گرمی بڑھ رہی اور مہنگائی بھی عیدالاضحیٰ میں ایک آدھ دن باقی ہے بکرا منڈیوں میں ہُو کا عالم تو نہیں لیکن "ہو" کا عالم ضرور ہے۔ بھیڑ بکریاں بیل و اونٹ خریداروں سے زیادہ ہیں اور قیمتیں دونوں سے زیادہ "سب" اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ بیوپاری خریدار ڈھونڈنے اور پھنسانے میں اجتماعی قربانیاں کرنے والے حصہ دار بنانے میں وہ رونق نہیں جو ہماری عمر کے لوگوں کے بچپن میں ہوتی تھی۔
مجھے نہیں لگتا کہ عید الاضحیٰ کے تینوں دن قربانی کے گوشت کی پلیٹوں کے گلی محلوں میں آجانے کا شور اٹھے گا وجہ لوگوں کی اکثریت کا قوت خرید سے محروم ہوجانا ہے یعنی آسمان کو چھوتی مہنگائی وہ تو شکر ہے کہ عیدالاضحیٰ پر عیدالفطر کی طرح کپڑے بنانے کا شوق لگ بھگ 80 فیصد کم ہوتا ہے اس لئے والدین کی کچھ بچت ہوجاتی ہے۔
ہمارے محلے کے مولوی صاحب نے ملکی حالات مہنگائی اور دوسرے مسائل پر گزشتہ جمعہ کو خطبے میں سادگی سے عید منانے کی اپیل کی میں نے اپنی لائبریری میں بیٹھ کر ہر جمعہ کی طرح سادگی کی تلقین والا خطبہ جمعہ بھی سماعت کیا جی خوش ہوا کسی کو تو مہنگائی محرومیوں اور مسائل کا احساس ہوا چاہے وہ خطیب جمعہ ہی کیوں نہیں۔
مگر جمعہ سے اگلے روز فقیر راحموں اور مولوی کی بھرے بازار میں ہوئی ملاقات دیدنی تھی ہر دو کے درمیان اس ملاقات میں جو "تبادلہ خیال" ہوا فسادِ خلق کے ڈر سے یہاں نہیں لکھ رہا بس اتنا سمجھ لیجے کہ فقیر راحموں چاہتے تھے کہ مولوی جی جلیبیوں سموسوں والا اس کا شاپر لے لیں اور اپنے تینوں شاپر اسے دے دیں شکر ہے بات بن نہیں پائی اور رولہ بھی نہیں پڑا۔
عیدالاضحیٰ کی آمد سے قبل شروع ہوئی مہنگائی کی مختلف وجوہات تھیں پٹرولیم کی قیمتیں کرایوں میں اضافہ پیرا فورس کی دادا گیری ٹریفک پولیس کے ٹارگٹ چالان ہم اور آپ یوٹیلٹی بلز کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ تجربہ کاروں کی حکومت ہے اور جو تجربے دو برس سے مسلسل رعایا پر ہورہے ہیں ان سے لگے زخموں کی وجہ عام شہری اٹھتے بیٹھتے درد سے بے چین ہو کر "سسکاتا" رہتا ہے۔
یہی تجربہ کار ہمیں اپریل 2022 سے قبل بتایا سمجھایا کرتے تھے کہ تحریک انصاف کے ناتجربہ کاروں ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے ملک کا بیڑا غرق کیسے ہوا اور ہوتا ہے اس بارے فقیر راحموں کا مختصر بھاشن لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے لیکن خیر ملکی ترقی اور حکمرانوں کی آسودگی کیلئے قربانی ہمیشہ رعایا دیتی ہے آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ تکرار کے ساتھ رعایا کیوں کہتا لکھتا ہوں۔
بات اصل میں یہ ہے عوام جس کو کہتے ہیں وہ کچھ نہ کچھ احتجاج مجاج کرلیتی ہے۔ رعایا کو ہروقت دوسرے وقت کی روٹی کا دھڑکا لگا رہتا ہے اس لئے وہ صبر کے خیمے میں شکر کی تسبیح پڑھتے دعاوں سے دن بدلنے کی خواہش پالتی ہے ہم بھی اسی رعایا کا حصہ ہیں۔
ایک آدمی آیا تھا ذوالفقار علی بھٹو نام تھا اس کا اس نے رعایا کو عوام بنانے کی کوشش کی پھر اس کے ساتھ جو ہوا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم تاریخ کے پنے الٹیں گے اور بتائیں گے کہ کیسے ملا ملٹری الائنس نے اسے پھانسی پر چڑھادیا تھا چند پڑھنے والے جیالہ ہونے کی پھبتی کس دیں گے۔
ہم ہوں کہ آپ ہم سبھی ایک دوسرے کی بات اور رائے کو جیالے متوالے جاتی امراوی و انصافی جماعتیئے وغیرہ وغیرہ کے حساب سے دیکھتے ہیں یعنی ہم سبھی اپنا بھاشن پرچون میں بیچنا چاہتے ہیں ہم میں سے ہرشخص کا پسندیدہ لیڈر اور جماعت مسائل سے نجات کی کُنجیاں ہیں حالانکہ کہ یہ مسائل انہی کے پیدا کردہ ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا 2008 سے 2013 کے درمیان جب میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، ان برسوں میں سرائیکی صوبے کا بہت شور تھا وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی بنایا تھا خیر انہی برسوں میں سے ایک برس میں مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی اور سرائیکی وسیب کے لوگوں کے سرائیکی صوبہ والے مطالبہ پر دودھاری تلوار سے وار کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے دو نئے صوبوں، صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور کیلئے قرارداد منظور کروائی تھی۔
آجکل اسی مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق ڈیڑھ دو برس سے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے بندہ پوچھے کہ قبلہ خواجہ جی جب آپ کی جماعت کی پنجاب حکومت پنجاب میں دونئے صوبے بنانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کروارہی تھی تب آپ کہاں تھے اور اب کہاں سے بول رہے ہیں؟
معاف کیجے گا ہم بات مہنگائی اور دوسرے مسائل کے بوجھ تلے سسکتی رعایا کی کررہے تھے خواجہ جی کا ذکر خیر بس یونہی آگیا ویسے یہ بلاوجہ ہرگز نہیں ایک وجہ یہ ہے کہ "تقسیم پنجاب" کے خلاف اپنے موقف کو تو وہ دھڑلے سے پیش کرتے ہیں لیکن اگر کوئی انہیں جواب دے تو ایڈمن نما منشی چھوڑ دیتے ہیں اس کی تازہ مثال معروف دانشور اور صحافی محمد عامر حسینی کا خواجہ سعد رفیق کے موقف پر جوابِ دعویٰ ہے جس کا جواب اصولی طورپر خواجہ کو دینا چاہئے تھا لیکن حسبِ عادت اُس نے ایڈمن نما منشی چھوڑ دیا مسلم لیگ ن میں دوسروں سے نسبتاً بہتر سیاسی کارکن سمجھے جانے والے شخص کا یہ حال ہے تو باقی کیا سوچتے بولتے ہوں گے؟
فقیرراحموں کے بقول مسلم لیگ ن والے اب سارے کام "پیرا فورس مزاج" لوگوں سے لینے لگے ہیں۔ پنجاب میں آجکل پیرا فورس کا دھانسو راج چل رہا ہے شہری آبادیوں اور کارروباری لوگوں کی جماعت کہلانے والی مسلم لیگ ن کے تازہ جاری دور میں سب سے زیادہ درگت انہی طبقات کی بن رہی ہے جو اس کے حامی ہیں۔ رہی سہی کسر ٹارگٹ چالانوں نے پوری کردی ہے کسی کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ مسائل کے انبار تلے دبی رعایا کو اگر کوئی ریلیف نہ دیا گیا تو کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔
وہ تو شکر ہے کہ تحریک انصاف آج بھی ایک شخص سے محبت اور باقیوں سے نفرت کے اصول کو اپنائے ہوئے ہے کہیں کسی دن اس نے سیاسی رویہ اپنالیا تو خود سوچ لیجے کہ ناراض طبقات کا وزن کس کے پلڑے میں جائے گا اور نتیجہ کیا نکلے گا؟
پنجاب میں ان دنوں پولیس گردی سے زیادہ پیرا فورس گردی کے واقعات ہورہے ہیں پیرا فورس کے حوالے سے لوگوں کی شکایات کو رد کرنا ازبس مشکل ہے۔
یہ درست ہے کہ آسمان کو چھوتی موجودہ مہنگائی کی ایک وجہ ایران امریکا بگاڑ سے پیدا ہوئے حالات ہیں لیکن جان کی امان رہے تو عرض کروں ننانوے فیصد وجوہات تجربہ کاروں کی ناتجربہ کاریاں ہیں دوسری جانب صوبوں اور وفاق کے درمیاں بداعتمادی کی خلیج گہری ہوتی جارہی ہے خیر یہ الگ قصہ اور معاملہ ہے۔
فی الوقت تو یہ ہے کہ چند ایک محدود طبقات کے علاوہ ہر شخص پریشان حال ہے بہت سارے ایسے خاندانوں کے حالات دکھی کر دیتے ہیں کبھی جن کے دسترخوانوں پر اپنے پرائے سیر ہوکر دعا دیتے تھے آج ان خاندانوں کو اپنے خاندان کے افراد کیلئے دسترخوانوں کا "بھرم" قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے ان میں کچھ نے ناشتے اور کچھ نے دوپہر کے کھانے کی عیاشی ترک کردی ہے۔
مسلم لیگ ن کے ایک وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے ایک بار قومی اسمبلی میں مہنگائی پر ارکان قومی اسمبلی کی تقاریر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا دالیں مہنگی ہیں تو لوگ برائلر مرغی کھائیں وہ سستی ہے۔ ایسا ہی ایک کردار تحریک انصاف کے دور میں بھی پایا جاتا تھا وہ کہتا تھا ٹماٹر مہنگے ہیں تو کیا ہوا آپ دہی استعمال کریں۔ انہی دنوں ایک اور انصافی صاحب نے مشورہ دیا تھا مہنگائی ہے تو دو کی بجائے ایک روٹی کھائیں۔ یہ سارے دانے بینے نابغے آجکل پتہ نہیں کہاں ہوتے ہیں مل جائیں تو ان کی خدمت میں عرض کریں بندہ پرور موجودہ مہنگائی کا کوئی شافی علاج ہی بتا دیجئے۔
آپ میں سے کسی کو ملیں تو آپ بھی ان سے شافی علاج کی درخواست کیجے گا۔۔