Thursday, 13 August 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Fatehpur Ka Amrood Wala

Fatehpur Ka Amrood Wala

گائوں سے اسلام آباد کے لیے واپسی پر فتح پور سے کچھ آگے سڑک کنارے چھابڑی لگائے کئی نوجوانوں کو دیکھا جس میں وہ امرود بیچ رہے تھے۔ مجھے پھلوں میں امرود بھی بہت پسند ہے۔ اچھا چہرہ ہو، اچھی چیز ہو یا اچھا پھل وہ دور سے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔۔ کشش رکھتا ہے۔ مجھے بھی جو پھل دور سے اچھا لگے وہ خریدتا ہوں۔ جس سالن یا چائے کا رنگ پہلی نظر میں اچھا لگے گا یقین کریں وہ اچھا اور مزیدار ذائقہ ہوگا۔ میرا طویل ذاتی تجربہ تو یہ بتاتا ہے مجھے آپ کا علم نہیں۔

خیر میری توجہ ایک چھابڑی والے کے پاس رکھے امرودوں نے اپنی جانب مبذول کرا لی۔ افضل صاحب ساتھ تھے انہیں کہا زرا سائیڈ پر لگائیں۔۔ بڑے عرصے کے بعد کچھ گلابی گلابی امردو بھی پڑے تھے اور پورے کا پورا چھابڑا بہترین نسل کے امرودوں سے بھرا ہوا تھا۔

میں نے ریٹ پوچھا۔ اس نے دو سو روپے فی کلو بتایا۔ اس کی مہربانی اس نے گاڑی دیکھ کر قیمت نہیں بڑھا دی۔

میری عادت ہے میں ریڑھی یا چھابڑی والوں سے قیمت پر کوئی بحث نہیں کرتا حالانکہ ارب پتی انڈین ایکٹریس کاجل کو سن رہا تھا کہ ہندوستان (پاکستان بھی شامل کر لیں) بھائو تائو کرنا ایک کلچرل عادت/ٹھرک ہے جو آپ پوری کرتے ہیں اس کا امیر غریب یا پیسہ کم زیادہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ آپ نے عادتاََ کرنا ہوتا ہے او دکاندار بھی عادی ہوتا ہے اور اگر آپ نہ کریں گے تو وہ صدمے میں چلا جائے گا کس انوکھی بلا سے واسطہ پڑ گیا جس نے رعایت ہی نہیں کرائی، ہوسکتا ہے ڈر جائے کہ کہیں چیزیں لے کر بغیر قیمت دیے اٹھا کر بھاگنے کا پلان ہے اس لیے تو ایک روپیہ کم کرنے کا نہیں کہا کہ کون سا بل دینا ہے۔

لیکن میرا ماننا ہے میں دس بیس روپے کم کرا کے اس غریب کی جیب سے نکلوا کر کیا تیر مار لوں گا۔ اسے سو دو سو روپے سے بڑا فرق پڑتا ہو مجھے نہیں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں فروٹ میری مرضی کا دے دو اور پہلے ہی گھر سے سننا پڑتا ہے کہ دکاندار ریڑھی والے اپنا سارا خراب فروٹ منہ مانگی قیمت پر تمہیں بیچتے ہیں اور تم سمجھتے بہت بڑا قلعہ فتح کر لیا۔ چاہے آپ فروٹ کے باغ سے بھی چن کر لائیں آپ کا لایا پھل یا سبزی پسند نہیں آئے گی۔

خیر امردو اچھا تھا۔ میں نے کہا پانچ کلو تول دو۔ اس کے چہرے پر جو خوشی آئی وہ میں نہیں بھلا سکا اور افضل صاحب کو کہا اندازہ کریں اس نوجوان کے لیے ایک ہزار روپے کا فروٹ بک جانا کتنی بڑی خوشی ہے۔ زرا اس کے چہرے پر رونق دیکھو۔ اس نے بڑا اچھا فروٹ ڈال دیا۔ ویسے بھی سب اچھا تھا۔

مجھے لگا کہ چلو تھوڑا بچا ہوا ہے وہ بھی لے لیتا ہوں۔ میں نے پوچھا کتنا ہوگا؟ کہنے لگا کلو ڈیرہ کلو ہوگا؟

میں نے کہا یہ بھی تول دو۔ گھر جائو۔۔

وہ نوجوان شرمایا اور بولا صاحب وہ تو ٹھیک ہے لیکن شام تک کیا کروں گا۔ اب تو عادت ہوگئی ہے کہ شام ڈھلتے ہی گھر چھابڑا لے جاتا ہوں۔ ابھی شام ہونے میں کچھ سمے باقی ہے۔۔ یہاں سارا دن شغل لگا رہتا ہے۔۔ رونق لگی رہتی ہے۔۔ بسیں ٹرک گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں۔ کوئی بائیک یا سائیکل والا رک کر پائو ادھا کلو امردو لے لیتا ہے۔۔ یوں دن گزر جاتا ہے۔۔ آپ یہ رہنے دیں۔ یہ بقیہ امردو میری شام تک کی مصروفیت ہے۔۔

میں نے یہ لطیفہ پرانا سن رکھا تھا لیکن حقیقت بنتے اب دیکھا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui