Wednesday, 15 April 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Muzakrat Se Musbat Umeeden

Muzakrat Se Musbat Umeeden

امریکہ اور ایران مزاکرات سے کچھ زیادہ توقعات بھی نہیں تھیں لیکن معاہدہ نہ ہونے کے باوجود مزاکراتی عمل کو مکمل طور پر ناکام نہیں کہہ سکتے۔ دراصل آج بھی امریکی حلقے انقلابِ ایران کے دوران امریکیوں سے ہونے والے سلوک کو نہیں بھول سکے جس کی پاداش میں ایران پر پابندیاں ہیں لیکن یہ کیا کم ہے کہ دونوں ممالک کی اعلٰی قیادت آمنے سامنے بیٹھی اور ایک دوسرے کے خیالات کو تحمل سے سنا۔ ویسے توقبل ازیں عمان اور جنیوا میں دونوں ممالک بات چیت کرچکے لیکن وہ ایک محدود عمل تھا اور عین معاہدے سے قبل اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے امریکہ کو بھی لڑائی میں گھسیٹ لیا لیکن اسلام آباد مزاکرات کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اعلانیہ بات چیت میں شرکت کی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ہاتھ ملایا دونوں نے اپنے وفود کے ساتھ اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا۔ بظاہر اسلام آباد مزاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے وفود کسی معاہدے کے بغیر واپس لوٹ گئے ہیں لیکن سفارتی زرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جس طرح متحارب ممالک کو آمنے سامنے لا بٹھایا ہے کے مثبت اثرات کی بدولت جلد ہی مزاکراتی عمل دوبارہ بحال ہو سکتا ہے جو مستقل جنگ بندی کی بنیاد بننے کے ساتھ دونوں ممالک میں تعلقات کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان معاشی حوالے سے کوئی مضبوط اور خوشحال ملک نہیں بلکہ قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اسی لیے جب امریکہ اور ایران میں بات چیت کی خبریں زرائع ابلاغ میں آنے لگیں تو عالمی امور پر دسترس رکھنے والے حلقے بھی ابتدا میں حیران ہوئے مگر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرنے دونوں ممالک کے اعلٰی سطحی وفود کی اسلام آباد بیٹھک میں شرکت کو یقینی بنایا اور کوشش کی کہ کسی طرف سے ہونے والی شرارت اثر انداز نہ ہو سکے حالانکہ جب بات چیت کا دن، وقت اور مقام طے پاگیا تو اسرائیل نے حملوں سے ایران کو بڑھکایا ردِ عمل کے طورپر طیش میں آکر ایران نے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا ڈالا۔

اِتنے حساس اور نازک لمحات میں اسرائیل و ایران نے جس غیر ذمہ داری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اُسے سوائے حماقت کے کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا مگر پاکستانی قیادت نے حکمت، تدبر اور فہم و فراست سے ایسی نوبت نہ آنے دی جس سے خطہ مزید تباہی کا شکار ہو۔ یہ ایسی خوبی ہے جس کا شاید کئی دہائیوں تک تذکرہ ہوتا رہے معاشی لحاظ سے غیر مستحکم ملک کا عالمی سفارت کاری کا مرکز بننا ایسا انوکھا واقعہ ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی بلکہ اب معاشی حالت بہتر ہونا بھی نوشتہ دیوار ہے۔

اِس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ امریکہ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے کہنے پر کیا جواب میں ایران نے جو ثابت قدمی اور دلیری دکھائی وہ امریکی اندازوں اور توقعات سے بڑھ کر تھی۔ امریکہ کا خیال تھا کہ حملے شروع ہوتے ہی عراق اور لیبیا کی طرح سیاسی حوالے سے غیر مستحکم ایران میں سیاسی قیادت تبدیلی کی تحریک تقویت پکڑے گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ بیرونی حملوں سے ملک میں سیاسی استحکام آیا عوام اور ایرانی قیادت متحد ہوکر حملہ آور قوتوں کے مقابل آئیں۔ آیت اللہ خامنائی کے فرزند مجتبیٰ خامنائی جیسے سخت گیر کا سپریم لیڈر بننا ایسا جواب تھا جس نے امریکی قیادت کو چونکا دیا۔

امریکی بحری بیڑے پر حملے، حملہ آور لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر ایرانی میزائلوں اور ڈرون کے برسنے نے دنیا کو حیران کردیا جس کی وجہ سے یورپی ممالک کے ساتھ دیگر کئی اہم اتحادی بھی امریکہ کا ساتھ دینے سے انکاری ہوئے۔ دراصل امریکہ کا ایران پر حملہ ہی ایک حماقت تھی مزید یہ کہ اگر ایرانی میزائلوں سے امریکہ محفوظ تھا تو بھاری اخراجات کے باوجود اُسے ایران کے اندر سے حمایت حاصل نہ ہوسکی حالانکہ کُرد باغیوں کو اسلحہ بھی دیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ امریکہ محافظ کا عرب خواب ٹوٹ چکا ہے۔

سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے تو قطر بھی امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں ہے۔ عراق میں ویسے ہی امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں لہذا عرب امارات اب جارح امریکہ اور اسرائیل کا لاکھ ساتھ دینے کی کوشش کرے تو بھی سچ یہ ہے کہ خطے میں امریکی رسوخ کم ہونا یقینی ہے۔ کیا یہ کم حیرن کُن پہلو ہے کہ آبنائے ہُرمز کو ایران سے واگزار کرانے کا دعویدار امریکہ اب خود ناکہ بندی کرنے پر آگیا ہے؟ یہ عمل اعترافِ شکست ہے کہ جدید ترین فضایہ اور ہتھیاروں کے باوجود امریکہ خطے میں مشکل سے دوچار ہے اسی بنا پر ہی تو پاکستان کا کندھا ملتے ہی مزاکرات پر رضامند ہوگیا۔

فضایہ سے محروم ایران سے امریکہ اور اسرائیل بہت دور ہیں مگر میزائل اور ڈرونز سے اُس نے کسی حدتک اپنی خامیوں کو ڈھانپ لیا لیکن ایران کے اندر غداروں نے ملک کا بھاری نقصان کرا دیا ہے۔ ایران میں ہونے والی تباہی ہولناک ہے جس کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ اِس نقصان کو پورا کرنے کے لیے بھاری رقوم کے ساتھ کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں سے اچھے مراسم ہیں اسی لیے جب جنگ رکوانے کی تجویز دی تو امریکہ اور ایران دونوں نے مثبت ردِ عمل ظاہر کیا۔

ایسی خبریں منصہ شہودپر آچکی ہیں کہ اسلام آباد آنے والے ایرانی وفد کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر پاکستان نے نظر ثانی کرائی نیز سعودی عرب کو بھی جواب میں ایران پر حملے سے باز رکھا۔ یہ مہربانیاں ایران سے ڈھکی چھپی نہیں اسی لیے دیگر ممالک سے زیادہ ایران نے پاکستان کو زیادہ قابلِ بھروسہ تصور کیا جس کی قیادت ٹرمپ کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے۔ ایرانی وفد کو باحفاظت پاکستان لانے جیسا کارنامہ شاید ہی ایران یا دنیا بھول سکے۔ اب بھی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کی جو بنیاد پاکستان نے رکھ دی ہے اُس پر امن کی پائیدار عمارت تعمیر کرنا آسان ہے۔

خوش قسمتی سے پاکستان کی موجودہ قیادت معاملا فہم اور دوراندیش ہے جسے امریکہ اور ایران کے فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی حاصل ہے۔ یہ پہلو بہت اہم ہے امریکہ کی طرح ایران کو بھی توقع، اعتماد اور یقین ہے کہ پاکستان اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچائے گا۔ یہ توقع، اعتماد اور یقین ہی امن کے راستے کی نشاندہی کرتا ہے لہذا مایوسی والی کوئی بات نہیں کسی وقت بھی ایسی اطلاعات منظرِ عام پر آسکتی ہیں کہ امریکہ اور ایران دوبارہ مزاکرات کریں گے کیونکہ ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر امریکہ رضا مند ہے تو ایران بھی جوہری منصوبے پر نظر ثانی کرنے کو آمادہ و تیار ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais