Friday, 05 June 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Gilgit Baltistan Ka Intikhabi Maarka Aur Shikway

Gilgit Baltistan Ka Intikhabi Maarka Aur Shikway

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 33 نشستیں ہیں یہ اسمبلی 2009 میں گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت بنائی گئی اب یہاں کے لوگ مکمل صوبائی درجہ چاہتے ہیں تاکہ قومی مالیات میں حصہ اور سینٹ میں نمائندگی ملے۔ تینتیس میں سے چوبیس نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے چھ اور تین ٹیکنو کریٹ کے لیے مخصوص ہیں۔ کل سات جون کو گلگت بلتستان کے دس اضلاح کے لوگ مقامی اسمبلی کی چوبیس جنرل نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ اِس حوالے سے جاری انتخابی مُہم نکتہ عروج پرہے قومی قیادت کی آمد نے انتخابی معرکہ نہایت دلچسپ اور جاندار بنا دیا ہے۔

مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ یہاں اپنی ہی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف صف آراء ہے جبکہ تحریکِ انصاف بھی اپنے وجود کا بھرپور احساس دلا رہی ہے حالانکہ اُس کے امیدوار مختلف نشانات کے ساتھ میدان میں ہیں۔ آزاد اُمیدواروں کی بڑی بڑی تعداد بھی قسمت آزمانے کے لیے میدان میں ہے مگر یہاں اصل مقابلہ مذکورہ بالا تینوں جماعتوں میں ہے جو علاقے کو گلستان اور مسائل فری بنانے کی دعویدار ہیں کیسی عجیب بات ہے کہ تینوں اقتدار میں آکر کچھ نہ کر سکیں۔ انتخابی جائزے ن لیگ اور پی پی کے حق میں ہیں لیکن یہ حرفِ آخر نہیں بلکہ آئندہ حکومت اتحادی تشکیل پانے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔

پہاڑوں اور وادیوں کی یہ سرزمین سیاحت کا مرکز بن سکتی ہے مگر انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تک رسائی مشکل ہے روزگار اور صحت کے مسائل بھی ہیں اب تو پانی اور صفائی کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے مزید کام کی ضرورت ہے اِن مسائل کے حوالے سے وعدے تو کیے جاتے ہیں مگر کامیابی کے بعد یکسر بھلا دیا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں ایک بے تُکی بات کے سوا کچھ نہیں اگر اِس پروگرام سے فائدہ اُٹھانے والوں کو ہُنرمند ہونے سے مشروط کردیا جائے تو بہتر ہے۔ ہُنر سکھانے والے اِداروں کے زریعے لوگوں کو ہُنرمند بنا کر معاشرے کے کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ اِس طرح ملک سے غربت اور بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے اِس کے لیے بنگلہ دیش میں گرامین بینک اور محمد یونس پروگرام سے مدد لی جاسکتی ہے مگر پیپلز پارٹی بضد ہے کہ لوگوں کو گھر بیٹھے پیسے دیکر گداگر بنانے کی ترغیب دی جائے۔ پنجاب کے حقوق پر سودا کرنے کے لیے تیار ہونے کان لیگ پر الزام لگانا علاقائیت کو فروغ دینا ہے۔

نواز شریف نے اچھا کیا جو اپنی جماعت کے کارکنوں کو متحرک کرنے جا پہنچے لیکن اُن کے شکوے سمجھ سے باہر ہیں وہ گلگت بلتستان کے لوگوں سے دریافت کرتے پھرتے ہیں کہ اُنھیں کیوں نکالا گیا اور یہاں کے لوگ اِس پر کیوں خاموش رہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے بعد اُنھی کی فرمائش پر اُن کی جماعت کے شاہد خاقان عباسی وزیرِ اعظم بنے۔ آج بھی مرکز میں اسی جماعت کی حکومت ہے ایسے ہی شکوؤں کی وجہ سے مقامی لوگوں میں یہ جماعت وہ پزیرائی حاصل نہیں کر سکی جس کی توقع تھی البتہ مرکز میں حکمران ہونے اور مریم نواز کی طرف سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کلینک آن وہلیز نے مقامی لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے جس سے اندازہ ہے کہ ن لیگ اچھی تعداد میں نشستیں جیت جائے گی۔ اگر نواز شریف اپنا بیانیہ روزگار، تعمیر وترقی، موٹر وے اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی والا اپناتے تو صورتحال مزید بہتر ہوسکتی تھی لیکن بے موقعہ شکایات نے کمزور ہونے کا تاثر پختہ کیا ایسا تاثر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں فائدے کی بجائے نقصان دیتا ہے۔ سعد رفیق کی طرف سے گلگت بلتستان کراچی جیسا کھنڈر بنانا یا پنجاب جیسی ترقی دینی ہے فیصلہ عوام کریں جیسا مطالبہ اتحادیوں میں دوری بڑھا سکتا ہے جس کی وفاقی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی۔

تحریکِ انصاف کا شکوہ ہے کہ آٹھ فروری 2024 کو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کی طرح اب بھی ہاتھ ہورہا ہے۔ اُسے گلگت بلتستان میں بطور پارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی نہ صرف اہم رہنماؤں کو گلگت بلتستان میں داخل ہونے سے روکا گیا بلکہ جو چند ایک رہنما کسی طرح آنے میں کامیاب ہوگئے تو اُنھیں علاقہ بدر کردیا گیا۔ یہ جماعت انٹرنیشنل ائرپورٹ بنانے، ڈیم متاثرین کے نقصانات پورا کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے جیسے کام بطور کارنامے پیش کررہی ہے۔ ایک حیران کُن پہلو یہ ہے کہ انتخابی عمل پر تحریکِ انصاف کے علاوہ پیپلز پارٹی کو بھی تحفظات ہیں۔ ایک ایسی جماعت جو مرکز میں اتحادی ہے اور چاروں صوبوں میں اسی کے نامزد گورنر ہیں کی طرف سے تحفظات ناقابلِ فہم ہیں شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُسے ن لیگ سے کم ووٹ ملنے کا معلوم ہوگیا ہے اور متوقع خفت مٹانے کے لیے ایسا بیانیہ بنارہی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل کو صاف شفاف اور آزادانہ بنانے کے لیے کئی قابلِ تعریف اور قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں جن میں امن و امان کی بحالی کے لیے حفاظتی دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔ چیئرمین نادرا جنرل محمد منیر سے ملاقات کے دوران ووٹر فہرستوں کی درستگی اور بروقت اپڈیٹس کے لیے مدد لی ہے یہ اشتراک انتخابی عمل کی شفافیت، درستگی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اِس کے بعد شاید ہی کسی کو یہ شکوہ رہے کہ وہ مقامی ہے اور نام فہرست میں شامل ہونے کے باوجود پسندیدہ امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکا مگر ن لیگ، پی پی اور تحریک انصاف کے شکوے و شکایات کے مدِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ ہارنے کی صورت میں شاید ہی کوئی جماعت شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ کرے۔ تحریکِ انصاف کو تو پہلے ہی جنید اکبر خان کی علاقہ بدری اور اسد قیصر کو ائرپورٹ جانے سے روکنے کے لیے راستے بند کرنے کا شکوہ ہے تعجب تو دونوں حکمران جماعتوں ن لیگ اور پی پی کے شکووؤں پر ہے۔

عرصے بعد ملک میں سیاسی استحکام آیا ہے حکومت کوشش کرے کہ یہ سیاسی استحکام برقرار رہے تاکہ سرمایہ کاری کا عمل تیز اور پیداواری شعبہ بہتر ہو۔ سیاسی استحکام کا ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا اِس وقت ہر شعبہ زوال اور جمود کا شکار ہے جو بے روزگاری اور مہنگائی بڑھانے کی اہم وجہ ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ خطے کی حساسیت کے پیشِ نظر گلگت بلتستان میں جو بھی جماعت اکثریت حاصل کرے اُسے حکومت بنانے دی جائے اِس طرح ہی خطے میں سیاسی استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais