مجھے یاد ہے کہ جب لندن میں تھا تو وہاں اکثر دوست لندن میں رہنے کے فوائد گنواتے تھے۔ میں انہیں مذاق میں کہتا کہ کیا ٹونی بلیئر سے آپ کی دوستی ہو تو وہ آپ کو بغیر ٹیسٹ ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دے سکتا ہے؟ وہ ہنس کر کہتے: اس کی اپنی بیوی پیشیاں بھگت رہی ہے کہ وہ بغیر ٹکٹ ٹرین پر سوار ہوگئی اور جب پکڑی گئی تو کہا: ٹکٹ مشین کام نہیں کر رہی تھی۔ لیکن ریلوے حکام نے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ سٹیشن پر ٹکٹ مشین کام کر رہی تھی، اس نے خود ٹکٹ نہیں لی۔ یہاں وزیراعظم کی اپنی بیوی کی جان پر بنی ہوئی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہمیں بغیر ٹیسٹ کے ڈرائیونگ لائسنس بنوا دے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر ایسے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ جہاں وزیراعظم کی بیوی بھی ٹکٹ کی معمولی بات پر پیشیاں بھگت رہی ہو۔
ہمارے ہاں کوئی بھی وزیراعظم بنتا ہے تو وہ پارلیمانی پارٹی کے ووٹ سے نہیں بنتا۔ وہ خود ہی اپنی اپائنٹمنٹ کرتا ہے اور اس سے پہلے وہ کئی برس خفیہ ملاقاتیں، قسمیں کھانے اور گارنٹیاں دینے کے بعد خدا خدا کرکے وزیراعظم بنتا ہے۔ پھر وہ اپنے بچوں اور فیملی ممبران یا سسرالیوں کو بھی اقتدار میں لے آتا ہے، اس کے بچے شوگر ملیں، بجلی گھر، کارخانے، دودھ دہی کا بزنس شروع کر دیتے ہیں۔ لمبا مال کماتے ہیں۔ وہ یاروں، دوستوں یا خوشامدیوں اور اپنے ڈونرز کو وزیر بنا دیتا ہے اور اس کی توجہ ملک کی معیشت یا لوگوں کی حالت بہتر کرنے سے زیادہ اپنے فیملی بزنس کی ترقی ہوتا ہے یا بچوں کے کاروبار کو سیٹل کرنے پر، یا پھر مخالفین کو فکس کرنے پر۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور کارخانے تو ترقی کر رہے ہیں، منافع دے رہے ہیں لیکن ملک معاشی تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں اکثر کند ذہن اور بیکار لوگوں کو بڑے بڑے عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ ہمیشہ وفادار رہیں کیونکہ ذہین لوگ زیادہ وفادار نہیں ثابت ہوتے۔ اس لیے یہاں وزیراعظم اپنی کرسی سے ہر قیمت پر چمٹا رہنا چاہتا ہے کہ اس کے، خاندان کے اور دوستوں کے بہت سارے مفادات اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ برسوں کی تپسیا اور منت ترلے کے بعد تو وہ وزیراعظم بنتا ہے تو ہٹائے جانے کی صورت میں آگے جیل یا اندھیرا نظر آتا ہے، لہٰذا استعفیٰ دینا بھیانک خواب لگتا ہے۔
مغرب میں وزیراعظم کے ایسے ذاتی، خاندانی یا کاروباری مسائل یا مفادات نہیں ہوتے لہٰذا وہ خراب ہونے کے بجائے خود کو پارٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جو آپ کو منظور، وہی مجھے منظور۔ رکھنا ہے تو جی بسم اللہ، ورنہ کسی اور کو لے آئیں۔
ہمارے ہاں خان صاحب نے تین سال جیل میں رہنا پسند کر لیا، ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا منظور نہیں کیا۔ شہباز شریف نے بھی اپنی کارکردگی کو اپنے وزیر کی زبانی ایکسپوز اور سرِعام احتساب کرانا منظور کر لیا لیکن وزیراعظم کی کرسی نہیں چھوڑی۔ یہی فرق ہے ہمارے اور برطانوی وزرائے اعظم میں۔