Friday, 07 August 2026
  1. Home/
  2. Khalid Mahmood Faisal/
  3. Ashrafia Ka System Collapse Kyun Nahi Hota

Ashrafia Ka System Collapse Kyun Nahi Hota

وزیر داخلہ ایک ایسی ریاست کے وزیر باتدبیر ہیں، جس میں دنیا بھر کی نعمتیں موجود ہیں، شائد ہی کرہ ارض پر ایسا کوئی ملک ہو، جس میں چاروں موسم، لہلاتے کھیت، سنگلاخ چٹانین، بہتے دریا، طویل و عریض صحرا اور گہرا سمندر ہو، جہاں دن بھر سورج چمکتا اور رات ستارے ٹمٹاتے ہو، برف پوش پہاڑ اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہوں، مرغزاروں سے مزین، حسین وادیوں کا یہ مسکن ہو، دن بھر ٹھندی ہوائیں چلتی ہو، سمندری گزر گاہوں سے بڑے بحری جہاز ذریعہ تجارت ہوں، زیر زمین معدنیات کی دنیا آباد ہو، اس کی مٹی ذرخیز ہو، قدرتی چشمے، گرتی آبشاریں محسور کن ماحول میں موسیقی کے رنگ بھرتی ہوں، تابنا، لوہا اور نمک کی کانیں اسکے، مالی اور مادی وسائل ہوں، محنت کرنے والے جفاکش افراد اس کا اثاثہ ہوں، دودھ پیداکرنے والی ریاست اپنا مقام رکھتی ہو، اس کے کسان مٹی کو سونے میں بدلنے کا فن جانتے ہوں، خلیجی ریاستوں کو آباد کرنے کا سہر ا اس کے مزدوروں کے سر ہو، دنیا بھر میں اس کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دانوں کا طوطی بولتا ہو، اس ریاست کے نظام پر ناکامی کا الزام نہیں دھر جاسکتا ہے، اس کو چلانے والے شائد ناکام لوگ ہوں مگر ریاست ہر گز نہیں ہو سکتی۔

کیا موصوف نہیں جانتے کہ اسکی پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے والے بابا ئے قوم کی تصویر کے سامنے یہ عہد نہیں کرتے کہ وہ اس ریاست سے وفا کریں گے، اس کی عزت، ناموس پر آنچ نہیں آنے دیں گے، اس کے اثاثوں کی حفاظت کریں گے، کیا ایسا ہی حلف دیگر اداروں کے سربراہاں نہیں لیتے جن کے ناتواں کندھوں پر اس ملک پر سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔

کیا ریاست میں ایک منظم نظام موجود نہیں، ریاست اور حکومت کے سربراہ سے لے کر، صوبہ جات کے گورنر اور وزرا اعلیٰ اور اسی طرح افسر شاہی کی درجہ بندی کیا موجود نہیں، سماجی اور قانونی ادارے ہمہ وقت عوام کی خدمت پر مامور نہیں ہیں، پھر یہ سوال اٹھانا ہی بے معنی ہو جاتا ہے، کہ نظام کولیپس کر گیا ہے۔

آپ کا تعلق وزراء کرام کی جس کلاس سے ہے بھلا انہیں کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا؟ آپ کو ریلیف لینے میں مشکل پیش آئی ہو، کسی نے آپ کی بات کو اہمیت نہ دی ہو، کسی تھانہ، کچہری میں آپ کو مایوس لوٹنا پڑا ہو، کسی آفیسر نے آپ کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہو، کم بیش ایسا ہی رویہ پارلیمنٹرین کے ساتھ روارکھاجاتا ہے، اس بات کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے، کہیں کوئی گستاخی سرزد نہ ہو جائے۔

اس وقت جو کلاس ہماری پارلیمنٹ میں موجود ہے، اس کا تعلق سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، گدی نشیوں سے ہے، ہر پارلیمنٹ میں ان سے متعلقین ہی پائے جاتے ہیں، اب عسکری ادارہ نے بھی شہادت دے دی ہے، 1973 سے چند گنے چنے خاندان ہی ہماری سیاست کا حصہ ہیں۔

دل پر ہاتھ کر کہیے کیا سماج میں اس کلاس کو کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہر علاقہ، ضلع میں سینکڑوں سرکاری ملازمین حکم بجا لانے کے لئے انکے چشم ابرو کے اشارہ کے منتظر رہتے ہیں، ہماری تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اس ریاست میں اشرافیہ ہی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہے، جس کو سرکاری اور غیر سرکاری طور ہر نعمت میسر ہے، اس کے پر وٹوکول کا معاملہ ہو، یا مراعات کا حصول اس طبقہ پر کبھی خزاں نہیں آتی، سچ یہی ہے کہ ہمارا سیاسی نظام ان کے دم سے ہے، نجانے وزیر داخلہ کو یہ نظام ناکام کیوں نظر آرہا ہے۔

موصوف نے یہ شعلہ بیانی تاجر برادری میں کی تھی، ممکن ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان کی ناقص صورت حال کا انکی زبانی سن کر ان کا دل بھر آیا ہو اور فرط جذبات پر قابو نہ رکھنے کی وجہ سے یہ بیان داغ دیا ہو۔

ہم ان کے گوش گزار کرتے ہیں، کہ نظام کی خرابی کا تعلق اشرافیہ سے نہیں بلکہ عام شہری سے ہے، سچ پوچھیں تو اس کے پاس سرے سے کوئی نظام ہی نہیں، اسکی ناکامی یا گرنے کا سوال پیدا ہی کیوں ہو۔

ریاست اسکی کونسی ذمہ داری پوری کر رہی ہے، عام فرد نے علاج کروانا ہو تو پر ائیویٹ ہسپتال کو رخ کرتاہے، بچوں کو تعلیم پرائیویٹ اداروں سے دلواتا ہے، اپنی حفاظت کے لئے سیکورٹی کا اہتمام خود کرتا ہے، بجلی کا انتظام وہ سولر کی تنصیب سے کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کے لئے اسے ذاتی سواری رکھنا پڑتی ہے، گیس کی عدم موجودگی میں سلنڈر رکھنا پڑتا ہے، صاف پانی پینے کے لئے گھر میں فلٹر کا اہتما م اسے اپنی جیب سے کرنا پڑتا ہے، تھانہ کچہری میں عام شہری سے کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے، سب پر عیاں ہے بغیر کی حوالہ کے وہ اپنے ساتھ ہونے ناانصافی کی رپورٹ درج نہیں کروا سکتا، سنتری باشادہ جب چاہے اسے کسی بھی الزام دھر سکتا ہے، مہنگے انصاف کے حصول کے لئے عمر خضر درکار ہوتی ہے، بے روزگاری کا دکھ عام شہری کا بچہ اٹھاتا ہے، بیرون ملک سوار ہوتے ہوئے ائر پورٹ پر آف لوڈ ہونے کادھڑکا لگا رہتا ہے، وہ کونسا بلیو پاسپورٹ رکھتا ہے، عام شہری کی زمین یا پلاٹ پر کوئی قابض ہو جائے وہ جیتے جی مر جاتا ہے، ڈکیت اسے گھر کی چوکھٹ پر ڈھیر کر دیں ساری حیاتی لواحقین انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، سر شام کسان کا مال مویشی کوئی چور کھول کر لے جائے تو کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

وزیر داخلہ کی اس طبقہ سے متعلق سسٹم کے کولیپس ہونے کا دعو ی ٰ اگرہے، تو اس میں رتی برابر شک نہیں ہے، کیونکہ اسے ایلیٹ کلاس کے ملازمین کی طرح بھاری بھر مراعات، جان، مال عزت آبرو کا تحفظ میسر نہیں، وڈیروں، جاگیردارو ں، سرداروں، گدی نشیوں جیسا مال ودولت، رعب اور دبدبہ دستیاب نہیں۔

تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود ریاست عام شہری کومراعات اور سہولیات نہ دے سکی، جو مراعات یافتہ طبقہ کا مقدر ہے، ملکی آئین کے باوجود اپنے حقوق سے محروم کیوں ہیں، سماجی، معاشی نا ہمواری کی سزا عام شہری کو ہی کیوں مل رہی ہے، بنیادی سہولیات کا حصول اس قدر مشکل کیوں بنا دیا گیا ہے کہ جان اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے، زرخیزمٹی سے خوشحالی اس کا مقدر کیوں نہیں، اگرایسے سوالات موصوف کے تحت الشعور میں زیر گردش ہیں، جو نظام کی ناکامی کی شہادت ہیں، تو انکی بات میں بڑا وزن ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ سسٹم کو ناکام بنانے والوں کے اسماء گرامی بھی بتا دیتے توقوم انہیں دوبارہ مسند اقتدار تک لانے سے اجتناب کرتی، موصوف یہ بتا سکتے ہیں کہ اشرافیہ کا سسٹم کولیپس کیوں نہیں ہوتا؟

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui