اس نظریے کا جائزہ لیتا ہے جس میں اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو ایک مشترک مذہبی فریم ورک کے تحت یکجا کرنے یا ان کی حقانیت کو مساوی سطح پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کمیٹی نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ اسلامی عقیدے کے مطابق اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری اور کامل دین ہے اور حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، اس لیے مسلمان کے لیے عقیدۂ ختمِ نبوت اور اسلام کی حتمی حیثیت بنیادی دینی اصولوں میں شامل ہیں۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں "بین المذاہب ہم آہنگی" اور "وحدتِ ادیان" کو بعض اوقات ایک ہی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کا مقصد مختلف عقائد کے ماننے والوں کے درمیان احترام، مکالمہ اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے، جبکہ وحدتِ ادیان کا تصور بعض حلقوں میں اس نظریے کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مختلف مذاہب حقیقت کے اعتبار سے یکساں اور مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فقہی اور اعتقادی اعتراضات سامنے آتے ہیں، کیونکہ روایتی اسلامی فکر اسلام کو آخری اور برحق دین قرار دیتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں تاریخی دستاویزات اور مذہبی فتاویٰ اکثر اپنے اصل سیاق و سباق سے الگ ہو کر گردش کرنے لگتے ہیں۔ مذکورہ فتویٰ کے ساتھ بھی یہی صورتِ حال دیکھنے میں آتی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اسے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ کسی حالیہ سیاسی منصوبے یا کسی مخصوص حکومتی شخصیت کے جواب میں جاری کیا گیا ہو، جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق فتویٰ کا پس منظر اس سے کہیں قدیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ علمی تحقیق کا تقاضا ہے کہ اصل دستاویز، اس کی تاریخ، اس کے مخاطبین اور اس کے حقیقی پس منظر کو سامنے رکھ کر رائے قائم کی جائے۔

مسلم دنیا میں اس بحث کی حساسیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام محض ایک تہذیبی شناخت نہیں بلکہ ایک مکمل اعتقادی نظام بھی ہے۔ چنانچہ جب کسی تصور سے مسلمانوں کو یہ احساس ہو کہ ان کے بنیادی عقائد کی انفرادیت متاثر ہو رہی ہے تو فطری طور پر ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر امن، مکالمے اور مذہبی رواداری کے داعی حلقے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار پر تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس طرح یہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور سیاسی جہات بھی اختیار کر لیتا ہے۔

درحقیقت اصل سوال یہ نہیں کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ امن اور احترام کے ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اسلامی تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ احترامِ انسانیت اور مذہبی رواداری کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور عقیدے کی مخصوص شناخت کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر مختلف مکاتبِ فکرکے درمیان آراء میں تفاوت پایا جاتا ہے۔

اس پورے مباحثے سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر تحریر کو بلا تحقیق قبول کرنا مناسب نہیں۔ کسی بھی فتویٰ، بیان یا دستاویز کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل اس کے اصل ماخذ، تاریخی پس منظر اور مستند حوالوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ نہ تو کسی مذہبی موقف کو اس کے اصل سیاق سے ہٹا کر پیش کیا جائے اور نہ ہی سیاسی مقاصد کے لیے تاریخی دستاویزات کو نئی تعبیرات کا لباس پہنایا جائے۔

آج جب دنیا نظریاتی کشمکش، تہذیبی تبدیلیوں اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی بیانیوں کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں مسلمانوں سمیت تمام مذہبی برادریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اعتقادی بنیادوں کو سمجھتے ہوئے تحقیق، توازن اور فکری بصیرت کو اپنا شعار بنائیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن علمی امانت، تاریخی صداقت اور فکری دیانت وہ اصول ہیں جن پر ہر سنجیدہ مکالمے کی بنیاد استوار ہونی چاہیے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais