وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر پر بہت سارے تبصرے ہوچکے، اس کی بنیا د پر نظام لپیٹنے کی پیشین گوئیاں ہوچکیں اور میرا سوال ہے کہ کیا آپ نے محسن نقوی کی پاکستان کی فرسٹ اکنامک سمٹ کانفرنس میں تقریر سنی ہے؟ یہ سوال میں نے اپنے سینئر صحافی دوست سے کیا جو مجھے بتا رہے تھے کہ اسلام آباد میں سب اچھا نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات کہاں سے آئی ہیں تو انہوں نے حکومت کے دو بڑوں کے نام لئے جنہوں نے انہیں خود بتایا ہے کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔
اب ظاہر ہے کہ میری ان دو بڑوں تک رسائی تو موجود ہے مگر میں یہ نہیں پوچھ سکتا کہ آپ اپنی ہی حکومت کے خلاف اپنے ہی دوستوں کو انفارمیشن کیوں رہے ہیں۔ موجودہ افواہوں کی بنیاد وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر ہی بن رہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی بات پر کنفرم خبریں دینے والوں کی اکثریت نے آدھے گھنٹے سے کچھ کم وقت کی وہ تقریر سنی ہی نہیں۔ میری عادت ہے کہ میں نے جس شے پر تبصرہ کرنا ہوتا ہے یا جس پر دوستوں سے معلومات لیناہوتی ہیں اس کو پہلے خود سنتا ہوں، خود اس کا تجزیہ کرتا ہوں اوراس کے بعد سوال۔
یہ بہت ہی دلچسپ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی وہ تقریر حکومت کے خلاف ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی ناکامی پر کوئی چارج شیٹ بلکہ وہ تو ستر اسی برس کی ناکامیوں کا ذکر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر ہیں ورنہ بہت آگے ہوتے اور اس سے بھی دلچسپ یہ ہے کہ وہ اس تقریر میں تقریباََ تین مرتبہ وزیراعظم شہبا ز شریف کی سخت محنت کا ذکر کر رہے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر سسٹم ٹھیک کر لیا جائے تو بیس بیس گھنٹے کی اس محنت سے بڑے نتائج لئے جا سکتے ہیں۔
میرے تجزیہ کار دوست ان کی تقریر سے جو مطالب بین السطور نکال رہے ہیں وہ ان کی واضح کہی ہوئی سطروں میں بھی نہیں ہیں جیسے کہ انہوں نے تقریر کے بعد سوال پوچھنے پر کہا اور یہ باقاعدہ رپورٹ ہوا کہ موجودہ حکومت کہیں نہیں جا رہی، وزیراعظم شہباز شریف اپنی مدت پوری کریں گے۔ ا نہوں نے اپنی تقریر میں جب فیلڈ مارشل کو اللہ کی رحمت قرار دیا کہ وہ کامیابیاں سمیٹ کر لا رہے اور پلیٹ میں رکھ کر پیش کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہتے اور یہ کہ وہ سب چیزیں سسٹم میں رہ کر ہی ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔
آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں، جب اگلے روز پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نئے صوبوں کی تجویز کو محسن نقوی کی ذاتی رائے قرار دینے کے باوجود اس کی حمایت بھی کی تو ا س کے باوجود پوری کوشش تھی کہ اس کا حکومت مخالف تاثر نہ جائے یا کم از کم ذمہ دار میڈیا میں، کیونکہ سوشل میڈیا تو شتر بے مہار ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ مجھے کیسے علم تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں یوٹیوبر نہیں ہوں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ذمہ دار صحافی ہوں اور مجھے وہ بات نہیں کہنی جس سے لوگ خوش ہوں، مجھے وہ بات کہنی ہے جو سچ ہو، جس کا میرے پاس ثبوت موجود ہو۔
بہرحال، اس پر سوال یہ ہے کہ اگر حکومت فوج لڑائی والا معاملہ ہی نہیں تو پھر وزیر داخلہ کو ایسی تقریر کرنے کی ضرورت ہی کیوں تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے پتا کریں کہ پاکستان کی فرسٹ اکنامک سمٹ کانفرنس کا انعقاد کس نے کروایا تھا اور اس کے مدعوئین کون تھے اور اس کا خرچہ کس نے اٹھایا تھا۔ جب آپ کو یہ پتا چل جائے تو اس کانفرنس کی تقاریراور بریفنگز کو دیکھیں۔ وزیر داخلہ کی تقریر سے پہلے وہاں میاں عامر محمود کی بریفنگ تھی جس میں وہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کا مقدمہ کامیابی سے پیش کرتے ہیں۔
میرے بہت سارے دوست اس ظہرانے میں موجود تھے جس میں میاں عامر محمود صاحب نے ہمیں اس پر گھنٹوں لمبی بریفنگ اور ہمارے سوالوں کے جواب دئیے تھے۔ اگر کسی کو محسن نقوی صاحب اور جناب میاں عامر محمود کے تعلق کا علم نہیں تو میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اتناضرور کہوں گا کہ یہ تقریر اسی بریفنگ کاتسلسل تھی۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ میاں عامر محمود حقیقت میں فوج ہی کے کہنے پر یہ مطالبہ پیش کر رہے ہیں تو مجھے یاد آتا ہے کہ میاں عامر محمود سے پوچھا گیاتو انہوں نے بتایا کہ وہ یہ تجویزاس وقت سے پیش کر رہے ہیں جب انہوں نے لاہور کے ناظم کے طور پر ایڈمنسٹریٹو ایکسپرینس کیا۔ وہ اس پر کئی برس پہلے ایک کتابچہ بھی شائع کر چکے ہیں اور کئی برس پہلے میرے بھائیوں کی طرح محترم سینئر صحافی کے ساتھ اس پرمیاں نواز شریف کو بھی ایک بریفنگ دے چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی میاں نواز شریف نے اس تجویزسے اتفاق نہیں کیاتھا تو میاں عامر محمود نے ان سے کہا تھا کہ کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ مسلم لیگ نون کے قائد کے طور پر پہلے ایک وزیراعلیٰ ان کے دروازے کے باہر بیٹھا ہوتا ہے اور اس پر عمل کے بعدچار، چھ یا آٹھ بیٹھے ہوں گے؟
میں قائل ہوں کہ نئے صوبوں کی بات چائے کی پیالی میں طوفان ہے اور ابھی میں ایک اور سینئر صحافی کی پوسٹ دیکھ رہا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حکومت کو نئے صوبے بنانے کے حوالے سے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تو میرا ہاسا ہی نکل گیا۔ کیا آپ فوج اور حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بچے سمجھتے ہیں؟ سچ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو آن بورڈ لئے بغیر محفوظ شہید کینال تک نہیں بنائی جا سکی تھی تو کیا صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
میں واپس وزیر داخلہ کی تقریر کی طرف جاؤں گا اور فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کی طرف بھی، کسی ایک جگہ بھی یہ بات موجود نہیں ہے کہ یہ کام ڈنڈے سے ہونا ہے، اس کام کوسیاسی جماعتوں نے کرنا ہے اور ان سے ہی کہا جا رہا ہے کہ وہ مل بیٹھ کے گورننس کے مسائل کا حل نکالیں۔ ا ب اگر سیاسی جماعتیں نئے صوبے نہیں بنانا چاہتیں تو ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہی بنا لیں کہ یہ بھی اس کا متبادل ہوسکتا ہے مگر اس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا کہ حکومت اور فوج میں کوئی اختلافات پید ا ہو گئے ہیں تو ایسے دعوے چار سال تین ماہ سے کئے جا رہے ہیں اور اب بھی حالات جوں کے توں ہیں۔
ایسے دعوے کرنے والے پہلے عمران خان کی ملاقاتیں تو کھلوا لیں اس کے بعد دیکھیں گے کہ وہ باہر آ کر کوئی انقلاب لاتا ہے یا نہیں۔ وہ ایک مرتبہ پھراس کی صحت کے حوالے سے پروپیگنڈے اور اس کی بنیاد پر ملاقاتوں کی درخواستوں پر آ گئے ہیں تو مجھے یہ واقعی بے بس، لاچار اور بے چارے لگ رہے ہیں۔