Friday, 07 August 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. Action Committee Haar Gayi, Shahbaz Sharif Jeet Gaye

Action Committee Haar Gayi, Shahbaz Sharif Jeet Gaye

بہادر، جری، دور اندیش اور محب وطن کشمیریوں نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون کو جتوا کے اپنا فرض ہی ادا نہیں کیا بلکہ شہباز شریف کی محبتوں کا قرض بھی ادا کر دیا ہے۔ مجھے کہنے میں عار نہیں کہ آزاد کشمیر میں پاکستان کے وفاداروں اور غداروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا کہ بھارت دس مئی کو معرکہ حق میں بدترین شکست کے بعد بھی اگر آپریشن سندور کو جاری رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ آپریشن کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذریعے ہی ہے۔

کہیں اس کی نمائندگی بی ایل اے کرتی ہے کہیں ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم، کہیں ہمیں بھارتیہ ایکشن کمیٹی کا سامنا ہے۔ شہباز شریف کی محبتوں کا میں بعد میں ذکر کروں گا پہلے میں اس شکست کی بات کروں گا جو بھارت کے یاروں کو ہوئی ہے۔ میں مان لیتاہوں کہ راولا کوٹ میں ان کے پاس دو، چار نہیں پانچ، سات یا دس بارہ ہزار کا اکٹھ بھی ہوگا، انہوں نے پورے آزاد کشمیر میں انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دے رکھی تھی جس کا عوام نے بائیکاٹ کردیا۔ آپ کسی بھی ایل اے کا انتخابی نتیجہ اٹھا کے دیکھ لیں، ہر انتخابی حلقے میں آپ کو ان سے پانچ پانچ اور دس دس گنا زیادہ لوگ ووٹ کاسٹ کرتے نظر آئیں گے۔

آزاد کشمیر میں ووٹنگ کامجموعی ٹرینڈ پچاس فیصد سے اوپر ہی رہا ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ ایکشن کمیٹی ہی نہیں بلکہ اس کا سیاسی چہرہ پی ٹی آئی بھی انتخابات کے بائیکاٹ پر ہے۔ ثابت ہوا ایکشن کمیٹی کو یہیں پر شکست ہوگئی۔ میں اپنے ویلاگز اور تحریروں میں خوف کا اظہار کرتا رہا ہوں کہ پونچھ ڈویژن میں انتخابات مشکل ہوسکتے ہیں مگر میں نے جتنے بھی لوگوں سے بات کی ہے وہ پر امید ہیں، راولا کوٹ میں کوئی مشکل ہو تو ہو مگر باغ، حویلی، سدھنوتی وغیرہ میں الیکشن ہوجائیں گے یعنی مجموعی طور پر ایکشن کمیٹی کے بائیکاٹ کا ہی بائیکاٹ ہوگا۔

میری نظر میں کالعدم ایکشن کمیٹی نے اسی روز نظریاتی شکست کھا لی تھی جس روز مقبوضہ کشمیر سے آل پارٹیز حریت کانفرنس نے اس کو مہذب الفاظ میں مسئلہ کشمیر کی غدار اور حل کی راہ میں سازش قرار دے دیا تھا اور اب اے پی ایچ سی کے بانی چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھی جامعہ مسجد سری نگر میں اپنے خطبہ جمعہ میں کہہ دیا ہے کہ مہاجرین کے ووٹوں کی نفی نہیں کی جا سکتی، یہ کشمیریوں کے مجموعی حقوق کا حصہ ہیں، انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

جہاں تک ایکشن کمیٹی کے اس مطالبے کا تعلق ہے جو سب سے زیادہ متنازعہ ہے کہ جموں اور کشمیر کے مہاجرین اور ان کی اولادوں کو کشمیری ہی تصور نہ کیا جائے تو میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے غلام شاہ قادر نے کیا خوب جواب دیا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کی بات ہی مت کیجئے، ان پر انتخابات ہو گئے، بھرپور ووٹ پڑ گئے۔ وہ ارکان آزاد کشمیر کی اسمبلی کا حصہ بن گئے اوریہاں پر ایکشن کمیٹی کے مقابلے کشمیر کا نظریہ اور آئین جیت گیا۔

یوں بھی مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے میرے ساتھ گفتگو میں عبداللہ حمید گل نے کیا خوب دلیل دی کہ مہاجرین کے حقوق کا انکار کرنے والے نہ مسلمان ہوسکتے ہیں نہ پاکستانی او ر نہ ہی کشمیری۔ کیا خوبصورت بات ہے کہ ہمارے آقا، کالی کملی والے سرکار ﷺ، خود مکہ سے مدینہ مہاجر ہوئے تھے اور اس دور میں جو صحابہ مہاجر ہوئے، مہاجرین کہلائے، انصار مدینہ نے ان کے لئے اپنے گھروں اور باغات کے دروازے کھول دئیے، انہیں آدھی جائیدادوں کی ملکیت کی پیشکش کر دی۔ ہجرت پنجابیوں نے بھی کی جب پاکستان بنا اور انہوں نے پنجاب کو تقسیم کروا لیا، اپنی پہچان ہندوستانی سے پاکستانی کروا لی اور یہی معاملہ بنگالیوں اور کشمیریوں کے ساتھ رہا۔ یہاں زمینوں، جائیدادوں اور پہاڑوں میں سے کچھ حصہ نہیں مانگ رہے اور لے کیا رہے ہیں صرف ایک ووٹ کا حق جو استصواب رائے میں کشمیر کے مسلمانوں کی طاقت ہوگا۔

دوسری طرف دیکھئے کہ بھارت بیالیس لاکھ ہندووں کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ریفرنڈم کی صورت اس کا ووٹنگ کاشئیر بڑھ جائے اور دوسری طرف ایکشن کمیٹی ہے جو پاکستان کے حق میں ووٹوں کی تعداد کم کرنا چاہتی ہے، غداری اور کیا ہوتی ہے؟ یہ جس بھارت کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ اپنے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلا رہا ہے، وہاں کابینہ تک کا اجلا س اس کی منظوری کے بغیر نہیں ہوتا، وہاں تقرر و تبادلے منتخب وزیراعلیٰ نہیں بککہ لیفٹیننٹ جنرل کرتا ہے، وہاں کا منتخب وزیراعلیٰ عمرفاروق بھی یوم شہدائے کشمیر پر قبرستان نہیں جا سکتا اور اس کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی تک نظربند رہتی ہے۔

میں نے کالم کا عنوان رکھا کہ ایکشن کمیٹی ہار گئی، شہباز شریف جیت گئے تواس کے پیچھے حقائق ہیں، دلائل ہیں، اعداد وشمار ہیں۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے 13مئی 2024کو آزاد کشمیر کے لئے 23 ارب روپوں کا پیکج دیتے ہوئے آٹا 3100 روپے من سے کم کرکے 2ہزار روپے کر دیا تھا اور بجلی تقریباً مفت یعنی 3 روپے فی یونٹ۔ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت این ایف سی ایوارڈ تشکیل پاتا ہے جس میں صوبوں کے حصے ہیں مگر آزاد کشمیر تو ہمارا صوبہ نہیں، یہ تو الگ ریاست ہے جس کا اپنا صدر اور اپنا وزیراعظم ہے مگر ہم اس کے باوجود اس 3اعشاریہ 46فیصد کا شیئر دیتے ہیں۔

آزاد کشمیر کا بجٹ 286ارب روپوں کا تھا جس میں سے اڑھائی سو ارب غیر ترقیاتی جبکہ 36ارب ترقیاتی فنڈز کے تھے مگر آزاد کشمیر کی آمدن کسی طور پر بھی اسی، پچاسی ارب روپوں سے زیادہ نہیں اور اس میں سے 150 ارب کے قریب پاکستان دیتا ہے۔ معاملہ یہیں تک نہیں ہے بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت میں آنے کے بعد آزاد کشمیر کے لئے واٹر یوزر چارجز پندرہ پیسوں سے بڑھا کے ایک روپے دس پیسے کر دئیے اور اب ان کی وزارت عظمیٰ میں آزاد کشمیر کو اسی مد میں 12 ارب روپے سالانہ مل رہے ہیں۔ وزیراعظم کے پیکیج کے تحت آزاد کشمیر میں بجلی اور آٹے کے جو نرخ ہیں اس کا موازنہ بھارتیہ ایکشن کمیٹی بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے کر لے۔ وہاں بجلی پونے 7 روپے یونٹ ہے اور آٹا 3500 سے 4100روپے من، بھارت آٹا سکیم کے تحت راشن ڈپو کا ریٹ بھی 3220 پاکستانی روپے ہے۔

میری واضح، دوٹوک اور مدلل رائے ہے کہ شہبا زشریف نے ایکشن کمیٹی کو شکست دے دی ہے۔ محبت جیت گئی ہے اور نفرت ہار گئی ہے۔ جمہوریت جیت گئی ہے اور پروپیگنڈہ ہار گیا ہے۔ میں پُراُمید ہوں کہ اب آزاد کشمیر میں ایک بار تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا اور پوری وادی میں دوبارہ نعرہ گونجے کا کشمیر بنے گاپاکستان اور یہ کہ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور یہی ہم سب کی جیت ہوگی۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui