Friday, 14 August 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Apne Bete Ka Shukriya Kyun?

Apne Bete Ka Shukriya Kyun?

ڈاکٹر نگہت شاہ کی سوشل میڈیا پر درگت بنتے دیکھ کر مجھے اپنا چھوٹا بیٹا یاد آیا جو لندن کی ایک بڑی یونیورسٹی سے پڑھ کر پاکستان واپس آیا ہے۔ ڈاکٹر نگہت کی قابلیت کی تفصیلات کچھ پڑھی ہیں لیکن ہمارے ہاں قابلیت بھی کبھی کبھار نیگٹو ہوتی ہے خصوصا اگر آپ کا کسی سیاسی گھرانے سے تعلق یا پبلک فیس ہیں۔ آپ کی قابلیت پھر اہم نہیں رہ جاتی۔

گالی گلوچ ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں سفارشی کلچر اتنا مضبوط ہے کہ آپ لاکھ قابل ہو، دنیا بھر کی یونیورسٹیز سے پڑھ کر آئے ہوں، آپ اچھی تنخواہ اور عہدے پر لگ گئے تو آپ کی خیر نہیں ہے۔

میرا اپنا چھوٹا بیٹا لندن کی ایک بڑی یونیورسٹی سے پڑھ کر واپس آیا تو اسے ایک اچھے سرکاری ادارے میں اس کی قابلیت/ڈگری پر نوکری مل رہی تھی۔ اس کے پاس ماسٹرز کے بعد لندن ورک پرمٹ تھا جو ہر اسٹوڈنٹ کو ملتا ہے۔ لیکن وہ واپس آیا کہ اسے اپنا ملک پسند ہے۔ اسے ماں باپ کے ساتھ رہنا اسے اچھا لگتا ہے۔

شاید چار پانچ لاکھ روپے تنخواہ کی آفر تھی۔ اس کی اچھی بات ہے وہ مجھ سے ایسے معاملات ڈسکس کر لیتا ہے کہ پھر باپ کا سوشل میڈیا پر تیا پانچہ نہ ہو۔ تبرے نہ پڑھے جائیں۔

جوائن کرنے سے پہلے مجھے بتایا تو مجھے اس وقت پتہ چلا۔

اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور منع کیا میرے چندہ تو گھر بیٹھ جا لیکن سرکار کی جاب نہ کرنا۔ پانچ لاکھ تنخواہ کسی سے ہضم نہیں ہوگی۔ ہاں اگر بیس پچیس ہزار کی نوکری کر لے تو شاید اگنور کر دیا جائے کہ چلو ہمارے جتنے کما رہا ہے۔ نالائق ہی ہوگا۔ ورنہ میرے خلاف وہ سوشل میڈیا مہم اور میرے پیارے وی لاگرز شروع ہوں گے کہ تو بھول جائے گا تو کتنا پڑھا لکھا ہے اور تیرے باپ نے بہت بڑا کمپرومائز کرکے تیری نوکری لگوائی ہوگی۔ دن رات میرا جینا حرام کر دیا جائے گا کہ بہت بڑا جرم ہوگیا ہے۔

اسے بتایا کچھ عرصہ پہلے ایک ٹاپ اینکر کی بیٹی اکسفورڈ سے پڑھ کر واپس آئی اور اسے پی ٹی وی میں جاب ملی۔ اس کے خلاف دنیا جہاں کی باتیں، مہم چلائی گئی۔ مطلب وہ اکسفورڈ سے واپس ہی کیوں آئی۔ اس سے زیادہ قابل کون ہوگا جس نے اکسفورڈ سے ماسٹر کیا ہے؟

پھر فرماتے ہیں برین ڈرین ہورہا ہے۔ جو اپنے بچوں کو واپس بلا لے کہ اپنے ملک میں سرو کرو اور اسے نوکری ملے تو پورا جہاں آپ کو گالیاں دے گا۔ سفارشی ہونے کا طعنہ دے گا عمر بھر۔ میرٹ کی کہانیاں سنائے گا لیکن یہ نہیں بتائے گا یہ سب سی ایس ایس افسران میرٹ پر مقابلے کا امتحان پاس کرکے افسر لگے ہیں جن کے بارے خواجہ آصف کہتے ہیں پرتگال جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ کینڈا نیوزی لینڈ اسٹریلیا، بارسلونا، شہریت لے کر بچے وہاں موو کر چکے ہیں۔ خود یہاں سے یہ میرٹ والے کما کر باہر بھیج رہے ہیں۔

ڈاکٹر نگہت شاہ بھی دو حرف بھیج کر اپنا پرائیوٹ ہسپتال کھول لیتی تو بہتر رہتا۔۔ ٹکا کر فیس لیتیں اور کروڑں کماتیں اور سب ہم داد دیتے۔ کیوں سرکاری ہسپتال کے چکر میں پڑ گئیں۔

پبلک فگر/فیس کو عزت بچانی ہے تو اپنے بچوں کو خصوصا سرکار سے دور رکھے چاہے سرکار اور ملک آگے جائے یا پیچھے اس کی فکر نہ کرے۔ جتنے قابل بچے ہوں اور ملک کو سرو کرنا چاہتے ہیں انہیں سرکار کی بیوروکریسی سے دور رکھیں۔ کسی کو ہضم نہیں ہوگا۔

جو میرٹ والی کلاس سرکاری محکموں کو چلا رہی ہے وہی ٹھیک ہے۔ آپ کے بیرون ملک سے واپس آنے والے بچوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔

اب وہ نوجوان پرائیوٹ کام کرتا ہے۔ اس کی مہربانی باپ کی عزت رکھ لی۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui