Sunday, 02 August 2026
  1. Home/
  2. Haider Javed Syed/
  3. Azad Kashmir Ke Intikhabi Amal Ka Pehla Marhala Aur Ilzamati Malakhra

Azad Kashmir Ke Intikhabi Amal Ka Pehla Marhala Aur Ilzamati Malakhra

پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے مسلم لیگ ن و پیپلز پارٹی کے ساتھ نومولود استحکام پاکستان پارٹی کے علاوہ مسلم کانفرنس بھی میدان میں تھی۔ تب ان سطور میں عرض کیا تھا تحریک انصاف کے بائیکاٹ اور کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مہاجرین کی نشستوں ریاستی نظام اور چند دیگر معاملات پر دوٹوک موقف کے باعث رائے دہندگان کی کم تعداد ہی پولنگ اسٹیشنوں تک آئے گی۔

غالباً اسی خطرے کو پھانپتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے انتخابات تین مرحلوں میں کرانے کا فیصلہ ہوا تادم تحریر پولنگ کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں کے انتخابی نتائج آچکے پولنگ والے دن پیپلز پارٹی کا ایک کارکن قتل ہوا چند پولنگ اسٹیشنوں پر بیلٹ باکس جلائے گئے۔ نتائج کے مطابق 9 نشستیں مسلم لیگ ن اور 4 نشستیں پیپلز پارٹی جیت گئی پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان الزامات طعنوں دھاندلی اور باریک واردات کی پیداوار ہونے کی باتیں اچھالی جارہی ہیں لیکن دونوں جماعتوں کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشنوں پر دیکھی گئی ویرانی کے باوجود ووٹ ڈالنے کا تناسب پچاس فیصد اور کہیں اس سے اوپر کیسے رہا؟

یہ سطور لکھتے ہوئے بھی انتخابی مہم کے دوران لکھے گئے دوتین کالموں میں عرض کی گئی باتوں پر قائم ہوں ان میں سے اہم بات یہ تھی کہ انتخابی عمل پر ایکشن کمیٹی کے عدم اعتماد کا بیانیہ پولنگ والے دن حقیقت بن کر سامنے آئے گا۔ اس بیانیئے کو چار چاند تحریک انصاف کے بائیکاٹ سے بھی لگیں گے انتخابی عمل کے دوسرے اور پولنگ کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں کیا ہوا بس یہی کہ "پتہ پتہ بوٹا بوٹال حال پولنگ کا جانے ہے ماسوائے اسٹیبلشمنٹ اور انتخابات میں شریک جماعتوں کے"۔

سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز ٹھپے پہ ٹھپہ لگاتی گردش کرتی ویڈیوز سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مشکل سے 25 فیصد ووٹ پڑنے کے عمل کو پچاس باون فیصد کیسے بنایا گیا۔ ہمارے خیال میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے الزاماتی ملاکھڑے دور کھڑے ہوکر زمینی حقائق کی روشنی میں بات کرنے کی ضرورت ہے تو اتنی ہی ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری پریس ریلیزوں کو پبچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ گرمی حبس اور کبھی کبھی ہوتی حبس زدہ بارشوں کے اس ملے جلے موسم میں فشار خون کو بڑھنے بالکل نہ دیجئے یہ آموں کا اختتام پذیر ہوتا موسم ہے کچی لسی بھی بہت مفید رہے گی اس موسم میں لیموں پانی بھی باقی کے معاملات اپنی صحت جیب حالات اور مزاج کے مطابق کیجے۔

آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے دوسرے مرحلے کیلئے پولنگ 2 اگست کو ہونی ہے اس مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے علاوہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ کا عمل مکمل ہوگا۔ نتیجہ حسب سابق مسلم لیگ ن کے حق میں ہوگا مہاجرین مقیم پاکستان کے ووٹ ڈالنے کی شرح عین ممکن ہے چالیس فیصد ہوجائے لیکن مظفرآباد ڈویژن میں یہ شرح "بھر پور" کوششوں کے باوجود بائیس سے پچیس فیصد رہے گی البتہ انتخابی نتائج میں یہ شرح پچاس فیصد سے تجاوز کرسکتی ہے۔ آخر انتخابی عمل کا بھرم بھی تو رکھنا ہے پونچھ ڈویژن میں پولنگ کا عمل تیسرے مرحلے میں مکمل ہوگا یہ کیسے ہوپائے گا؟

اس سوال پر ٹھنڈے ٹھار انداز میں غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پونچھ ڈویژن کے راولا کوٹ میں ہی وہ دھرنا جاری ہے جسے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات اور خودمختار کشمیر کے حامیوں کے حوالے سے بھی راولا کوٹ اور گردونواح سے دوتین واسطوں سے گزر کر جو اطلاعات موصول ہوتی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ ہم اور آپ احتجاجیوں یعنی دھرنے والوں کے موقف اور سرکاری پریس ریلیزوں کو سوفیصد سچ نہ بھی تسلیم کریں تو بھی تلخ حقیقت یہی ہے کہ سب اچھا نہیں ہے نیز یہ کہ گزشتہ سے پیوستہ روز جو کچھ میرپور جیسے پرامن شہر میں ہوا وہ بھی جواب طلب ہے لیکن سوال کس کی یا کن کی خدمت میں پیش کرکے جواب کی امید باندھی جائے؟ یہ بذاتِ خود رقص کرتا ہوا سوال ہے۔

تادم تحریر اس قلم مزدور کے پاس آزاد کشمیر کے حوالے جو اطلاعات ہیں وہ اچھی ہرگز نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کارروباری مجبوریوں کے باعث بہت کچھ کیا کچھ کچھ بھی نہیں بتا پارہے۔ ہمیں یہ شوق بھی ہرگز نہیں کہ پوچھیں کے انٹر نیٹ بند ہے تو چند لمحوں میں ویڈیوز ہزاروں کلومیٹرز کا سفر کیسے طے کرلیتی ہیں۔ نہ یہ شوق ہے کہ سرکاری ویڈیوز و پریس ریلیزوں کو حب الوطنی کا مکھن لگا کر پیش کریں البتہ یہ حقیقت بارِدیگر عرض ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ جہاں تک وزیراعظم پاکستان کے ایک مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ خان کے اس بیان کا تعلق ہے کہ "ہم نے جو جہادی تیار کیئے وہ آج ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں" اس پر یہی عرض کیا جاسکتا ہے

کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا
فراز اور اسے حالِ دل سنانے جا

مزید عرض یہ ہے کہ جب آپ کسی علاقے کے لوگوں کے جذبات و احساسات اور مسائل کو زمینی حقائق کی روشنی میں سمجھنے کی ضروت کو نظرانداز کرکے "بھاڑا گیری" کا شوق پالیں گے تو بداعتمادی کی خلیج وسیع تر ہوتی جائے گی۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے باشندوں اور ریاست پاکستان کے درمیان پیدا ہوئی بداعتمادی کو کم کرنے کی ضرورت ہے مزید بڑھانے کی ہرگز نہیں امید واثق ہے کہ اصلاح احوال کیلئے سنجیدہ کوششوں پر توجہ دی جائے گی۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui