Sunday, 02 August 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Mohsin Naqvi Ka Bayan Aur Ghair Siasi Asma Nawaz

Mohsin Naqvi Ka Bayan Aur Ghair Siasi Asma Nawaz

اسما نواز شریف صاحبہ کو پاکستان میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اپنی بہن مریم نواز صاحبہ کی طرح وہ کبھی سیاسی معاملات میں ایکٹو نہیں رہیں بلکہ ان کو کبھی کسی جگہ دیکھا بھی نہیں گیا۔ شاید ہی ان کی تصویر کسی نے دیکھی ہو۔ نواز شریف کو ہمیشہ سیاسی وراثت کا مسئلہ رہا کہ دونوں بیٹے اس قابل نہ تھے تو مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارنا پڑا۔

واقف حال کہتے ہیں شاید یہ مشورہ بھی مشہور زمانہ میجر عامر (آپریشن مڈ نائٹ جیکال فیم) کا تھا کہ اگر بھٹو کی بیٹی بھائیوں کے ہوتے باپ کی وراثت سنبھال سکتی تھی تو مریم نواز صاحبہ کیوں نہیں؟ یہ دلیل نواز شریف کے دل کو بھاہ گئی یا یوں کہیں وہ یہی بات سننا چاہتے تھے۔

تاہم اسما نواز صاحبہ کا نام پھر بھی کبھی پبلک ڈومین میں نہ سنا گیا۔ مریم نواز صاحبہ کو ہی سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے۔ اب اسما نواز ایکٹو ہو رہی ہیں لیکن وہ بھی سوشل میڈیا پر۔ وہ اسحاق ڈار صاحب کی بہو ہیں۔ اگر شریف فیملی میں کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ مکمل غیرسیاسی ہیں تو وہ اسما نواز شریف صاحبہ ہیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر اب وہ کچھ عرصے سے ایکٹو ہیں اور وہاں روزانہ موجود سیاسی صورت حال پر لائٹ کمنٹس وغیرہ کرتی رہتی ہیں اور بلاشبہ ڈیسنٹ انداز میں تبصرہ کرتی ہیں۔ ان تبصروں میں آپ کو مارو یا مر جائو، سیاسی تلخی یا مار دھاڑ نہیں ملے گی۔

خیر کل سے محسن نقوی صاحب کے بیان نے طوفان برپا کیا ہوا ہے اور اس پر وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلی مریم نواز اور پوری کابینہ تک خاموش ہے تو اسما نواز نے ٹوئٹر پر دو کمنٹس کیے ہیں جو بہت دلچسپ ہیں۔

اگرچہ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کا نام نہیں لیا لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کس کو مخاطب کررہی ہیں۔ وہ ٹوئیٹ کرکے پوچھتی ہیں کرکٹ بورڈ کا سسٹم ٹھیک ہوگیا ہے؟

دوسرا ٹوئیٹ اس سے بھی زرا سخت ہے کہ جو خود کونسلر نہیں بن سکتا وہ صوبے بنائے گا، انتظامی یونٹس بنائے گا۔

یقینی طور پر یہی سمجھا یا کہا جائے گا کہ یہ اسما نواز صاحبہ کی ذاتی رائے ہے اس کا حکمران جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اب یہ نہیں پتہ ان کمنٹس سے پہلے انہوں نے کسی سے مشاورت کی ہوگی۔ تاہم ان کی ٹوئٹر ٹائم لائن پڑھ کر مجھے لگتا ہے انہوں نے کسی سے نہیں پوچھا ہوگا۔ وہ اپنی الگ سے رائے رکھتی ہیں جسے وہ مناسب انداز میں شئیر کرتی رہتی ہیں۔

بے شک اسما نواز صاحبہ کی یہ ذاتی رائے ہو لیکن سابق وزیراعظم کی بیٹی، موجودہ وزیراعظم کی بھتیجی، ڈپٹی وزیراعظم کی بہو اور وزیراعلی پنجاب کی سگی بہن ہونے کے ناطے انہیں یہ شک کا فائدہ نہیں ملے گا کہ وہ غیرسیاسی ہیں یا یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

ویسے جس طرح کا جواب اسما نواز نے محسن نقوی کو دیا ہے وہ اب تک پارٹی میں سے کوئی بڑا جگادڑی نہیں دے سکا نہ ہی ایسے سوال کرنے کی جرات کرسکا ہے۔

لگتا ہے اپنے چچا وزیراعظم اور وزیراعلی بہن کو خاموش پا کر یا ان کی سیاسی مجبوریاں سمجھ کر ہی اسما نواز صاحبہ سے صبر نہیں ہوا اور انہوں نے محسن نقوی پر دو اہم سوالات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

برسوں سے گمنامی کی زندگی گزارنے کے بعد اسما نواز بھی دھیرے دھیرے momentum پکڑ رہی ہیں۔ دیکھتے ہیں بات اب چل نکلی ہے تو کہاں تک جاتی ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui