Thursday, 05 March 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Pakistan Bari Mushkil Mein

Pakistan Bari Mushkil Mein

نئی عالمی صورتحال میں پاکستان سب سے زیادہ مشکل کا شکار ہے۔ اگرچہ پچھلے سال مئی کی جنگ نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ آج کل دنیا بھر میں ملکوں یا قوموں کی عزت ان کی معیشت سے ہوتی ہے لیکن ہماری اکانومی بھلے خراب ہے لیکن اس جنگ کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔

صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کو وائٹ ہائوس مدعو کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کیلئے بے چین تھے۔ انہیں لگا کہ پاکستان آرمی ہی ان کا تحفظ کرسکتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تو پاکستان نے باقاعدہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا، جس کے جواب میں متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ ملتے جلتے معاہدے کیے۔

تاہم ایران پر امریکی حملوں کے بعد اگر کوئی ملک سب زیادہ مشکل کا شکار ہے تو وہ پاکستان ہے۔ یقینی طور پر پاکستان کی ملٹری اور سیاسی قیادت پر دبائو ہوگا کہ ان حالات میں وہ کیا ریاستی پالیسی اپناتے ہیں، خصوصاً جب معاملہ ایران اور سعودی عرب میں جنگ تک پہنچ گیا۔ بات صرف یہاں تک نہیں رکتی بلکہ ایران مشرقِ وسطیٰ کے تمام ملکوں پر میزائلوں یا ڈرون سے حملے کر چکا اور کر رہا ہے۔

اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف امریکی اڈوں پر حملے کر رہا لیکن اب دبئی اور سعودی عرب میں سویلین ٹارگٹس پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایران پر بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں سویلین بڑی تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک سکول پر حملے میں ڈیڑھ سو معصوم بچے شہید ہو گئے، جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت الگ سے ایرانیوں کے لیے شدید غم کی گھڑی ہے۔ اب جب خطے میں جنگ پھیلتی جا رہی ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کس سائیڈ پر کھڑا ہو؟

میرے خیال میں پاکستان کے پاس نیوٹرل رہنے کے امکانات بڑی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو جلد یا بدیر کوئی پوزیشن لینا پڑے گی، خصوصاً اگر سعودی عرب اور ایران کے مابین صورتحال خراب ہوئی۔ ایران سمجھتا ہے کہ اس پر امریکی اور اسرائیلی حملہ کرانے میں مڈل ایسٹ کے کچھ ممالک کا بھی ہاتھ ہے، لہٰذا اب وہ ان پہ بھی حملہ کر رہا ہے، جس سے جنگ مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان اگر سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں نیوٹرل رہتا ہے تو یقینی طور پر سعودی خوش نہیں ہوں گے کیونکہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کھل کر ان کا ساتھ دے اور ان حملوں کی مذمت کرے۔ پاکستان اگر سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے تو جنگ پاکستان تک پھیل سکتی ہے اور ملک کے اندر حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کارڈ کھیلا ہے اور سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کو فون کرکے حملوں کی مذمت کی ہے اور عربی زبان میں ایک ٹویٹ بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت احساس دلایا گیا کہ بھارت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگرچہ اس ٹویٹ میں مودی نے ایران کا نام نہیں لیا لیکن واضح ہے کہ سعودیوں کا ماننا ہے کہ ان پر حملہ ایران کی طرف سے کیا گیا۔ پاکستان بہت احتیاط سے چل رہا ہے کہ کوئی چھوٹا سا جذباتی بیان یا غلطی اسے جنگ میں دھکیل سکتی ہے اور پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا، خصوصاً جب اسرائیل کے حملے پاکستانی سرحد سے کچھ دور، ایران کے مختلف علاقوں میں ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف یہ بات سب کیلئے حیران کن ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اتنی ناکام کیوں ثابت ہوئی کہ انہیں اسرائیلی حملوں کا پتا ہی نہیں چل سکا اور ان کی ٹاپ مذہبی اور فوجی قیادت اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں ختم ہوگئی۔ ایران میں بھی اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ کیسی انٹیلی جنس ہے کہ آپ خود تسلیم کر رہے کہ اداروں کے اندر موساد کے ایجنٹس موجود ہیں اور انہوں نے اسرائیل کا کام آسان کیا۔ دنیا کی تاریخ میں انٹیلی جنس کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور ایران اس فرنٹ پر ایک دفعہ پھر ناکام ہوا ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais