یہ کہنا کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے درست نہیں، درست بات یہ ہے کہ کوئی نظام ہے ہی نہیں تو ناکامی کیسی، زیادہ سہل بات یہ ہوگی کہ نظام جمہور کی امنگوں سے بُنا اور چلایا جاتا ہے مگر یہاں جمہور کو پوچھتا کون ہے۔ تاریخ سیاسیات اور صحافت کے ایک عام طالبعلم کی حیثیت سے ہماری رائے یہی ہے کہ 16 دسمبر 1971 کے سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ایک جائزہ کمیشن بننا چاہئے تھا جو یہ دیکھتا کہ ملک کیوں ٹوٹا اس سانحہ کا نام نہاد نظام کتنا ذمہ دار ہے اور نظام کے ساجھے دار طبقات کتنے؟ (خیال رہے کہ حمود الرحمن کمیشن چیزِ دیگر است)
اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ "جو بہتری تیس برسوں کے سفر میں آتی وہ تین برسوں میں آگئی"، کڑواسچ یہ ہے کہ تیس برسوں کی ناکامیاں عذاب مسائل مایوسیاں تین برسوں میں گلے کا ہار بن گئیں، لیپا پوتی اور چرب زبانی کسی کام کی نہیں نہ لوگوں کو اس ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑانے کی ضرورت ہے کہ نظام ناکام ہوچکا۔
بالفرض اگر ہم (یہاں ہم سے مراد چھبیس کروڑ لوگوں میں سے پچیس کروڑ رعایا ہیں نیز یہ کے تحریر میں جہاں جہاں "ہم" آئے اسے رعایا پڑھا سمجھا جائے) مان بھی لیتے ہیں کہ ملک میں چوہدری سردار راجہ مخدوم نظام الدین خان دائم برکاة عالیہ نامی "کچھ" تھا اور وہ قریب المرگ ہے تو پھر ہم ہی یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا "نظام الدین" کے بینیفشریز اور ساجھے دار اس کے ذمہ دار نہیں؟
دسمبر 1971 کے بعد نہ سہی اب ایک قومی جائزہ کمیشن بنالیجے کمیشن چرب زبانی کے مقابلے میں مثبت عمل ہوگا لیکن یہ ہوگا نہیں کیونکہ ساجھے دار طبقات اپنے پاوں پر کلہاڑی نہیں ماریں گے۔
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ خارجہ پالیسی بڑی طاقتوں اور مالدار ممالک کی چاپلوسی و چوبداری پر استوار ہے معاشی پالیسی والی کتاب کے سرِورق پر لکھا ہے "اس کتاب کو رعایا نامی مخلوق کی پہنچ سے دور رکھیں"۔ داخلی پالیسی کا "حال و حال" آپ بلوچستان خیبرپختونخوا اور آزاد جموں کشمیر میں دیکھ سکتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب اور سندھ کے صوبے میں دودھ و شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ان دونوں صوبوں میں بھی مسائل ہی مسائل ہیں قدم قدم پر ہاں ہمیں اس پر غوروفکر کرنا چاہئے کہ یہ مسائل محرومیاں وغیرہ وغیرہ کی پیدائش اور پھلنے پھولنے کا ذمہ دار کون ہے اور کیا اصلاح احوال کی کوئی صورت بن سکتی ہے؟
غوروفکر سوال کرنے کے شعور کو جنم دیتا ہے ہمارے یہاں سوال کرنا منع ہے اور سوال کرلینے کی جسارت کرنے والوں کی قومیت، عقیدہ، مذہب اور حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے۔ سادہ انداز میں یہ کہ سوال کرنے کا شعور مکالمے کا دروازہ کھولتا ہے اس سے بڑا سادہ سچ یہ ہے کہ رعایا سوال کرتی ہے نا مکالمہ وہ تو بس اطاعت کرتی ہے۔ ہم بٹوارے کے بعد سے اطاعت گزاروں کے ہجوموں کے علاوہ اور کیا پیدا کرسکے یا بناسکے؟ کبھی اس بارے سوچیئے گا ضرور اور جو جواب ملے اس سے مجھ طالبعلم کو نذرِ اللہ و نیازِ حسینؑ آگاہ کیجے گا۔
بارِ دیگر عرض ہے کہ نظام تھا اور ہے ہی نہیں تو ناکامی کیسی ہاں ملک میں اس ملک کے قیام کے بعد سے آج تک لولا لنگڑا طبقاتی سسٹم مسلط ہے ایک دوبار اس سسٹم کو نظام بنانے کی کوشش ہوئی کوشش کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ تقریباً آٹھ عشروں کی تاریخ کے چہرے پر سیاہ داغ کی صورت موجود ہے نزدیک کی نظر کمزور نہ ہو تو دیکھ لیجے۔
ہماری دانست میں اگر کسی اعترافی ڈھمکیری کی ضرورت آن بھی پڑی تھی تو یہ اعتراف کرنا بنتا تھا کہ نظام اور لیباٹری دونوں ناکام ہوچکے نیز یہ کہ ناکامی پر شق وار گفتگو ہونی ضروری تھی اور ہے۔
جہاں تک نظام کی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ نئے صوبے بنانے کی بات کا تعلق ہے تو اس پر سوال یہ ہے کہ کیا ایک ناکام نظام کی کوکھ سے صوبے برآمد کرنے سے کوئی کامیابی مل سکے گی؟ خیال رہے یہ قلم مزدور قومیتی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا حامی ہے، چلیں فی الوقت ہم انتظامی یونٹس کی ضرورت پر سرِ تسلیم خم کرلیتے ہیں۔ اب بتائیں سمجھائیں کے ایک ناکام نظام کے بطن سے برآمد کیئے جانے والے دوتین یا چار نئے انتظامی یونٹس کیسے کار آمد ہوں گے بالخصوص معاشی ابتری کے "رونق میلے" کے ہوتے ہوئے نیز یہ کیا کہ کسی قومی مکالمے کے بنا فقط دو میڈیا ہاوسز کے مالکان کی نئے صوبے بنانے کی "ڈفلی" پر رقص کیا جائے؟
یہ غور طلب امور ہیں مردانہ کمزوری کے دیواری اشتہارات کی طرح۔۔
نظام کی ناکامی اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے تازہ بیان وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے دیا ہے محسن نقوی خود بھی اسی ناکام نظام کا تحفہ ہیں کس "قابلیت" پر پہلے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ بنائے گئے اور پی سی بی کے سربراہ پھر وفاقی وزیر داخلہ یہ بذات خود سوال ہے اس کا جواب تلاش کرنا "اوکھلی" میں سر دینے جیسا کام ہے۔
فقیر راحموں کے بقول "سہاگن وہی جو پیا کی چاہت ہو سہاگن سے زیادہ کامیابی و ناکامی کی تشریح کون کرسکتا ہے" آپ فقیر راحموں کی بات پر مغز ماری سے پرہیز کیجے البتہ پیا اور سہاگن یا سہاگنوں کا معاملہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی اسٹیٹ کا پیا مستقل ہوتا ہے سہاگنیں بدلتی رہتی ہیں یہی سچ ہے پورا اور کڑواسچ ہمارے یا آپ کے اقرار و انکار سے رتی برابر فرق نہیں پڑنا یعنی "ہم سے پوچھ پاچھ کے تھوڑا ہی بنایا تھا جو اب حساب ہم دیں اور بتلائیں کے ناکام کیوں ہوئے"۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ رعایا کے عوام بننے کے راستے میں لگے بیریئر اور قائم ہمہ قسم کی چیک پوسٹیں ختم کیجے نظام ناکام ہوچکا (بقول آپ کے) ہے تو نئی دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کی جانب حوصلے سے قدم بڑھائیں یہ بھی تسلیم کیجے کہ یہ یک قومی نہیں پانچ قوموں کی فیڈریشن ہے۔ یاد رہے تمام وفاقی محکموں اور اداروں میں پانچوں قومیتوں کو مساوی یا آبادی کے تناسب سے (جیسا قومیں چاہیں) نمائندگی دی جائے مقامی وسائل پر اولین حق مقامیوں کا ہونا چاہئے تعلیمی نصاب پانچوں قومیتوں کی تہذیب و تمدن اور تاریخ کی بنیاد پر مرتب کیا جائے حملہ آوروں کو نجات دہندہ مسیحا اور ہیرو بنائے رکھنے کی بدعت سے نجات حاصل کی جائے۔
نیز یہ کہ ان سب سے پہلے ایک قومیتی جائزہ کمیشن بنایا جائے اسی طرح نصاب تعلیم اور حقیقی تاریخ نویسی کیلئے کمیشن بننے چاہیں تاکہ بھاڑے کی تاریخ اور ہیروز سے ہماری نہیں تو آئندہ نسلوں کی ہی جان چھوٹ جائے۔
یہ سطور لکھنے کے دوران فقیر راحموں نے لقمہ دیا "غیر طبقاتی نظام از بس ضروری ہے" ہماری دانست میں طبقاتی خلیج کم سے کم ہونی چاہئے کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے غیر طبقاتی نظام اور سماج بنانے کے دعویدار مذاہب ہوں یا سیاسی نظریات دونوں نے نئے استحصالی طبقات کو جنم دیا اس لئے کسی انتہا کی طرف دوڑنے کی بجائے توازن و اعتدال لازمی ہے کالم کے دامن میں مزید گنجائش نہیں کم لکھے کو زیادہ جانیئے۔