Tuesday, 09 June 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Maholiyati Bohran: Khamosh Tabahi Aur Ijtemai Zimmedari

Maholiyati Bohran: Khamosh Tabahi Aur Ijtemai Zimmedari

انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں قوموں کو بے شمار سیاسی، معاشی اور عسکری چیلنجز کا سامنا رہا، مگر موجودہ صدی کا سب سے سنگین اور ہمہ گیر بحران وہ ہے جس نے سرحدوں، زبانوں، نسلوں اور نظریات کی تمام حد بندیوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ یہ بحران ماحولیاتی بگاڑ کا ہے، جو آہستہ آہستہ نہیں بلکہ غیر معمولی سرعت کے ساتھ انسانی تہذیب کے گرد اپنا شکنجہ کس رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، شدید گرمی کی لہروں، فضائی آلودگی، پانی کی قلت، جنگلات کی تباہی اور موسمی بے اعتدالی نے اس حقیقت کو ناقابلِ تردید بنا دیا ہے کہ زمین ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اگر انسان نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور متوازن ماحول کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ ماحولیاتی مسئلہ آج بھی عوامی شعور اور اجتماعی ترجیحات میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا یہ متقاضی ہے۔ سیاسی تنازعات، وقتی مفادات اور سوشل میڈیا کی ہنگامہ خیزی نے ایسے بنیادی موضوعات کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے جو براہِ راست انسانی بقا سے وابستہ ہیں۔ حالانکہ ماحول نہ کسی جماعت کی ملکیت ہے، نہ کسی حکومت کی جاگیر اور نہ ہی کسی مخصوص طبقے کا مسئلہ۔ صاف ہوا، محفوظ پانی اور متوازن آب و ہوا ہر انسان کی مشترکہ ضرورت ہیں۔ جب فضا آلودہ ہوتی ہے تو اس کے اثرات کسی مخصوص علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو درپیش آبی بحران اس اجتماعی غفلت کی نمایاں مثال ہے۔ زیرِ زمین آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ پانی کے استعمال میں بے احتیاطی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ رہائشی علاقوں میں گاڑیاں دھونے، صحن اور سڑکیں بہانے یا دیگر غیر ضروری مصارف میں قیمتی پانی کا ضیاع معمول بنتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیرِ زمین پانی کسی فرد کی نجی ملکیت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو مستقبل قریب میں کئی بڑے شہر شدید آبی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ خطرہ ابھی بھی عوامی سطح پر سنجیدگی سے محسوس نہیں کیا جا رہا۔

فضائی آلودگی کی صورتحال بھی کم تشویش ناک نہیں۔ کچرے اور خصوصاً پلاسٹک کو جلانے کا رجحان شہروں اور قصبوں میں ایک خاموش زہر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس عمل سے خارج ہونے والے مہلک ذرات اور زہریلی گیسیں نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ سانس، دل اور پھیپھڑوں سے متعلق متعدد بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی اب دنیا بھر میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کچرا جلانے کو معمولی عمل سمجھا جاتا ہے، گویا ہم اپنے ہی ماحول میں زہر گھول کر خود اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔

درختوں کی بے دریغ کٹائی اور جنگلات کی تباہی ماحولیاتی عدم توازن کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے زمین کے قدرتی نظام کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ شہری توسیع، تجارتی مفادات اور غیر قانونی کٹائی نے سبز رقبوں کو خطرناک حد تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجتاً گرمی کی شدت میں اضافہ، بارشوں کے نظام میں بے قاعدگی اور قدرتی آفات کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب محض سائنسی رپورٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس تناظر میں سوشل میڈیا کا کردار بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے رائے سازی اور شعور بیداری کے بے مثال مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن افسوس کہ اکثر اوقات یہ طاقت غیر سنجیدہ موضوعات، باہمی کشمکش اور وقتی تفریح کی نذر ہو جاتی ہے۔ اگر ماحولیاتی تحفظ، پانی کی بچت، شجرکاری اور صفائی جیسے موضوعات کو قومی سطح کے رجحانات میں تبدیل کیا جائے تو عوامی رویوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں شہری شعور کی مہمات نے ثابت کیا ہے کہ عوامی شرکت سے بڑے ماحولیاتی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیات کے مسئلے کو محض سرکاری پالیسیوں یا بین الاقوامی کانفرنسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک سماجی تحریک کی شکل دی جائے۔ ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرے، پانی کے ضیاع سے اجتناب کرے، کچرا جلانے کی حوصلہ شکنی کرے، درخت لگائے اور دوسروں کو بھی اس جانب راغب کرے۔ تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی اس قومی ضرورت کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑی تباہیاں اکثر اس وقت جنم لیتی ہیں جب معاشرے خطرات کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ ماحولیاتی بحران بھی ایسا ہی ایک خطرہ ہے جو خاموشی سے ہمارے دروازوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ وقت بحث و مباحثے سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات درست کر لیں تو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، لیکن اگر غفلت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو شاید آنے والے برسوں میں ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais