Friday, 07 August 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Mohsin Naqvi Ki Taqreer Se Yaad Aate Guzishta Adwar Ke Waqiat

Mohsin Naqvi Ki Taqreer Se Yaad Aate Guzishta Adwar Ke Waqiat

ہاتھ اٹھاکر دیانتداری سے اعتراف کرچکا ہوں کہ موجودہ حکومتی بندوبست کے خاتمے یا اس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کے بارے میں قیاس آرائی کا حوصلہ مجھ میں نہیں رہا۔ عمر تمام صحافت میں ضائع کرنے کے بعد سیکھا ہے تو فقط اتنا کہ حکمران اشرافیہ کے ذہن میں نئے سیاسی ڈھانچے تشکیل دینے کے جو منصوبے ہوتے ہیں وہ انہیں ہر صورت عملی صورت دینے کو ڈٹ جاتے ہیں۔ دو ٹکے کے رپورٹروں کی اس تناظر میں داد فریاد حکمرانوں کے لئے کسی وقعت کی حامل نہیں ہوتی۔ رزق کمانے کے لئے مجھے یہ کالم لکھتے رہنا ہے۔ اس کو آپ کی توجہ کے قابل بنانے کے لئے فیصلہ لہٰذا یہ کیا ہے کہ مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہوئے اپنی نوکری بچائوں اور بطور صحافی میڈیا میں شدت سے زیر بحث موضوعات کے حوالے سے ماضی کے تجربات ومشاہدات کا دیانتدارانہ ذکر شروع کردوں۔

وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کی گزشتہ ہفتے فرمائی ایک تقریر کی بدولت روایتی اور سوشل میڈیا میں فی الوقت یہ بحث چھڑچکی ہے کہ ملک میں اچھی اور مؤثر حکومت کے قیام کے لئے صوبوں کی موجودہ جغرافیائی حدود کو سکیڑتے ہوئے نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے یا نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کے علاوہ نئے انتظامی یونٹوں کا ذکر بھی ہورہا ہے۔ میں کم عقل ابھی تک یہ سمجھ نہیں پایا کہ نئے انتظامی یونٹوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کیا نئے صوبوں کا متبادل تصور کیا جارہا ہے یا نہیں۔ انگریزی میں Either\Orکی ترکیب استعمال ہوتی ہے۔ اسے ذہن میں رکھیں تو منطقی سوال یہ بنتا ہے کہ نقوی صاحب ملک میں نئے صوبوں کا قیام عمل میں لانا چاہ رہے ہیں یا صوبوں کی موجودہ شناخت اور حدود کو برقرار رکھتے ہوئے ہی نئے انتظامی یونٹوں سے بھی گڈگورننس کی توقع باندھے ہوئے ہیں۔

نئے انتظامی یونٹوں کا ذکر ہو تو میرے ذہن میں فوراََ طاقتور اور بااختیار ضلعی حکومتوں کا تصور ابھرتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں یہ حکومتیں بہت بااختیار ہیں۔ لندن کا میئر بسااوقات برطانیہ کے وزیراعظم سے بھی کہیں زیادہ مقبول اور "تاریخ ساز" محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں طویل سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں مثال کے طورپر مانچسٹر کا نوسال میئر رہا اینڈی برنہم پارلیمان کا رکن منتخب ہونے کے چند ہی دنوں بعد برطانیہ کا نیا وزیر اعظم منتخب ہوا ہے۔ بدھ کی صبح چھپے کالم میں لیکن عرض کیا تھا کہ دنیا کو بااختیار ضلعی حکومتوں سے متعارف کروانے والے برطانیہ کے 1990ء کی دہائی کے دوران پاکستان میں بھیجے سفیر مجھ سے اسلام آباد میں بااختیار مقامی حکومت کے قیام کے حوالے سے تلخ بحث میں مصروف رہے۔ موصوف کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر اسلام آباد سی ڈی اے کی افسر شاہی کے کنٹرول سے آزاد ہوکر بااختیار مقامی حکومت کے سپرد ہوگیا تو چند ہی دنوں میں لینڈ مافیا اس خوب صورت شہر کو تباہ وبرباد کردے گا۔

1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں سے ہم تیزی سے 12اکتوبر 1999ء کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اس روز جنرل مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا۔ خود کو چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر کہلوانے کے بجائے اپنے لئے "چیف ایگزیکٹو" کا عہدہ تخلیق کیا۔ اسمبلیاں تحلیل نہیں معطل کردیں اور لوگ اس گماں میں مبتلا رہے کہ نواز شریف کو سیاسی اعتبار سے مفلوج بنادینے کے بعد وہ معطل ہوئی قومی اسمبلی ہی میں سے نیا وزیر اعظم تلاش کرسکتے ہیں۔ نواز شریف کے منتخب کروائے صدر رفیق تارڑ کو بھی انہوں نے ایوانِ صدر ہی میں بٹھائے رکھا۔

اقتدار سنبھالنے کے چند روز بعد غالباََ 17 اکتوبر کے روز انہوں نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا۔ جس روز خطاب ہونا تھا اس دن مجھے پی ٹی وی کے ایم ڈی نے بذاتِ خود فون کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ جنرل مشرف کی تقریر نشر ہونے کے فوراََ بعد میں اس پروگرام میں حصہ لوں جو ان کے خطاب پر تبصرہ آرائی کے لئے مختص ہوگا۔ ایم ڈی سے میری ان دنوں سرسری شناسائی تھی۔ دیانتداری سے انہیں بتایا کہ شاید وہ میرے مزاج سے آشنا نہیں۔ نواز شریف کی دونوں حکومتوں کا نقاد رہا ہوں۔ ان پر تنقید کی اصل وجہ مگر یہ تھی کہ میں انہیں جنرل ضیاء کی "باقیات"شمار کرتا رہا ہوں۔ ان کی حکومت کی ایک اور آرمی چیف کے ہاتھوں فراغت کا دفاع مگر کر نہیں سکتا۔ ایم ڈی نے نہایت شائستگی سے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف کے خطاب کے فوراََ بعد تبصرہ آرائی کے لئے جن صحافیوں کے نام چنے گئے ہیں ان کی فہرست "اوپر" سے آئی ہے۔ اس حکم کے ساتھ کہ پینل میں شریک افراد کو واضح طورپر بتایا جائے کہ براہ راست دکھائے اس پروگرام میں وہ اپنی رائے کاجنرل مشرف کے خطاب کے بارے میں کھل کر اظہار کریں۔ مجھے اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا۔ پروگرام میں شرکت کا مگروعدہ کرلیا۔

جنرل مشرف کا خطاب نشر ہوگیا تو میری عزیز دوست اور محترم صحافی نسیم زہرہ کی میزبانی میں اس پر تبصرہ آرائی شروع ہوگئی۔ مرحوم اردشیر کائوس جی بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ ہم سب کے سینئرہونے کی وجہ سے انہیں تبصرہ آرائی کے لئے سب سے پہلے مائیک ملا۔ وہ سیاستدانوں کی کرپشن کے خلاف سخت انگریزی زبان میں چسکے دار کالم لکھا کرتے تھے۔ سیاستدانوں سے نفرت پر ثابت قدم رہتے ہوئے انہوں نے ڈٹ کر جنرل مشرف کے ٹیک اوور کا دفاع کیا۔ اصرار کرتے رہے کہ ڈنڈا استعمال کرتے ہوئے نئے چیف ایگزیکٹو سیاستدانوں سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور کرپشن کی کمائی واپس لینے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے۔ میری باری آئی تو جان کی امان پاتے ہوئے عرض کی کہ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء نے بھی کرپشن کا خاتمہ اپنی اولین ترجیح قرار دی تھی۔ کرپشن وطن عزیز سے مگر ختم نہیں ہوئی۔ بتدریج بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ہے۔ لوگوں کو ہمیں اس گماں میں مبتلا نہیں رکھنا چاہے کہ چند ہی دنوں بعد ہمارے کرپٹ سیاستدان درختوں پر اُلٹے لٹکے منہ سے ڈالروں کی الٹیاں کررہے ہوں گے۔

ایمان داری کی بات ہے کہ میرا ایک ایک لفظ براہ راست نشر ہوا۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد گھبراتے ہوئے اگرچہ میں سوچتا رہا کہ پی ٹی وی اس پروگرام کے بعد مجھے کسی اور شو میں تبصرہ آرائی کے لئے مدعو نہیں کرے گا۔ دوسرے دن صبح مگر بستر کے قریب رکھے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ہیلو کیا توآپریٹر نے بتایا کہ طارق عزیز صاحب بات کرنا چاہتے ہیں۔ طارق صاحب جنرل مشرف کے ایچی سن کالج لاہور سے قریب ترین دوست تھے۔ اقتدار سنبھالتے ہی جنرل مشرف نے انہیں اپنے دفتر کا سیکرٹری تعینات کردیا۔ بعدازاں وہ قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت میں بھارت سے دیرپاامن کے قیام کے لئے مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے رہے

طارق صاحب سے میری اس دن سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ بطور صحافی مگر مجھے ان کے بیوروکریٹک کیرئیر کا بخوبی علم تھا۔ یہ بھی خبر تھی کہ وہ چودھری شجاعت حسین کے قریبی دوست بھی ہیں۔ ماحولیات کے ایڈیشنل سیکرٹری ہوتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران آصف علی زرداری کے یاردیرینہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے ان کے شدید اختلافات ہوگئے۔ او ایس ڈی بنادئے گئے اور اس خدشے میں مبتلا کہ ذوالفقار مرزا ان کی زندگی مزید اجیرن بناسکتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے طارق عزیز صاحب کو اطمینان دلانے کے لئے ان کو خاندان سمیت اپنے اسلام آباد والے گھر میں کئی مہینوں تک قیام پذیر رکھا۔

طارق صاحب کے ساتھ جو واقعہ ہوا اور چودھری شجاعت جس انداز میں ان کے تحفظ کو بڑھے اس کی خبر مجھے ملی تو اشاروں کنایوں میں فریقین کے نام لئے بغیر اپنے انگریزی کالم میں کی تفصیلات بیان کردیں۔ طارق صاحب کو میرے کالم یاد تھے۔ میرے ہیلو کرنے کے بعد انہوں نے کافی کے لئے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ میں نے وقت مقررہ پر پہنچنے کا وعدہ کرلیا۔ ملاقات کے دوران جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیل جاننے کے لئے آپ کو جمعہ کی صبح کا انتظار کرنا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui