Saturday, 30 May 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Ilmi Daur Ya Tazvirati Khatra?

Ilmi Daur Ya Tazvirati Khatra?

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں طاقت کا مفہوم اب محض عسکری قوت یا معاشی برتری تک محدود نہیں رہا بلکہ علم، تحقیق اور سائنسی پیداوار نے بھی ریاستی اقتدار کی نئی جہتیں متعین کر دی ہیں۔ اسی پس منظر میں حالیہ مباحث، جو اسرائیلی ذرائع ابلاغ خصوصاً Haaretz سے وابستہ تجزیاتی حلقوں میں زیرِ بحث آئے، ایک نہایت اہم رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں: ایران کی سائنسی پیش رفت اور اس کے ممکنہ تزویراتی مضمرات۔ یہ اعتراف کہ ایران مجموعی سائنسی اشاعتوں کی تعداد کے اعتبار سے اسرائیل کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، محض ایک عددی موازنہ نہیں بلکہ خطے میں علم کی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایران کی سائنسی پیداوار میں جو غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وہ کسی اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔ عالمی تحقیقی ڈیٹا بیسز جیسے Scopus اور Web of Science کے اعداد و شمار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران نے 1990 کی دہائی کے اواخر میں جہاں چند ہزار سالانہ تحقیقی مضامین شائع کیے، وہیں آج یہ تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ارتقائی سفر میں نہ صرف مقدار بلکہ معیار میں بھی بہتری آئی ہے، جس نے ایران کو عالمی سائنسی برادری میں ایک نمایاں مقام دلایا ہے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ ایران، جو طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کا شکار رہا ہے، اس کے باوجود علمی و تحقیقی میدان میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ صورتحال اس روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ سائنسی ترقی صرف معاشی خوشحالی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ایران کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر ریاستی ترجیحات میں علم کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، تو محدود وسائل کے باوجود بھی قابلِ ذکر پیش رفت ممکن ہے۔

تاہم اسرائیلی تجزیہ کار اس ترقی کو محض ایک تعلیمی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے نزدیک سائنسی تحقیق میں اضافہ براہِ راست ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں میں بہتری کا پیش خیمہ بنتا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو اس پیش رفت کو ایک وسیع تر تزویراتی تناظر میں اہم بناتا ہے۔ جدید دنیا میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلہ نہایت کم ہو چکا ہے، ایک لیبارٹری میں ہونے والی پیش رفت جلد ہی صنعتی، عسکری یا سائبر میدان میں عملی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی سائنسی ترقی کو دفاعی صنعت، میزائل ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ خدشہ اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ایک ریاست تحقیق کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہو، تو وہ اس علم کو مختلف شعبہ جات میں بروئے کار لا سکتی ہے، جن میں حساس اور اسٹریٹجک نوعیت کے شعبے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حلقوں میں اس پیش رفت کو ایک ممکنہ سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ صرف ایک علمی کامیابی کے طور پر۔

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا سائنسی ترقی کو محض عسکری یا تزویراتی زاویے سے دیکھنا درست ہے؟ علم کی فطرت بنیادی طور پر غیر جانبدار ہوتی ہے، اس کا استعمال ہی اس کی نوعیت کا تعین کرتا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا بڑا حصہ دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مگر اسی علم نے طب، توانائی، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں بھی بے شمار مثبت تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کسی بھی ملک کی سائنسی ترقی کو صرف ایک ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کرنا ایک محدود اور یک رخی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب، یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں بداعتمادی اور مسابقت کا عنصر اس قدر غالب ہے کہ ہر پیش رفت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں، جہاں تاریخی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگیاں پہلے ہی موجود ہیں، وہاں کسی بھی ملک کی سائنسی یا ٹیکنالوجیکل ترقی فوری طور پر تزویراتی خدشات کو جنم دیتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت اس تناظر کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جہاں ہر پیش رفت کو ایک ممکنہ طاقت کے توازن میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سائنسی ترقی کو ایک وسیع تر عالمی تناظر میں سمجھا جائے۔ اگر علم کو مسابقت کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جائے، تو یہ نہ صرف علاقائی کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ عالمی نظام میں علم بھی طاقت کے ایک آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی اصل روح یعنی انسانیت کی خدمت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔

ایران کی سائنسی پیش رفت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دنیا میں "نرم طاقت" (soft power) کی اہمیت کس قدر بڑھ چکی ہے۔ جہاں ایک طرف عسکری قوت فوری اثرات مرتب کرتی ہے، وہیں علمی و تحقیقی برتری طویل المدتی اثرات کی حامل ہوتی ہے۔ یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے اور سائنسی جرائد اب وہ میدان بن چکے ہیں جہاں ریاستیں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس تناظر میں ایران کا ابھرنا ایک اہم پیش رفت ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو نئے زاویے سے متعین کر سکتی ہے۔

بالآخر، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران کی سائنسی ترقی اور اس پر اسرائیلی ردِعمل، دونوں مل کر ایک ایسے بیانیے کو جنم دے رہے ہیں جس میں علم، طاقت اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بیانیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم علم کو ایک مشترکہ انسانی ورثہ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، یا اسے ہمیشہ ریاستی مفادات کے تابع رکھیں گے۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے، تو بعید نہیں کہ مستقبل میں سائنسی لیبارٹریاں بھی جغرافیائی سیاست کے میدانِ کارزار کا حصہ بن جائیں، جہاں قلم اور تحقیق بھی طاقت کی نئی صورتیں اختیار کر لیں گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا اور اس پر سنجیدہ مکالمہ کرنا آج کے عالمی منظرنامے کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais