Thursday, 20 August 2026
  1. Home/
  2. Najam Wali Khan/
  3. CCD Ki Himayat Kyun?

CCD Ki Himayat Kyun?

سی سی ڈی یعنی پنجاب کا کرائم کنٹرول ڈپیارٹمنٹ، کاغذوں کے مطابق اس کا بنیادی فوکس عام روزمرہ پولیسنگ کی بجائے سنگین، منظم اور بین الاضلاعی جرائم پر ہے مگر اس کی وجہ شہرت فوری انصاف، ہے یعنی ایسے ملزم جعلی پولیس مقابلوں میں پار کر دینا جن کو عدالتوں کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نظر نہ آ رہا ہو۔ میں پہلے بھی سی سی ڈی پر لکھ چکا۔ میں نے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تصور اور طریقہ کارکی مخالفت کی تھی مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سی سی ڈی کو عمومی اور عوامی سطح پر (جس کا ہم اندازہ سوشل میڈیا سے لگاتے ہیں) بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔

ہمیں اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ سی سی ڈی کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی اور اس کو حمایت کیوں مل رہی ہے۔ کیا ہم ماورائے عدالت قتلوں کی حمایت کرسکتے ہیں۔ میں ماضی کے سینہ گزٹ کی طرف جاتا ہوں تو ایک دلیل ملتی ہے کہ پنجاب اور لاہور میں سندھ اور کراچی کی طرح کے مافیاز اور نو گوایریا نہ بننے کی بڑی وجہ ہی یہی تھی کہ نوے کی دہائی کے آخر میں امن و امان کے حوالے سے غیر روایتی فیصلے ہوئے اور وہ بہت سارے گینگسٹرز مار دئیے گئے جو مسئلہ بن سکتے تھے۔ پنجاب میں ایسی صورتحال کچے، میں بھی رہی جہاں سندھ کے کچے سے بھی اسے سپورٹ ملتی رہی مگر مریم نواز حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے کچے کو کلیئر کر دیا ہے۔

جی ہاں، سوال ہے کہ سی سی ڈی کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے اور سی سی ڈی کو عوامی حمایت کیوں ملتی ہے تواس کا جواب کہیں اور چھپا ہوا ہے۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے کہ ہم میں سے بہت سارے اپنے عدالتی نظام پر اعتماد نہیں رکھتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہاں سے انصاف نہیں ملتا، بہت ساروں کو ملتا بھی ہے مگر بہت ساروں کو نہیں بھی ملتا۔ ہمارا عدالتی نظام بہت پیچیدہ ہے اور یہی پیچیدگی جرائم پیشہ افراد کی معاون بن جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت ساروں کویقین ہے کہ یہ جوڈیشل سسٹم پیسے والے اور بااثر مجرموں کو نکل بھاگنے کے راستے فراہم کرتا ہے۔

میں ذاتی طور پر عدالتی نظام میں اصلاحات میں ناکامی کی ذمہ داری حکومتوں سے زیادہ خود ان سربراہان پر ڈالتا ہوں جو اس عدالتی نظام کو چلاتے ہیں۔ شائد وہ اسی نظام میں ایک عمر گزارنے کے بعداس کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اور انہیں یہ سب نہ تو عجیب لگتا ہے اور نہ ہی تکلیف دہ۔ میں اس کی ذمہ داری حکومتوں پر اس لئے نہیں ڈالتا کہ اگر عدلیہ کے اپنے بڑے اس سسٹم کو ٹھیک کرنے پر تیار ہوجائیں تو کوئی حکومت انہیں نہیں روک سکتی لیکن اگر کوئی حکومت اس سلسلے میں نیک نیتی سے بھی کوشش کرتی ہے تو اسے حکومت کی طرف سے مداخلت ہی نہیں بلکہ عدلیہ پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی سمجھا جاتا ہے۔ یوں بہت سارے حکمران خصوصی عدالتیں بنا دیتے ہیں جس کے ذریعے وہ کسی حد تک اس سسٹم کے متاثرین کی اشک شوئی اور ناقدین کا منہ بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ کوئی مستقل اور پائیدار حل نہیں ہے۔

میرے اس کالم کا موضوع سی سی ڈی ہے اور نہیں بھی، سی سی ڈی نے اب تک پونے سات سو مقابلوں میں کوئی ایک ہزار کے لگ بھگ بندے پھڑکا دئیے ہیں اور بہت سارے جذباتی مراحل ایسے بھی آتے ہیں کہ ہم جیسے آئین اور قانون پسندبھی اس کو جائزیت عطا کر دیتے ہیں اور اس کی وجہ صرف عدلیہ سے انصاف نہ ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ عدالتی نظام بہت لمبا ہوتا ہے اور لوگوں کے پاس صبر کم۔ کسی بھی جرم میں سزا پر بہت ساری اپیلیں ہوتی ہیں جو سپریم کورٹ تک عام طور پر ہی دس دس اور بار ہ بارہ برس لے جاتی ہیں اور یوں لوگوں کو بھول گیا ہوتا ہے کہ کون سا جرم تھا اور کون مجرم تھا۔

بات صرف ہم عوام کی ہی نہیں ہے جنہیں ماتحت عدالتوں کا ماحول بہت فرسودہ ہی نہیں بلکہ مہنگا بھی لگتا ہے بلکہ دوسری طرف عدلیہ کے کردار اور مقام کا تعین کرنے والے عالمی ادارے بھی ہماری عدلیہ کو کسی نچلے درجوں میں رکھتے ہیں جیسے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ، کا رُول آف لا انڈیکس، تقریباََ 143 ممالک کے عدالتی نظاموں کا تقابلی جائزہ کرتے اور ان کی رینکنگ کرتے ہوئے ہمین مجموعی طور پر قانون کی حکمرانی میں 129 نمبر پر رکھتا ہے اور دیوانی انصاف میں 128 ویں نمبر پر۔ ہمارا عدالتی نظام فوجداری انصاف میں دوسرے شعبوں سے ضرور بہتر ہے اور یہاں ہمارا نمبر 98 واں ہے مگر اس کے باوجود ہمیں سی سی ڈی کی ضرورت پڑتی ہے تو سوچیں کہ دیوانی انصاف میں کیا حال ہوگا اور اس کی بنیاد پر کتنے مسائل اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہوں گے جو جرائم بھی کرواتی ہوں گی۔

ہمارا عدالتی نظام حکومتی اختیارات پر عدالتی و آئینی پابندیاں عائد کرنے میں 103ویں اور بدعنوانی کی عدم موجودگی میں 120 ویں نمبر پر ہے۔ بنیادی حقوق کے تحفظ میں یہ سسٹم 125ویں جبکہ امن و امان اور تحفظ میں 140 ویں نمبر پر نظر آتا ہے۔ ڈبلیو جے پی کے انڈیکس میں، جنوبی ایشیا کے چھ ممالک میں ہم پانچویں نمبر پر ہیں اور سب سے آخر میں افغانستان جبکہ اس خطے میں سب سے بہتر رینکنگ نیپال کے عدالتی نظام کی ہے۔

آپ کی دلچسپی کے لئے حوالہ دیتا چلوں کہ دنیا میں جن ممالک کے جوڈیشل سسٹمز کی کارکردگی سب سے بہتر ہے ان میں بالترتیب ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ، سویڈن اور نیوزی لینڈ پہلی پانچ پوزیشنوں پر ہیں جبکہ سب سے ناقص عدالتی نظام والوں میں سب سے برا وینزویلا اوراس کے بعد بالترتیب افغانستان، کمبوڈیا، ہیٹی اور نکاراگوا ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان ممالک کے عوام کا کیا حال ہوگا جن کے عدالتی نظام کارکردگی میں ہمارے نظام سے بھی نیچے ہیں تو پھر مجھے اپنے ہمسائے میں افغانستان نظر آجاتا ہے جہاں آئین، قانون اور جمہوریت نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں۔ وہاں فیصلے بندوق سے ہوتے ہیں۔

ہندوستان کی فلموں میں وہاں کے عدالتی نظام کے بارے میں ایک امیج بنایا جاتا ہے مگر دوسری طرف ہمیں سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرم چھوڑ دینے جیسے فیصلے بھی نظر آتے ہیں مگر ہمارے عدالتی نظام بارے کوئی اچھی امیج بلڈنگ بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہمارے وکلا قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ یوں لگتا ہے کہ وہ قانون کی عمارت میں سرنگ لگانے کی مہارت کے ساتھ آتے ہیں۔

یہاں تاریخ پر تاریخ کا ڈائیلاگ ہی مشہور نہیں ہوتا بلکہ اب تو وکلا برادری میں ڈن بیسز، پر کیسز لینے کے بارے بھی بڑی بڑی داستانیں موجود ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہماری پارلیمان ہو، ہماری عدلیہ ہو، ہماری افسر شاہی ہو یہ سب اپنی اپنی جگہ پر مطمئن ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں ہے کہ جب تک ہمارا عدالتی نظام ایسا رہے گا سی سی ڈی، جیسے ادارے بنتے اور عوامی مقبولیت حاصل کرتے رہیں گے۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui