Friday, 12 June 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Difai Budget, Propaganda Aur Haqaiq

Difai Budget, Propaganda Aur Haqaiq

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے بارے میں ایک عرصے سے ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا رہا ہے جس کے مطابق ملک کے معاشی مسائل، ترقیاتی رکاوٹوں اور عوامی مشکلات کی بنیادی وجہ دفاعی اخراجات ہیں۔ یہ تاثر نہ صرف قومی سطح پر بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے پھیلایا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور پاکستان مخالف لابیاں بھی اسے تقویت دیتی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان اپنی آمدنی کا غیر معمولی حصہ فوج پر خرچ کرتا ہے اور اسی وجہ سے تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی بہبود کے شعبے متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن جب اس دعوے کو جذبات یا نعروں کے بجائے عالمی اداروں کے اعداد و شمار، علاقائی حقائق اور سیکیورٹی ضروریات کی روشنی میں پرکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

عالمی ادارہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI)، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان کے دفاعی اخراجات گزشتہ کئی برسوں سے مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے تقریباً دو سے ڈھائی فیصد کے درمیان رہے ہیں۔ 2023ء میں یہ شرح تقریباً 2.2 فیصد تھی، جو عالمی اوسط کے قریب ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نیٹو اپنے رکن ممالک سے بھی کم از کم دو فیصد جی ڈی پی دفاع پر خرچ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا دفاعی بجٹ نہ غیر معمولی ہے اور نہ ہی عالمی معیار سے ہٹ کر۔

پاکستان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے ایک اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ قومی بجٹ کا بیشتر حصہ فوج کو دے دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2023-24ء میں دفاعی اخراجات کا حصہ کل قومی بجٹ کا تقریباً سولہ فیصد تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوراسی فیصد سے زیادہ وسائل دیگر شعبوں، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہوئے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ پاکستان کا بیشتر بجٹ فوج لے جاتی ہے، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مزید یہ تصور بھی درست نہیں کہ دفاعی بجٹ صرف ہتھیار خریدنے پر خرچ ہوتا ہے۔ دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں، پنشن، تربیت، سرحدی نگرانی، ایندھن، مرمت اور آپریشنل سرگرمیوں پر صرف ہوتا ہے۔ جدید ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری نسبتاً محدود حصہ رکھتی ہے۔ دنیا کی ہر بڑی فوج میں یہی صورت حال پائی جاتی ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ افرادی قوت اور آپریشنل ضروریات پر خرچ ہوتا ہے۔

پاکستان کے دفاعی اخراجات کو سمجھنے کے لیے صرف اعداد و شمار کافی نہیں بلکہ علاقائی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرقی سرحد پر ایک ایسا ملک موجود ہے جس کے ساتھ تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور جس کا دفاعی بجٹ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ 2023ء میں بھارت کا دفاعی بجٹ تقریباً 81 ارب ڈالر تھا جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب رہا۔ اس طرح بھارت دفاع پر پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ بھارت جدید جنگی طیارے، میزائل نظام اور دیگر جدید ہتھیار مسلسل درآمد کر رہا ہے۔

مغربی سرحد کی صورت حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ افغانستان میں دہائیوں پر محیط جنگ، دہشت گردی، داعش خراسان جیسی تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں فوجی اور شہری جانوں کی قربانی دی اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں دفاعی تیاری اور سرحدی نگرانی محض ایک انتخاب نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل، سعودی عرب اور کئی دیگر ممالک اپنی جی ڈی پی کا پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں۔ اسرائیل بعض اوقات اپنی قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد یا اس سے بھی زیادہ دفاع کے لیے مختص کرتا ہے۔ اس کے باوجود اسے جدید معیشت اور ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک بھی دفاعی اخراجات میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں، لیکن ان کے بارے میں وہ منفی بیانیہ دیکھنے میں نہیں آتا جو پاکستان کے حوالے سے عام کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی ایک اہم کامیابی دفاعی خود انحصاری کی طرف پیش رفت ہے۔ محدود وسائل کے باوجود ملک نے مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دیا ہے۔ جے ایف۔ 17 تھنڈر طیارہ، الخالد ٹینک، بابر کروز میزائل اور دیگر دفاعی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان درآمدی انحصار کم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوئی بلکہ ملک کی دفاعی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی۔ آج پاکستان بعض دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آ چکا ہے، جو مستقبل میں معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

بعض ناقدین دفاعی بجٹ کو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، لیکن اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسائل کی بنیادی وجوہات توانائی کا بحران، کمزور ٹیکس نظام، سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور کم پیداواری صلاحیت ہیں۔ اگر دفاعی بجٹ میں نمایاں کمی بھی کر دی جائے تو ان بنیادی مسائل کے حل کے بغیر معیشت کی رفتار میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط دفاعی ڈھانچہ خود سرمایہ کاری، تجارت اور قومی استحکام کے لیے ایک حفاظتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے صرف عسکری فرائض تک محدود نہیں رہے۔ قدرتی آفات، زلزلوں، سیلابوں، مواصلاتی منصوبوں، شاہراہوں اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور دیگر ادارے قومی ترقی میں عملی حصہ ڈال رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دفاعی بجٹ پر بحث حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جائے، نہ کہ جذباتی نعروں یا سیاسی مقاصد کے تحت۔ قومی وسائل کے مؤثر استعمال، شفافیت اور احتساب کا مطالبہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے دفاع کوئی اضافی عیاشی نہیں بلکہ بقا کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں سیکیورٹی خطرات مسلسل موجود ہوں، دفاعی تیاری کمزور کرنا دانش مندی نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے دفاعی بجٹ کو اگر عالمی اوسط، علاقائی حالات، دشمن ممالک کی عسکری صلاحیتوں اور داخلی سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں پھیلایا جانے والا بہت سا منفی تاثر مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ عوام اور دانشور جذباتی بیانیوں کے بجائے مستند معلومات کی روشنی میں رائے قائم کریں، کیونکہ بعض اوقات حقائق کی جنگ بھی سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ جتنی اہم ہوتی ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais