تادمِ تحریر پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں 9 جون سے شروع ہوئی شٹرڈاون ہڑتال بارے متضاد دعوے ہیں ریاست (آزاد جموں کشمیر) کی حدود میں انٹرنیٹ کی "بندش" کی وجہ سے افواہیں اور الزامات ہوا کی دوش پر ہیں۔ آزمودہ نسخے آزمائے جارہے ہیں۔ سادہ الفاظ میں سمجھاوں تو کچھ یوں ہے حکومت مخالف تحریک چلانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (اب کالعدم) کے ہمدرد دنیا کی ہر بُرائی اور ظلم پاکستان کے کھاتے میں لکھتے جارہے ہیں۔ برطانیہ میں اس تحریک کے ہمدرد ننگی گالیوں سے بھرے خطابات سے جی کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں یہاں ہمارے انقلابی دیوانوں کے جو چند دانے بچ رہے تھے ان کی باسی کڑی میں بھی اُبال آیا ہوا ہے۔
رہی حکومت پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کی حکومت تو یہ پرانے نسخوں کی کاپیاں کھول کے بیٹھی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نصف درجن سے زائد ایجنٹ گرفتار کیئے گئے ان سے بھارتی کرنسی حساس مقامات کے نقشے اور اسلحہ برآمد ہوا۔ ایک ویڈیو غالباً مظفرآباد پولیس نے سوشل میڈیا پر ڈالی اس ویڈیو میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے دفتر کی تلاشی میں اسلحہ کی برآمدگی دیکھائی گئی۔
مجسٹریٹ یا سول انتظامیہ کے نمائندے کی موجودگی کے بغیر کی گئی یہ کارروائی کتنی قابل اعتبار ہوسکتی ہے اس پر بحث کی ضرورت نہیں ایکشن کمیٹی والے اپنے دفتر سے اسلحہ کی برآمدگی کو پولیس کے "ہاتھ کی صفائی" قرار دے رہے ہیں۔
کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اگر ایکشن کمیٹی کے دفتر سے توپ ٹینک یا راکٹ لانچر برآمد ہوجاتے تو کوئی کیا بگاڑ سکتا تھا۔ یہ سطور 11 جون کی سپہر میں لکھ رہا ہوں اس وقت تک آزاد ذرائع سے مجموعی طور پر دس افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوسکی ان میں چار قانون نافذ کرنے والے محکموں کے اہلکار ہیں جبکہ چھ مختلف علاقوں کے شہری۔
افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ پنجاب بیس اردو میڈیا نے اپنی صحافتی ذمہ داری پوری نہیں کی حالانکہ اسے نہ صرف حقائق اپنے قارین و ناظرین کے سامنے رکھنے چاہیں تھے بلکہ پچھلے چند دنوں سے بھارتی ذرائع ابلاغ کی "لگائی بجھائی" کا بھی منہ توڑ جواب دینا چاہئے تھا۔ اس پر ستم وہ کرائے کے سوشل میڈیا اکاونٹس ہیں جو دیہاڑی دار چلارہے ہیں ان اکاونٹس سے کالعدم آزاد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایکشن کمیٹی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
یہی نہیں بلکہ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران اور حامیوں کو ویسی ہی ننگی گالیاں دی جارہی ہیں جیسی ننگی گالیاں برطانیہ میں فردوسی اینڈ کمپنی کے ارکان پاکستان کو دے رہے ہیں۔ ننگی گالیوں کی اس بواسیری اٹھان کو ہمارے ہاں کے سستے انقلابی انقلاب کی دستک سمجھ کر جھوم رہے ہیں۔
ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور تحریک پر دانش کے "گدھے" وہ بھی دوڑا رہے ہیں جنہیں آزاد کشمیر کا پورا سرکاری نام نہیں آتا۔ یہ درست ہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں تحریک چلانے والی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماوں کی تقاریر زہر سے بھری ہوتی تھیں اور اب بھی ہیں قوم پرست کہلانے والے آج یا کل سے نہیں برسوں عشروں سے پاکستان اور بھارت کو ایک ہی سکے کے دورخوں کے طور پر پیش کرتے آرہے ہیں۔
ہماری رائے میں 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ اور ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماوں کی تقاریر دونوں کو سامنے رکھ کر تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن تجزیہ کرے گا کون۔ طرفین کے حامی گالیوں سے کم بات نہیں کرتے سوشل میڈیا پر وہ دھول اڑائی جارہی ہے کہ پورا کیا آدھا نیم سچ تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے جنگوں اور حکومت مخالف تحریکوں کے دوران افواہیں اور جھوٹ سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں۔
یہ عرض کرنے میں امر مانع نہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک طبقے نے مسلسل یہ تاثر دیا کہ یہ عوامی مطالبات کی نہیں خودمختار کشمیر کے قیام کی جدوجہد ہے 38 مطالبات کی عوامی تحریک میں ایک جانب مطالبات کو من و عن منوانے کے پرجوش حامی ہیں تو دوسری طرف خودمختار کشمیری قومی شناخت اور آزادی کے علمبردار تلخی دونوں کے لہجوں میں ہے یہ تلخی کیوں پیدا ہوئی اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
لیکن یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ آزاد جموں کشمیر کے ریاستی نظام کے بعض بینیفشری بھی پچھلے کچھ عرصے سے بدزبانی اور بازاری پنے کا مظاہرہ کرتے رہے۔
مثلاً آپ راجہ فاروق حیدر نامی کشمیری سیاستدان (یہ موصوف آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہ چکے) کی گزشتہ ایک سال کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیوز تلاش کرکے سُن لیجے موصوف مادرزاد ننگی گالیاں دیتے نہیں اگلتے ہیں جب وزیراعظم رہ چکا شخص مخالفوں یا یوں کہہ لیجے کہ ایکشن کمیٹی کے حامیوں کو گالیاں دے گا تو جواب میں پھول نہیں پھینکے جائیں گے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ بدزبانی صرف راجہ فاروق حیدر کا من بھاتا کھابا نہیں سبھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ایکشن کمیٹی والے بھی جہلم نیلم نہائے ہوئے نہیں وہ بھی مخالفوں کو اخلاق سے گرے القابات سے یاد کرتے ہیں بہرطور اس حقیقت کی پردہ پوشی ممکن نہیں کہ آزد جموں کشمیر میں سب اچھا نہیں ہے۔
مثال کے طور پر چنددن قبل آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے اپنے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیئے کسی مہذب معاشرے میں اس طرح بات کی گئی ہوتی تو آئی جی صاحب اس وقت عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہم صرف اس وجہ سے آئی جی پولیس کے خطاب عالیہ کا دفاع نہیں کرسکتے کہ ایکشن کمیٹی میں شامل قوم پرستوں نے پولیس اور دوسری فورسز کے لیئے سخت زبان برتنے کے ساتھ انہیں بیرونی فورسز کہا۔
احتجاج کرنے والے جذباتی ہوتے ہیں ان کے جذبات اور تند بیانی کو حکمت عملی سے نرمی میں بدلوانا ہی امن و امان قائم کرنے کے ذمہ داروں کا فرض ہوتا ہے اس لئے یہ مانا جانا چاہئے کہ آئی جی پولیس نے اپنے خطاب میں الفاظ کا مناسب چناو نہیں کیا بلکہ وہ جذبات کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوگئے۔
اسی طرح ایک رائے یہ بھی ہے کہ پچھلے ماہ مئی میں وفاق پاکستان اور ریاستی حکومت کے نمائندوں کے ایکشن کمیٹی سے جو مذاکرات ہوئے تھے ان میں اگر ریاستی حلف میں تبدیلی کا کوئی نیا مطالبہ کیا گیا تھا تو اس پر اسی وقت بات ہونا چاہئے تھی نیز یہ کہ 38 میں سے عمل ہوئے مطالبات کو ایک طرف رکھ کر باقی مطالبات دوحصوں میں الگ الگ کرنے کی ضرورت تھی۔ ایک حصے میں وہ مطالبات ہوتے جو متعقلہ وزارتوں کے احکامات اور نوٹیفکیشن کے اجرا سے حل ہوسکتے تھے دوسرے حصے میں وہ مطالبات جن کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے۔
عمومی خیال یہی ہے کہ معاملات کو بہتر بنانے کیلئے یہ طریقہ کار زیادہ بہتر رہتا۔
بہرحال آزاد جموں کشمیر میں میرپور سے نیلم تک جو صورتحال ہے وہ تسلی بخش ہرگز نہیں الزامات اور گالم گلوچ کے میدانوں سے کچھ باہر نکل کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان و بیان پر تمام فریقوں کو قابو پانا ہوگا گالم گلوچ فتووں اور غدار غدار کھیلنے سے اجتناب کی شدید ضرورت ہے مسائل بندوق سے نہیں مذاکرات کی میز پر حل ہوں گے۔
ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ عاجلانہ تھا اب بہت سادہ سا سوال منہ چڑھاریا ہے وہ یہ کہ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جو سنگین الزامات لگائے گئے اور بعد ازاں انہیں دہرایا گیا ان الزامات کے بعد اب مذاکرات کس سے ہوں گے اگر کرنا پڑے جو کہ یقیناً کرنا ہی پڑیں گے۔
حرف آخر یہ ہے کہ معاملات کو سدھارنے اور حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے سب سے پہلے کرائے کے سوشل میڈیا مجاہدین کو لگام دینے کی ضرورت ہے یہ مجاہدین کس کی بولی بولتے اور رزق پاتے ہیں یہ ہرکس و ناکس پر عیاں ہے ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ بگاڑ بڑھانے کی بکائے سدھار کیلئے توانائیاں بروئے کار لائی جائیں گی مناسب ہوگا کہ تلخی بڑھاتے چلے جانے کی بجائے محبتیں کاشت کی جائیں طرفین حقیقت پسندانہ رویہ اپنائیں ہم امید کرسکتے ہیں اور مودبانہ درخواست ایک دوسرے کیلئے شجر سایہ دار کا کردار ادا کیجے اسی میں بھلائی ہے اور خیر بھی۔