Saturday, 13 June 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Taraqi Ke Meenar Aur Adam Tahafuz Ke Saaye

Taraqi Ke Meenar Aur Adam Tahafuz Ke Saaye

جدید دنیا نے انسانی ترقی، معاشی خوشحالی اور تکنیکی برتری کے ایسے بلند دعوے کیے ہیں جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے امن، قانون کی حکمرانی اور سماجی استحکام کے مثالی نمونے بن چکے ہیں۔ تاہم جب ان معاشروں کے اندرونی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشی فراوانی اور سائنسی ترقی لازماً سماجی سکون اور اخلاقی تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات ظاہری ترقی کے شاندار پردے کے پیچھے ایسے بحران جنم لے رہے ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برطانیہ، جو طویل عرصے سے جمہوریت، قانون پسندی اور سماجی نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، آج جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باعث سنجیدہ سوالات کی زد میں ہے۔ مختلف بین الاقوامی جائزوں اور تحقیقی سرویز سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں برطانوی شہریوں کو کار چوری، گھروں میں نقب زنی، پرتشدد وارداتوں، جنسی جرائم اور سڑکوں پر ہونے والی ڈکیتیوں کا سامنا نسبتاً زیادہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورت حال محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سماجی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے جس میں ریاستی ادارے، معاشرتی ڈھانچہ اور انسانی رویے ایک نئے امتحان سے گزر رہے ہیں۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کمزور نہیں، جیلیں خالی نہیں اور نگرانی کا نظام بھی دنیا کے بیشتر ممالک سے کہیں زیادہ منظم سمجھا جاتا ہے۔ گھروں میں حفاظتی الارم، سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید سکیورٹی آلات کا استعمال عام ہے۔ اس کے باوجود جرائم کی شرح میں اضافہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جرم صرف پولیسنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی مسئلہ بھی ہے۔

معاشرتی ماہرین اس صورتحال کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں دولت کے حصول کی غیر معمولی خواہش ہے جو محنت اور تدریجی ترقی کے بجائے فوری کامیابی کے تصور کو فروغ دیتی ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ معاشروں میں کامیابی کا پیمانہ اکثر دولت، جائیداد اور ظاہری آسائشوں کو بنا دیا گیا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو جائز ذرائع سے مطلوبہ معیارِ زندگی حاصل نہ کر سکیں تو غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام کی کمزوری، سماجی تعلقات کا زوال، بڑھتی ہوئی انفرادیت، ذہنی دباؤ، غیر یقینی معاشی مستقبل اور شہری زندگی کی بے نام ہجومیت بھی جرائم کی افزائش میں کردار ادا کرتی ہے۔ جب فرد اپنے آپ کو معاشرے سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے تو قانون اور اخلاقیات سے اس کی وابستگی بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کو صرف قانونی مسئلہ سمجھنا ایک سادہ لوحانہ تجزیہ ہوگا۔

برطانوی حکومت کے بعض ذمہ داران کا یہ اعتراف بھی قابلِ توجہ ہے کہ جرائم کی ایک بڑی تعداد چند مخصوص عادی مجرموں کے گرد گھومتی ہے۔ منشیات کے عادی افراد، منظم جرائم پیشہ گروہ اور بار بار قانون شکنی کرنے والے عناصر معاشرتی امن کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ خصوصی عدالتوں، سخت سزاؤں اور نگرانی کے جدید نظاموں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم تجربہ بتاتا ہے کہ صرف سزا کا خوف جرم کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہوتا، جب تک جرم کو جنم دینے والے اسباب کا علاج نہ کیا جائے۔

پولیس کے وسائل اور افرادی قوت کا مسئلہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ جب ایک پولیس اہلکار کے ذمے ہزاروں افراد، سینکڑوں عمارتیں، طویل شاہراہیں اور وسیع علاقے ہوں تو فوری ردعمل اور موثر نگرانی ایک مشکل ہدف بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں بھی عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جرم وقوع پذیر ہونے کے بعد ریاست حرکت میں آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ جدید پولیسنگ کا چیلنج یہی ہے کہ وہ محض ردعمل دینے والا ادارہ نہ رہے بلکہ جرم کی روک تھام میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔

لندن جیسے عالمی شہر کے بارے میں یہ تاثر کہ وہاں سٹریٹ کرائم اور راہ زنی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں، مغربی دنیا کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ معاشی ترقی، بلند عمارتیں، جدید ٹرانسپورٹ اور تکنیکی سہولیات کسی معاشرے کو اس وقت تک محفوظ نہیں بنا سکتیں جب تک اس کی اخلاقی، سماجی اور ثقافتی بنیادیں مضبوط نہ ہوں۔

درحقیقت اعداد و شمار اور حقائق ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ انسانی معاشروں کی اصل طاقت صرف اقتصادی اشاریوں میں نہیں بلکہ سماجی اعتماد، اخلاقی اقدار، خاندانی استحکام اور قانون کے احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ عناصر کمزور پڑنے لگیں تو ترقی کے بلند مینار بھی عدم تحفظ کے سائے میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جذبات، نعروں یا نظریاتی وابستگیوں کے بجائے دلیل، تحقیق اور معروضی تجزیے کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ مسائل کا حل خواہشات سے نہیں بلکہ حقائق کے ادراک اور دانشمندانہ پالیسیوں سے پیدا ہوتا ہے اور جو معاشرے اس اصول کو فراموش کر دیتے ہیں، وہ بالآخر اپنی تمام تر ترقی کے باوجود داخلی بے چینی اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais