Tuesday, 04 August 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Jamhuri Hukumaton Ki Bartarfi Ki Kahani

Jamhuri Hukumaton Ki Bartarfi Ki Kahani

اہم خبروں کی تلاش میں ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے 1985ء سے لگانا شروع کردئیے تھے۔ اس برس جنرل ضیاء نے 8 سالہ مارشل لاء کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروادئے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں موصوف کے بنائے منصوبے کے تحت قائم ہوگئیں تو محض تین سال بعد اپنی ہی تخلیق کو "ناکارہ اور بدعنوان" ٹھہراتے ہوئے تحلیل کردیا۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے؟ یہ طے کرنے سے قبل ہی وہ فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

ان کی وفات کے بعد مقتدرہ نے براہ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو نئے انتخابات میں شمولیت کی اجازت دے کر "جمہوری نظام"بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی منتخب کردہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار مگر صدر کے پاس ہی رہا۔ مذکورہ اختیار کے نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر کی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد نواز حکومت کو بھی برطرف کردیا۔ آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے تیار کئے ایک فارمولے کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف اس کے نتیجے میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔

نئے انتخابات کی بدولت محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم کے دفتر براجمان ہوگئیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے دیرینہ اور قدآور سردار فاروق خان لغاری کو ایوان صدر میں بٹھایا۔ انہیں حکومت برطرف کرنے کے حوالے سے مگر وہی اختیارمیسر رہا جو جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان تین حکومتیں گھر بھیجنے کے لئے استعمال کرچکے تھے۔ اسی اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سردار لغاری نے بھی محترمہ کی دوسری حکومت کو آئینی مدت مکمل کئے بغیر گھر بھیج دیا۔ نئے انتخابات ہوئے۔ ان کے نتیجے میں نواز شریف ایک بار پھر "ہیوی مینڈیٹ" کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے صدر کا حکومتیں توڑنے والا اختیار آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردیا۔ اپنے دورِ اقتدارمیں انہوں نے ایک آرمی چیف- جہانگیر کرامت- کو بھی استعفیٰ دینے کو مجبور کیا۔ نئے آرمی چیف جنرل مشرف کے ساتھ بھی ان کا رشتہ زیادہ دیر چل نہ سکا۔ دریں اثناء کارگل کی پہاڑیوں پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کی بدولت سول اور ملٹری قیادت کے مابین بدگمانیاں سنگین سے سنگین تر ہونا شروع ہوگئیں۔ ان کا انجام 12اکتوبر1999ء کے روز جنرل مشرف کے لگائے مارشل لاء کے ذریعے ہوا۔

جنرل صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی "جعلی نہیں اصلی جمہوریت" کی بحالی کا عہد باندھا۔ نچلی سطح سے نئی، صاف ستھری اور ذہین قیادت کی تلاش میں "انقلابی" دکھتا بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ وہاں سے ابھری "نئی قیادت" کو ملکی اور صوبائی سطح پر "اقتدار منتقل کرنے" کے لئے 2002ء میں عام انتخابات کروائے۔ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو انتخابی عمل سے باہررکھا گیا۔ اپنے ہی لگائے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کو وہ بھی جنرل ضیاء کی طرح برطرف کرنے کو مجبور ہوئے۔ قومی اسمبلی کو فارغ کرنے کے بجائے اس میں شوکت عزیز صاحب کی شمولیت یقینی بنادینے کے بعد انہیں وزیر اعظم کے عہدے پر بٹھادیا گیا۔

"سیاسی بندوبست" مگر نظر بظاہر مستحکم رہا۔ امریکہ کی افغانستان پر مسلط کردہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی وجہ سے بازار میں رونق بھی لگی رہی۔ اپریل 2007ء میں لیکن ان کا سپریم کورٹ کے سربراہ افتخار چودھری سے جھگڑا شروع ہوگیا۔ ججوں اور وکلاء کی بے پناہ اکثریت "عدلیہ بحالی کی تحریک" میں شامل ہوگئی۔ نئے انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی تیسری بار برسراقتدار آگئی۔ آصف علی زرداری سربراہ مملکت منتخب ہوئے تو پارلیمان کو "خودمختار" بنانے پر ڈٹ گئے۔ آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری بھی تقریباََ ناقابل تسخیر بنیادی۔ ان کے چنے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی مگر اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر پائے۔ "عوام کی بھرپور حمایت" سے چیف جسٹس کے عہدے پر لوٹے افتخار چودھری نے انہیں منتخب صدر کی مبینہ کرپشن کا سراغ لگانے کے لئے سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں توہین عدالت کا مرتکب ٹھہراکر فارغ کردیا۔ ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف نے اسمبلی کی بقیہ مدت مکمل کی۔

2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو نام نہاد "پانامہ سکینڈل" کی بنیاد پر انہیں بھی سپریم کورٹ نے "جھوٹا اور خائن" قرار دے کر گھر بھیج دیا۔ ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی نے 2018تک قومی اسمبلی کی قیادت سنبھالی۔

1990ء کی دہائی کے دوران حکومتوں کی بے ثباتی نے کرکٹ کی بدولت کرشمہ ساز ہوئے عمران خان کو "سیاستدانوں کے روپ دھارے اقتدار میں باریاں لینے والے چور اور لٹیروں " کے خلاف طاقتور متبادل کی صورت عوام میں مقبول بنایا۔ نوجوانوں کی بے پناہ اکثریت کے علاوہ متوسط طبقے کی پڑھی لکھی خواتین میں بھی و ہ بہت مقبول ہوئے۔ بالآخر 2018ء کے برس وزیراعظم کے منصب پر پہنچے تو عسکری قیادت کے ساتھ "سیم پیج" پر ٹکے نظر آئے۔ اپنے سیاسی مخالفین کو سنگین کرپشن کے الزامات کے تحت رگیدنا شروع کردیا۔ صحافت کو بھی "مثبت خبریں " دینے کی راہ پر ہانک دیا گیا۔

"سیم پیج" پر قیام مگر دیرپاثابت نہ ہوا۔ اپریل 2022ء میں لہٰذا قومی اسمبلی سے منظور ہوئی تحریک عدم اتحاد کے نتیجے میں برطرف ہوئے۔ ان کی رخصت کے بعد شہباز شریف صاحب بھان متی کا کنبہ دِکھتی کثیر الجماعتی حکومت کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہوئے۔ عمران حکومت پر الزام تھا کہ وہ ملک کو دیوالیہ کی طرف دھکیل رہی تھی۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے شہباز صاحب اور ان کے اتحادیوں نے "سیاست قربان کرتے ہوئے ریاست کو بچانے کا فیصلہ کیا"۔ ریاست دیوالیہ ہونے سے یقیناََ بچ گئی۔ سیاست مگر "ہائی برڈ" ہوگئی۔ "ہائی برڈ" کہلاتے حکومتی بندوبست کے طاقتور ترین مخالف عمران خان اور ان کے وفادار ساتھی جیلوں میں ہیں۔ وکلاء بھی "آزاد عدلیہ" کے بظاہر خواہش مند نہیں رہے۔

نام نہاد "سول سوسائٹی" مفلوج ہوچکی ہے۔ صحافی بھی "ذمہ دارانہ احتیاط" برتنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی ساکھ تباہ کرنے کو مگر سوشل میڈیا پر چھائے "ذہن ساز" حقیقی دنیا کے بجائے "ڈیجیٹل دنیا" پر "مزاحمت" کی لو جلائے رکھنے کے دعوے دارے ہیں۔ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور صحافت کو لگام ڈالنے کی وجہ سے عوام موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے قابل نہیں رہے۔ خلقِ خدا کی اکثریت مہنگائی کی وجہ سے لیکن بلبلانا شروع ہوگئی ہے۔ بازار سے رونق معدوم ہوچکی ہے۔ نچلے متوسط طبقہ سے اپنا مقام بلند کرنے کے بجائے کم آمدنی والے افراد اپنی سفید پوشی برقرار رکھنے کو ہلکان ہورہے ہیں۔ نوجوانوں کی بے پناہ اکثریت کو کسی نہ کسی بہانے غیر ملک پہنچ کر "قسمت سنوارنے" کا جنوان لاحق ہے۔

کساد بازاری اور مہنگائی کے حبس زدہ موسم میں سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ میں یکساں طورپر معتبر وبااثرتصور ہوتے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے مگر گزشتہ ہفتے اعلان کردیا کہ موجودہ حکومتی بندوبست قطعی طورپر ناکارہ ثابت ہوا ہے۔ اسے کارآمد بنانے کے لئے کچھ نیا سوچنا ہوگا۔ وزیر داخلہ کی تقریر اعترافِ کوتاہی نہیں بلکہ حکومتی بندوبست کے خلاف مہارت سے تیار کی فرد جرم تھی۔ "ہائی برڈ" سیاست کی بدولت ایوان ہائے اقتدار میں بیٹھے افراد مگر اس فردِ جرم کو اپنانے یا رد کرنے کی جرأت نہیں دکھارہے۔ ایک پنجابی محاورے میں بیان کردہ"چپ کر دڑ وٹ جا" والا رویہ اپنالیا ہے۔

حکومت کے مزے لیتے افراد کے دفاع میں نوکری برقرار رکھنے کا طلب گار یہ دو ٹکے کا صحافی عرصہ ہوا "جرأت اظہار" سے محروم ہوکر محتاط سے محتاط تر انداز میں قلم گھسیٹنے کا عادی ہوچکا ہے۔ جان کی امان پاتے ہوئے البتہ آج کے کالم میں 1985ء سے اب تک آنکھوں دیکھی حکومتیں یاد کرتے ہوئے یہ سوال ضرور اٹھانا چاہتا ہوں کہ نظام کو "ری سیٹ" کرنے کا وہ کونسا طریقہ ہے جو 1985ء سے 2024ء تک ہمارے ہاں استعمال نہیں ہوا۔

نقوی صاحب کے بقول "مردہ" ہوئے نظام کے بدلے جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں سے نئے صوبوں کے قیام کے علاوہ تقریباََ تمام مختلف حکومتوں کے دوران آزمائی جا چکی ہیں۔ ثبات مگر کسی ایک کو بھی میسر نہ ہوا۔ جادو کی چھڑی گھماکر اب کونسا نظام کس طرح موجودہ حکومتی بندوبست کو کاملاََ مسمار کئے بغیر متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui