Saturday, 13 June 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Awami Action Committee Aik Fitna

Awami Action Committee Aik Fitna

ریاستیں بلیک میل نہیں ہوتیں بلکہ اپنی رٹ یقینی بناتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی اِداروں نے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی نہیں کی لیکن ریاست آزاد جموں و کشمیر کی حساسیت کے پیشِ نظر عوامی ایکشن کمیٹی سے نرم و رحمدلانہ سلوک روار کھا گیا جس نے آزاد کشمیر میں فتنا و فساد برپا کررکھا ہے جس کی بروقت روک تھام نہ کرنا سمجھ سے بالاترہے۔ ریاستی فتنے نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاستی رٹ ناگزیر ہے کیونکہ فتنہ نہ صرف بلیک میلنگ کرنے لگا ہے بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ کمزور کرنے اور بھارتی موقف مضبوط بنانے کی دانستہ کوششیں ہونے لگی ہے جس میں ملوث عناصر کی سرکوبی ضروری ہے۔ ریاستی اِداروں کو چاہیے کہ فرائض کی دائیگی میں کسی سے خاص اور چہیتے کا تاثر ختم کریں۔

پاکستان دفاع پر اربوں روپیہ صرف کرتا ہے تو اِس کی بڑی اور اہم وجہ ریاست جموں و کشمیر ہے جس کے بڑے حصے پر بھارت قابض ہے۔ اِس قبضے کو واگزار کرانے کے لیے دونوں ملک جنگیں لڑچکے پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ تقسیم ہند کے طے شدہ طریقہ کارکے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے مگر بھارت جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنا غلام بناکر رکھنا چاہتا ہے۔ اِس مسئلہ کے حوالہ سے اقوامِ متحدہ نے قراردادیں بھی منظور کر رکھی ہے۔

جنوبی ایشیا میں جوہری دوڑ بھی اسی مسئلہ کی وجہ سے ہے دہائیوں سے پاکستان کی ایک لاکھ سے زیادہ فوج آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر حفاظت کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ پاکستان احسان نہیں فرض سمجھتا ہے لیکن آزادکشمیر کے فتنے نے پاکستان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ہے۔ دراصل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ مطالبات کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کسی کو لاڈلہ نہ سمجھے بلکہ جموں و کشمیر کو آزاد کرانے، انھیں حقِ خوداِرادیت دلانے اور تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا پورا کرنے میں یکسو ہو اور جو بھی اِس عمل میں رکاوٹ بنے اُسے کچل دیا جائے۔

آزاد کشمیر کا نیا فتنہ جموں و کشمیر اور پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ یہ فتنہ چاہتا ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کی جائیں حالانکہ آزادکشمیر سپریم کورٹ اِس کے متعلق رائے دے چکی کہ یہ آئینی مسئلہ ہے اور اِسے اسمبلی کی آئینی ترمیم سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے مگر جموں و کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی چاہتی ہے کہ اسمبلی سے بالاتر یہ کام ہو۔ یاد رہے کہ بھارت نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے جموں و کشمیر اسمبلی میں چوبیس نشستیں مختص کررہی ہیں تاکہ اِس خطے پر اپنا حق جتاسکے اسی آڑ میں وہ آزاد کشمیر پر قبضے کا خواہاں ہے۔

آزاد کشمیر کی تمام جماعتیں اِس حوالے سے اپنا موقف دے چکیں لیکن جو لوگ اسمبلی میں موجود نہیں اور نہ ہی سیاسی عمل کا حصہ ہیں وہ چند ہزار لوگوں کو ساتھ ملا کر جلاؤ گھیراؤ اور ماردھاڑ سے مہاجرین کی نشستیں ختم کرانا چاہتے ہیں۔ یہ بلیک میلنگ اور بغاوت ہے جسے کچلنا ہی حل ہے تاکہ شفاف اور پُرامن سیاسی عمل جاری رہے اور کوئی بھی آزاد کشمیر کے لوگوں کے ذہن پراگندہ نہ کر سکے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو چند ہزار لوگ ساتھ لیکر کوئی بھی بہروپیا یا اداکار اپنی اداؤں یا اداکاری سے مستقبل میں بھی ریاست کے لیے مسائل کاموجب بن سکتا ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جو سب سے بڑا ظلم کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کے ازہان میں کشمیریوں کے لیے موجود ہمدردی کا کم کردیا ہے۔ مزید یہ کہ اب شاید ہی اقوامِ متحدہ کی منظور کی جانے والی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہو بلکہ عین ممکن ہے موجودہ لائن آف کنٹرول ہی مستقل سرحد بن جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اِس کی ذمہ داری مذکورہ نام نہاد عوامی کمیٹی پر ہوگی۔ کچھ حلقے تو وثوق سے کہنے لگے ہیں کہ موجودہ شورش کی سرپرستی اور مالی مدد میں کئی طاقتیں شامل ہیں جو آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک آزاد ملک بناکر خطے میں چاہتی ہیں تاکہ چین پر نہ صرف نظر رکھی جاسکے بلکہ اُس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے بھی وشنگٹن کے شہ دماغ کام کرسکیں۔

پاکستان نے کشمیریوں کو حقِ خود اِرادیت دلانے کے لیے بھارت سے چارجنگیں لڑیں نصف حصہ تک کھو دیا مگر مسلمان کشمیری بھائیوں کی حمایت سے دستکش نہ ہوا حالانکہ بھارتی مقتدرہ نے ہمیشہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علاقائیت اور لسانیت کو کشمیری مذہب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے فتنے نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کردیا ہے کہ بھارتی مقتدرہ کا خیال درست ہے اور پاکستان نے طویل عرصہ بے فیض اور احسان فراموش لوگوں کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ سرحد پر موجود پاکستانی فوج جس نے دشمن کو روک رکھا ہے عوامی ایکشن کمیٹی کا فتنہ اُسے غیر ملکی فوج کہتا ہے اپنے محافظوں کی ایسی بے توقیری کا کشمیریوں نے جانے کہاں سے درس لیا ہے؟

کشمیری بھائیوں کو مطمئن کرنے کی خاطر مزاکرات میں اکثر مطالبات منظور کر لیے گئے مگر عوامی ایکشن کمیٹی کا فتنہ شرائط مزید شرائط بڑھاتا گیا اب عوامی نمائندوں کے اِس حلف میں بھی ترمیم کا مطالبہ کردیا ہے جس میں پاکستان سے وفاداری اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کا صدقِ دل سے عہد کیا جاتا ہے یہ مطالبہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کیونکہ آج کے یہ سیاسی بونے تو اُس وقت کہیں موجود ہی نہیں تھے جب پاکستان اور پاکستانی عوام نے بزور کشمیر کا تہائی حصہ آزاد کرایا۔ یہ کشمیری مہاجرین اور پاکستان کی مشترکہ کاوش تھی جو آزادکشمیر کی صورت میں موجود بھارت نے تو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم اور اُسے ضم کر لیا ہے لیکن پاکستان نے جتنی آزادی، خود مختاری اور حاکمیت آزادکشمیر کو دے رکھی ہے اِس کی بہت کم نظیر دنیا میں ملتی ہے لیکن زہر آلود بیانیے سے فتنے نے کشمیریوں اور پاکستان کو مدِ مقابل لاکھڑا کیا ہے جس کا حل یہی ہے کہ ریاست اپنی رَٹ یقینی بنائے اور کسی سے بلیک میل نہ ہو۔

آزادکشمیر میں منگلہ ڈیم کی بات کرتے ہوئے مفت بجلی دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ارے بھئی اِس میں کون سا ابہام ہے کہ زمین کی قیمت ایک بار وصول کی جاتی ہے بار بار نہیں؟ منگلہ ڈیم کی لاگت پاکستان نے دی اور اِس کے عوض نہ صرف متاثرین کو پاکستان میں آباد کیا بلکہ میرپور اور قرب جوارکے لوگوں کو برطانیہ میں آباد ہونے کے مواقع دیے تو کیا زمین کی قیمت باربار وصول کرنی ہے؟ گندم کا گھر پنجاب ہے لیکن سستا آٹا صرف لاڈلے کشمیریوں کو ملتا ہے پھر بھی فتنے کی بلیک میلنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں کشمیریوں سے کوئی غرض نہیں جب آزادکشمیر کے بجٹ کا نصف سے زائد حصہ پاکستان دیتا ہے اور تمام ترقیاتی کام پاکستانی سرمائے سے ہوئے تو پاکستان کو حق حاصل ہے کہ لوگوں کے ذہن پراگندہ کرنے کی کسی فتنے کو اجازت نہ دے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais