Thursday, 20 August 2026
  1. Home/
  2. Saadia Bashir/
  3. Riwayat: Kacha Ghara, Pathar Aur Mamnoo Khushbu

Riwayat: Kacha Ghara, Pathar Aur Mamnoo Khushbu

میں روایت ہوں۔ وہ روایت جس کی تصویر ہر عہد میں راویان نے اپنے اپنے مطلب سے بنائی ہے۔ پھر تشریح و تفسیر میں بھی اپنی مرضی کے رنگ بھرے ہیں۔ سب نے اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق میرے معانی اخذ کیے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق میری سرجری کرتے رہے ہیں۔ دعا کو دغا اور وفا کو جفا راویان نے ہی تسلیم کروایا ہے۔ کہیں تو میں ایک کچا گھڑا رہ گئی جسے ذرا سی ضرب نے توڑ دیا اور کہیں پانی پر تیرتے تیرتے خود ہی ڈوب گئی۔ مگر راوی کو میرا کوئی لحاظ نہیں۔

راویان کا ماننا ہے کہ روایت کوئی ایسی امانت نہیں جسے احتیاط سے سنبھالا جائے۔ وہ تو اسے بچوں کے کھیل کے کسی ایسے کھلونے بلکہ ایک ایسے ایپ کی طرح برتنا سیکھ چکے ہیں۔ جسے جب چاہیں، توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق پیش کیا جا سکے۔ راویان کہتے ہیں کہ روایت کے لیے ماضی میں جانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ حال کے کسی بھی لمحے میں بیٹھ کر ماضی کے تانے بانے ادھیڑ سکتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی مرضی کے دھاگے ڈال سکتے ہیں۔ کچھ گرہیں کھول سکتے ہیں۔ کچھ نئی گرہیں لگا سکتے ہیں اور پھر مجھے ایک ایسا ماضی بنا کر سب کے سامنے رکھ سکتے ہیں جو بظاہر سادگی و پرکاری کا مرقع ہو، مگر دراصل وقتی ہشیاری کے تحت تخلیق کیا گیا ہو۔

مجھے کبھی لوگوں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کبھی انہیں قابو کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے اور کبھی انہیں اصل راستے سے بھٹکانے کے لیے میری مسخ شدہ تصویریں دکھائی گئیں۔ میرے نام پر خوف پیدا کیا گیا۔ میرے نام پر اطاعت طلب کی گئی اور میرے نام پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ جن جن لوگوں نے میری اصل تصویر طلب کی، وہ معتوب ٹھہرے۔ یوں میں، روایت، صرف یادداشت نہیں رہی۔ مجھے اقتدار کی زبان بھی بنا دیا گیا۔ کبھی مجھے ایک پتھر بنا دیا گیا۔ ایسا پتھر جو لوگوں کے سروں پر برسایا جاتا رہا۔

ایک ہی پتھر کو ہر راوی نے اپنے ہاتھ میں پکڑنے کا انداز بدل لیا۔ کبھی وہ پتھر تقدس بن گیا کبھی حکم، کبھی سزا اور کبھی ایسی دیوار جس کے دوسری طرف جھانکنے اور سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ کبھی مجھے اسی ہاتھ نے پھول بھی بنا دیا۔ ایک ایسا پھول جس کی خوشبو کے قصے تو بہت سنائے گئے۔ مگر خوشبو سونگھنے کا حق سب کو نہیں دیا گیا۔ راویان نے کہا۔ یہ دیکھو، روایت کتنی خوشبودار ہے۔ مگر اس خوشبو تک رسائی کا اختیار صرف میرے پاس ہے۔ باقی لوگ صرف پھول کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی خوشبو کے بارے میں وہی مان سکتے ہیں جو انہیں بتایا جائے گا۔ یعنی

تجدیدِ روایات کہن کرتے رہیں گے
سرِ معرکہ دار و رسن کرتے رہیں گے

ابو المجاہد

یوں کبھی میں پتھر بن کر اپنا ہی سر پھوڑتی رہی اور کبھی پھول بن کر اپنی خوشبو سے محروم رہی۔ کبھی میرے نام پر خوف پیدا کیا گیا اور کبھی اسی نام پر ایک ایسی خوب صورتی تخلیق کی گئی جس کا تجربہ عام آدمی کے لیے ممنوع قرار پایا۔

سوال صرف یہ نہیں رہا کہ میں، روایت کہاں سے اپنی اصل صورت میں نکلی۔ اصل سوال یہ ہے کہ روایت کو بولنے اور بدلنے یا مسخ کرنیکا اختیار کس کے پاس ہے؟

کیونکہ روایت خود شاید اتنی بے رحم نہیں ہوتی جتنا اسے بیان کرنے والا بنا دیتا ہے۔ مسئلہ روایت کے وجود سے زیادہ اس کے استعمال کا ہے۔ جب کوئی راوی یہ طے کرنے لگے کہ ماضی میں سے کیا یاد رکھا جائے۔ کیا بھلا دیا جائے۔ کس واقعہ کو مثال بنایا جائے اور کس کو خاموشی میں دفن کر دیا جائے۔ تو روایت رفتہ رفتہ حافظے سے نکل کر ایک آلہ بن جاتی ہے اور آلہ ہمیشہ اس ہاتھ کا رنگ اختیار کر لیتا ہے جو اسے پکڑتا ہے۔ اسی لیے میرے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ میں پرانی ہوں یا نئی، سچی ہوں یا فرسودہ۔ مسئلہ یہ ہے کہ راوی کیا چاہتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے مجھ، روایت سے مکالمہ کیا؟ یا پھر مجھے اپنے حق میں گواہ بنا کر ہر بار عدالت میں کھڑا کر دیا؟

کیا ہم ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا ماضی سے اپنے حال کے لیے دلائل کشید کرتے ہیں؟ روایت اگر واقعی زندہ ہے تو اسے سوال سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ہر نئے سوال پر پتھر بن کر نہیں برسنا چاہیے اور اگر وہ پھول ہے تو اس کی خوشبو کسی ایک راوی کی جاگیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ روایت کو نہ کچا گھڑا بننے کی ضرورت ہے۔ نہ پتھر، نہ ایسا پھول جس کی خوشبو پر پہرے بٹھا دیے جائیں۔ روایت ماضی سے حال میں آئے مگر حال کو اپنا قیدی نہ بنائے۔ خطرہ یہ ہے کہ ہم روایت کو بچاتے بچاتے، روایت کے نام پر اپنی مرضی کا ماضی بناتے رہیں گے اور پھر ایک دن ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ اصل ماضی کہاں ختم ہوا تھا اور راوی کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی تھی۔ وہ کہانی جو اب تک ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui