Saturday, 09 May 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Bharat Jamhuriat Chor Kar Jahanum Ke Safar Par

Bharat Jamhuriat Chor Kar Jahanum Ke Safar Par

جب خطے میں تناؤ کی کیفیت ہے بھارت کی چار ریاستوں اور ایک یونین ٹیرٹری کے انتخابی نتائج نے امن پسندوں کو چونکا دیا ہے اور امن پسند طبقات بیک وقت حیرانگی و ہراسگی کاشکار ہیں کیونکہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ بھارت صرف کہنے کی حد تک ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی جمہوریت چھوڑ کر جہنم کی طرف سفر شروع کر چکا ہے۔ کبھی مغربی بنگال، مشرقی پنجاب اور مقبوضہ جموں و کشمیر ایسی ریاستیں تھیں جو ایک سیکولر بھارت کی شبہہ کا احساس دلاتی تھیں مگر جموں و کشمیر کی توڑ پھوڑ اور مقامی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے عمل سے بی جے پی جیسی ہندو جنونی جماعت بہت بہتر سطح پر ہے۔ مغربی بنگال کے انتخاب جیت کر یہ جماعت جنوبی بھارت کے سوا تقریباََ تمام ریاستوں میں حکمران ہے اِس کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی سے ملک میں نفرت، تعصب اور تشدد کو فروغ مل رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت ایک ہندو ملک بننے کی تگ و دو میں اصل شناخت کھو چکا ہے۔ یہ عمل بھارت میں تشددکی لہر وسیع کرنے کے ساتھ خطے کے تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلٰی بھگونت مان نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بی جے پی کی اصلیت کو پنجاب میں بم دھماکوں کا زمہ قرار دیا ہے۔ یہ بم دھماکے جلندھر اور امرتسر میں چند گھنٹوں کے وقفے سے ہوئے انھوں نے مودی کی ہندو توا جماعت پر آئندہ برس کے صوبائی انتخاب سے قبل بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ بی جے پی کو جس ریاست میں انتخاب لڑنا ہوتا ہے وہ سب سے پہلے وہاں فسادات بھڑکاتی اور دھماکے کراتی ہے۔ فرقہ وارایت کو فروغ دینے کے لیے لوگوں کو مذہب اور زات پات میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ کسی عام آدمی کا بیان نہیں ذمہ دار عہدے پر تعینات جہاندیدہ اور ذمہ دار شخص کا ہے جس کے ماتحت مختلف ایجنسیاں کام کرتی ہیں جو انھیں حقائق سے آگاہ کرتی ہیں۔ اِس کے باوجود کسی کو بھارت اور مودی سے خوش فہمی ہے تو اُسے احمق کے سوا کچھ اورنہیں سمجھاجا سکتا۔

مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کو صاف و شفاف نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر صاف شفاف انتخاب ہوتے تو قوم پرست مغربی بنگال کے معاشرے میں ممتا بینر جی ہرگز شکست سے دوچار نہ ہوتیں اول۔ یہاں مسلمانوں اور دلتوں کی تعداد پچاس فیصد کے قریب ہے یہ دونوں قومیں بی جے پی اور ہندوتوا کو سخت ناپسند کرتی ہیں اسی لیے ہربار اپنے ووٹ کا وزن ممتا بینر جی کی جماعت کے پلڑے میں ڈال دیتی ہیں جس کی وجہ سے یہ خاتون رہنما گزشتہ پندرہ برس سے وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر تھیں مگر اِس اہم ریاست پر مودی کی جماعت نے کچھ عرصہ سے نظریں مرکوز کر رکھی تھیں تاکہ مسلمانوں اور دلتوں کو یہاں بھی تیسرے درجے کا شہری بنایا جا سکے۔

انتخاب سے قبل مسلمانوں سے نفرت کو خوب ہوا دی گئی ہندو دھرم خطرے میں بتاکر ممتا بینرجی کو مسلمانوں کا خیرخواہ ثابت کیا گیا مزید یہ کہ انتخابی اصلاحات کے نام پر تیس لاکھ مسلمانوں کے ووٹ انتخابی فہرستوں سے ہی حذف کردیے گئے اِس طرح مسلم اکثریتی اضلاع دیناج پور اور مرشد آباد میں بھی ہندو اکثریت میں ہو گئے۔ دوم۔ اِس انتخابی واردات کے خلاف ممتا بینر جی ملک کی بظاہر سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ گئیں لیکن انتخابی واردات کے خلاف انصاف حاصل نہ ہوا یوں ثابت ہوگیا کہ زرائع ابلاغ کی طرح بھارت میں عدالتیں اور اِدارے بھی مو دی جیسے جنونی کی مُٹھی میں ہیں اور ملک کو جہنم بنانے کے عمل میں شریک ہیں۔

بی جے پی نے انتخابی مُہم کے دوران اِس نُکتے کو خوب ہوا دی کہ اگر ممتابینر جی کی جماعت ترنمول کانگرس جیت گئی تو بنگلہ دیش سے لاکھوں مسلمان مغربی بنگال میں آجائیں گے جس کی وجہ سے ہندو کے ووٹ متحد ہو گئے۔ اب تو تجزیہ کار واضح طور پر کہنے لگے ہیں کہ مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بعد پاکستان کی طرح کا رویہ بھارت کا بنگلہ دیش سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں بی جے پی نے مسلم ووٹ تقسیم کرنے کے لیے ایک اور چال چلی کہ اسد الدین اویسی کو اُکسایا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار مغربی بنگال میں کھڑے کریں جس پر مذہبی لبادے میں لپٹا یہ بہروپیا جھٹ آمادہ ہوگیا۔

یہی شخص گزشتہ برس مئی 2025کے آپریشن سندورکے بعد وفد لیکر مُسلم ممالک میں گیا اور بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی پُرزور تردید کی جس سے عالمی سطح پر بھارت اور بی جے پی کا تشخص بہتر بنانے میں مدد ملی۔ اب مغربی بنگال میں مسلمانوں کو موجودہ حیثیت میں لانے میں یہ شخص بھی برابر کا ذمہ دارہے۔ انتخابی نتائج آتے ہی اب جبکہ مسلمانوں پر حملے اور مساجد کے نشانات کی توڑپھوڑ شروع ہے تو یہ سیکولر جماعتوں کو ایک ہونے کا درس دینے لگا ہے مگر اسدالدین اویسی بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود اندر سے مودی اور اُس کی جماعت کے ساتھ ہے اویسی مغربی بنگال کی طرح کا کردار مہاراشٹر، اُترپردیش اور بہار کے ریاستی انتخاب میں بھی ادا کر چکا ہے۔

مودی اور اُس کی جماعت کی کارکردگی بہت خراب ہے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی عروج پر ہیں مگر تمام تر خامیوں اور نالائقیوں کے باوجود بی جے پی کا جیت جانا ظاہر کرتا ہے کہ ہندوتوا تحریک بھارت میں پولیس، فوج اور عدالتوں تک میں سرایت کرچکی ہے اسی لیے تمام اِدارے مودی کی پشت پناہی کر رہے ہیں ظاہر ہے۔ ایسی صورت میں ملک میں صاف شفاف انتخاب ممکن نہیں۔ خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا بھی بھارت کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے تاکہ ملک خامیوں کی طرف عوام کی نظر ہی نہ جائے مگر بھارت میں مسلمانوں، دلتوں، سکھوں اور عیسائیوں پر ایک نہ ایک دن عالمی رائے عامہ کو جلد صدائے احتجاج بلند کرنا ہوگی وگرنہ بھارت نے جہنم کی طرف جو سفر شروع کیاہے وہ خطے کے ساتھ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بناجائے گا۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت میں مذہبی تعصب کے ساتھ جوڑ توڑ کا بھی عمل دخل ہے انتظامی سطح پر کی جانے والی ہیراپھیریوں کا بھی حصہ ہے جب فوج، پولیس، حکومت اور عدلیہ سب کی سوچ یکساں ہو تو رائے دہندگان کے حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالنا آسان ہو جاتا ہے تیس لاکھ مسلم ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کرنا نتائج لوٹنے کے ساتھ جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے ساتھ بھارت میں جمہوریت کی عمارت زمین بوس ہو چکی آسام کی طرح یہاں بھی انسانی حقوق کی باتیں خواب وخیال بن جائیں گی بھارت میں اقلیتوں کے لیے زمین پہلے ہی تنگ تھی اب مذہبی تعصب، نفرت اور تشدد کا مزید رقص ہوگا اِس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ اترپردیش، ہریانہ مدھیہ پردیش، آسام، گجرات اور دہلی جیسا سلوک اب مغربی بنگال میں بھی اقلیتوں سے ہوگا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais