Tuesday, 16 June 2026
  1. Home/
  2. Qadir Khan Yousafzai/
  3. Tal Gaya Tamasha, Geneva Ki Sham Tak

Tal Gaya Tamasha, Geneva Ki Sham Tak

عالمی سفارت کاری کے افق پر جب مفادات کی جنگ اور جنگی بساط پر مہروں کی ترتیب بدلتی ہے، تو تاریخ کے صفحات میں کچھ ایسے ابواب رقم ہوتے ہیں جو طویل مدتی تزویراتی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ جنیوا میں انیس جون کو ہونے والا ممکنہ امریکہ اور ایران کا حالیہ امن معاہدہ محض ایک دن کی کاوش کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ان مہینوں پر محیط اعصاب شکن، طویل اور خفیہ مذاکرات کا نچوڑ ہے جس نے خطے میں ایک مہیب اور چوتھے مہینے میں داخل ہوتے ہوئے تنازعے کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم، منفرد اور نمایاں پہلو پاکستان کا بطور ایک معتبر اور کلیدی ثالث کے ابھرنا ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا تھیں اور جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھے، تب اسلام آباد نے پسِ پردہ رہ کر سفارت کاری کا وہ تانا بانا بنا جس نے واشنگٹن اور تہران کو ایک ایسے عبوری فریم ورک پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ کیا جو فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ دونوں ممالک ایک ایسے امن معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی آپریشنز کا فوری اور مستقل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس سفارتی بریک تھرو کی باقاعدہ اور مہر بند تقریبِ دستخط انیس جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونا طے پائی ہے، جسے عالمی برادری کی جانب سے ایک بڑی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کی تفصیلات اور اب تک سامنے آنے والے اعلیٰ سطحی سرکاری خلاصوں کے مطابق، یہ امن فریم ورک کم از کم ساٹھ دنوں کی جنگ بندی کا دورانیہ فراہم کرتا ہے، جس کے دوران بحری ناکہ بندیوں کے خاتمے اور دیگر معاشی و عسکری پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات نافذ العمل ہوں گے۔ اگرچہ اس وقت تک معاہدے کا مکمل قانونی متن پبلک نہیں کیا گیا اور منظر عام پر صرف واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کے سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ اعلیٰ سطحی معلومات ہی دستیاب ہیں، مگر یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ ایک مضبوط سیاسی سمجھوتہ طے پا گیا ہے، دشمنیوں کا فوری خاتمہ یقینی بنا دیا گیا ہے اور اب صرف جنیوا میں رسمی دستخطوں کا انتظار ہے۔ اس پورے عمل میں جنیوا کی تاریخ یعنی انیس جون کا انتخاب بذاتِ خود سفارتی تاریخ کا ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ بن چکا ہے، جس نے بین الاقوامی سیاست میں علامتی سیاست اور معروضی حقیقت پسندی کے تصادم کو نمایاں کیا ہے۔

اس دستخطی تقریب کے پسِ منظر میں ایک بڑا تزویراتی اور نفسیاتی معرکہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو اپنی 80 ویں سالگرہ، یعنی 14 جون کے دن، ایک یادگار سیاسی تحفے کے طور پر پیش کرنے کی شدید کوشش کی گئی۔ صدر ٹرمپ نے اس امر پر پورا زور دیا کہ یہ معاہدہ اتوار کے روز یعنی چودہ جون کو ہی فائنل ہوجا تا، تاہم ایرانی مذاکرات کاروں نے، جو قطر کی موجودگی میں تہران میں مسلسل سترہ گھنٹے طویل مذاکراتی دور میں مصروف تھے، اس ٹائم لائن کو یکطرفہ اور داخلی سیاسی تشہیر کا ذریعہ قرار دے کر قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

ایرانی حکام نے جان بوجھ کر مذاکراتی عمل کو چودہ جون کی رات گئے تک طول دیا تاکہ باقاعدہ اعلان پندرہ جون کے اوائل میں سامنے آئے اور اسے صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے جشن کا حصہ نہ بنایا جا سکے۔ تہران کی جانب سے ملکی میڈیا میں ان افواہوں اور بیانات کی کھل کر تردید کی گئی جس میں چودہ جون کو جنیوا میں دستخط کی باتیں کی جا رہی تھیں اور انہوں نے اسے وائٹ ہاؤس کے روایتی تمثیلی انداز کا پروپیگنڈا ایونٹ قرار دیا۔ اس صورتحال کا سب سے حقیقت پسندانہ اور معروضی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انیس جون کی تاریخ کا تعین کسی تکنیکی مجبوری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایران کا ایک واضح اور پختہ سفارتی موقف تھا کہ بین الاقوامی معاہدات کی ٹائم لائن کو کسی ایک رہنما کے ذاتی یا سیاسی کیلنڈر کا پابند نہیں ہونا چاہیے اور اس عمل کا کنٹرول دونوں فریقین کے پاس برابر ہونا چاہیے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ صدر ٹرمپ نے کسی بڑے امن معاہدے کو ایک مخصوص اور علامتی تاریخ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہو۔ اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو دو ہزار اٹھارہ اور دو ہزار انیس کے دوران دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا تسلسل بھی اسی نوعیت کی سیاسی خواہشات کا گواہ رہا ہے۔ اس وقت بھی جب قطر کی سرزمین پر مہینوں کی محنت کے بعد ایک معاہدے کا مسودہ اصولاً تیار ہو چکا تھا، تو صدر ٹرمپ نے نائن الیون کی برسی کے عین قریب کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ایک خفیہ اور ڈرامائی سربراہی کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاکہ اسے ایک تاریخی اور یادگار لمحے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ مگر کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹویٹر کے ذریعے اس ملاقات اور امن عمل کو اچانک معطل کرنے کا اعلان کر دیا، گوکہ پس پردہ حقائق کچھ اور تھے کہ افغان طالبان نے سختی سے اس قسم کے منصوبے کو رد کردیا تھا۔

اس تاریخی تقابل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علامتی اور ڈرامائی تواریخ کا اصرار ہمیشہ زمینی حقائق اور فریقین کے تحفظات کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ افغان امن عمل بھی بالآخر کسی جذباتی یا علامتی تاریخ کے بجائے فروری دو ہزار بیس میں اپنے اصل اور روایتی ٹریک یعنی دوحہ ہی میں ایک عام تاریخ کو انجام پذیر ہوا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں سجی سجائی تھیٹر نما سیاست کے مقابلے میں تلخ زمینی حقیقتیں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔

اس پورے بین الاقوامی منظرنامے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جو رخ سامنے آیا ہے، وہ سفارتی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے مابین رابطے بحال رکھنے کے لیے شٹل ڈپلومیسی کا کردار ادا کیا، بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم علاقائی ممالک کو بھی اس امن عمل میں شاملِ تفتیش رکھا۔ سوئٹزرلینڈ اور خاص طور پر جنیوا کو بین الاقوامی برادری میں روایتی طور پر ایک "غیر جانبدار" مقام مانا جاتا ہے۔

جنیوا کا انتخاب علامتی سیاست پر حقیقی اور باوقار سفارت کاری کی فتح کو ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جہاں دونوں فریقین ایک غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ ماحول میں معاہدے کو حتمی شکل دے سکیں، معاہدے کو اقوام متحدہ کی توثیق کے لئے بھی ضروری تھا۔ الحمد للہ، بالاآخر پاکستان نے وہ کر دیکھایا جو دنیا کے لئے پہلے بھیانک خواب تھا اور اب ایک روشن امید و امن کا محور۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais