آج کل "ویوز (views)" کا جادو ایسے سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ انسان کو اپنے رشتہ داروں کے نام یاد ہوں نہ ہوں۔ مگر یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ فلاں کے ویورز (viewers) میں شامل ہے۔ ایک خاتون بڑی سنجیدگی سے میرے پاس آئیں اور بولیں۔ میڈم! آپ میرے ویورز میں شامل ہیں۔ میں نے معصومیت سے کہا۔ بہن، میں تو آپ کو جانتی تک نہیں۔ وہ پورے اعتماد سے بولیں۔
نہیں، نہیں! آپ مجھے دیکھتی ہیں۔ میں نے خود ویورز کی لسٹ میں آپ کا نام دیکھا ہے۔ اب میری حالت وہی تھی۔ جو امتحان میں اپنا رول نمبر کسی اور کی کامیابی کی فہرست میں دیکھ کر ہوتی ہے۔ میں سوچنے لگی کہ آخر میرا نام وہاں پہنچا کیسے؟ مجھے تو یاد بھی نہیں کہ میں نے ان کی کوئی ویڈیو دیکھی ہو۔ پھر خیال آیا کہ شاید سوشل میڈیا پر انگلی ذرا سی پھسلی ہوگی اسکرین پر ان کی ویڈیو ایک لمحے کو گزری ہوگی اور الگورتھم نے اسی ایک جھلک کو محبت کا اقرار سمجھ لیا ہوگا۔ ہم تو صرف گزرے تھے مگر نظام نے اسے قیام سمجھ لیا۔
یہیں مجھے طبیعیات کا اصول یاد آگیا کہ ویوز (Waves) ایسی ارتعاشی کیفیت ہیں۔ جو مادے کو اپنی جگہ سے ہٹائے بغیر صرف توانائی منتقل کرتی ہیں۔ پانی کی لہریں کناروں تک پہنچتی ہیں۔ آواز کی لہریں کانوں تک اور روشنی کی لہریں آنکھوں تک مگر یہ سوشل میڈیا کی لہریں سب سے منفرد ہیں۔ نہ پانی میں پیدا ہوتی ہیں۔ نہ ہوا میں، نہ خلا میں، بلکہ موبائل کی اسکرین پر جنم لیتی ہیں۔ ان کی رفتار روشنی سے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ آپ کو ابھی معلوم بھی نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا دیکھا، مگر دنیا کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کس کے ویورز میں شامل ہیں۔ میکینیکل ویوز کو سفر کے لیے میڈیم چاہیے۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز خلا میں بھی چل سکتی ہیں۔ مگر سوشل میڈیا کی ویوز تو ایسی بے نیاز ہیں کہ نہ انہیں میڈیم چاہیے نہ اجازت۔ آپ نے صرف انگوٹھے کو ذرا سا حرکت دی اور وہ آپ کو کسی کے مستقل ناظرین میں شامل کر دیتی ہیں۔ بقول غالب
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق
اب زمانہ یہ ہے کہ لوگ پوچھتے نہیں۔ آپ کیسے ہیں۔ بلکہ دریافت کرتے ہیں۔ آپ نے میری ویڈیو دیکھی تھی نا؟ اور اگر آپ انکار کریں تو فوراً ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔
میرے ویوورز میں آپ کا نام آیا تھا۔ یعنی پہلے عدالتوں میں گواہ پیش کیے جاتے تھے۔ اب "ویورز کی لسٹ" پیش کی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں رشتے بھی اسی بنیاد پر طے ہوں گے۔ لڑکے والے پوچھیں گے بیٹا، تعلیم کتنی ہے؟ جواب آئے گا۔
ایم اے تو ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ پچاس ہزار ویوز آتے ہیں۔ کسی کا تعارف یوں ہوگا۔ یہ ہمارے بہت قریبی ہیں۔ کئی بار ہمارے ویوز میں آ چکے ہیں اور ناراضی میں بلاک نہیں، بس ویوز کی لسٹ محدود کر دی جائے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ملاقات کی نہیں۔ میٹرکس کی اہمیت ہے۔ تعلق کی نہیں۔ ڈیٹا کی گواہی معتبر ہے۔ آپ کا حافظہ کچھ بھی کہے۔ مگر سسٹم کا ریکارڈ آپ سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔ امکانات ہیں کہ مستقبل قریب میں انسانی تعلقات کا ایک نیا شعبہ وجود میں آئے۔ علمِ ویوز (views)۔ اس میں تحقیق ہوگی کہ کون کس کے ویوز میں کیوں آیا۔ کتنی دیر آیا۔ ارادتاً آیا یا اتفاقاً اور آیا بھی تو دیکھنے آیا تھا یا صرف گزرتے ہوئے ہوا کے ایک جھونکے کی طرح نکل گیا۔
شاید اس پر پی ایچ ڈی بھی ہو جائے۔ ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ آئندہ سوشل میڈیا پر "ویوز زکوٰۃ" کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ لوگ پوچھتے پھریں گے۔ بھائی! سال بھر میں کتنے ویوز جمع ہوئے۔ پھر کوئی فقیہہ ڈیجیٹل فتویٰ دے گا کہ اگر ویوز نصاب سے بڑھ جائیں تو ہر چالیس ویوز پر ایک ویو مستحقینِ الگورتھم کو دینا لازم ہے اور جو شخص بلاوجہ دوسروں کے ویوز میں آتا رہا۔ وہ شاید "صاحبِ نصابِ ویوز" کہلائے۔ آخر جب ہر چیز کا حساب ایپ رکھ سکتی ہے تو قیامت سے پہلے ایک چھوٹی سی "قیامتِ الگورتھم"کیوں نہ برپا ہو جائے۔
طبیعیات میں لہروں کی میکینیکل ویوز اور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کے ساتھ تیسری قسم بھی تسلیم کر ہی لینی چاہیے۔ سوشل میڈیا ویوز۔ یہ لہریں صرف توانائی ہی منتقل نہیں کرتیں بلکہ غلط فہمیاں، خوش فہمیاں، توقعات اور بعض اوقات تعلقات بھی پیدا کر دیتی ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لہروں کے اثرات کا علم اکثر اس شخص کو سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ جس کے نام پر پوری کہانی لکھی جا رہی ہوتی ہے۔ یعنی کسی نے کچھ لکھا ہوگا، کسی نے کچھ لکھا ہوگا۔ یوں لگتا ہے کہ آج کے دور میں انسان کم اور "ویو" زیادہ ہوگیا ہے۔
ہم ایک دوسرے سے کم ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ویوز میں زیادہ آتے ہیں۔ شاید یہی جدید تہذیب کا سب سے دلچسپ اور سب سے مزاحیہ، ارتعاش ہے۔ بس اب دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی زندگی میں بھی ایک دوسرے کے لیے انسانیت نبھانے میں جگہ دے۔ صرف ویورز کی لسٹوں میں نہیں۔ کیونکہ الگورتھم تو ایک لمحے کی لغزش کو بھی تعلق سمجھ لیتا ہے مگر انسان کبھی برسوں کی رفاقت بھی بھلا دیتا ہے۔