Thursday, 13 August 2026
  1. Home/
  2. Saadia Bashir/
  3. Wo Jo Bechte Thay Dawa e Dil Wo Dukan Apni Barha Gaye

Wo Jo Bechte Thay Dawa e Dil Wo Dukan Apni Barha Gaye

روایت ہے کہ بادشاہ کے سر پر سینگ نکل آئے تھے۔ بادشاہ نے یہ راز دنیا سے چھپانے کی پوری کوشش کی۔ حجام کو بلایا۔ بال کٹوائے اور سختی سے کہا کہ کسی کو خبر نہ ہو کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔ حجام نے وعدہ تو کر لیا۔ مگر بعض راز ایسے ہوتے ہیں جو زبان پر آنے سے پہلے پیٹ میں مروڑ پیدا کر دیتے ہیں۔ حجام بھی اسی مرض کا شکار تھا۔ بادشاہ کے خوف سے کسی سے کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ سو جنگل کا رخ کیا۔ ایک درخت کے قریب پہنچا اور دل کا بوجھ اتارتے ہوئے بولا۔ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔ بادشاہ کے سر پر سینگ ہیں۔

حجام واپس آ گیا۔ لیکن راز ختم نہیں ہوا۔ درخت بڑا ہوا تو شاید اس کے پتوں میں بھی بادشاہ کے سینگوں کی سرسراہٹ سنائی دینے لگی۔ ہماری سوسائٹی میں ایسے حجام آج بھی بہت ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب جنگل جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ موبائل فون، واٹس ایپ اور محفلیں موجود ہیں۔ کسی کے گھر کی کوئی بات معلوم ہوئی نہیں۔ بس کاتا اور لے دوڑی۔ کسی کی شادی میں مسئلہ ہوا تو خبر بن گئی۔ کسی کے بچے نے اسکول بدلا تو سوال شروع۔ کسی کی بیٹی کی منگنی ہوئی تو پوری تفتیش۔ کسی کے گھر میں اختلاف ہوا تو محلے کے لوگوں کو ایسے تشویش لاحق ہوئی جیسے قومی سلامتی کا معاملہ ہو۔

ہم میں سے کچھ لوگ تو پہلی ملاقات ہی میں دوسروں کی زندگی کا مردم شماری فارم بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا حال ہے۔ شادی کب ہوئی۔ بچے کتنے ہیں۔ کون سی کلاس میں ہیں۔ شوہر کیا کرتے ہیں۔ کہاں کام کرتے ہیں۔ بچے کہاں پڑھتے ہیں۔ کون سی کلاسز لیتے ہیں۔ آپ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں آخر ہر جگہ اپنی فیملی کی مکمل فائل جمع کروانا کیوں ضروری ہے۔ یہاں تک کہ فون پر بھی بعض لوگوں کے لیے اصل موضوع فوراً بدل جاتا ہے۔ اچھا! بچے کیسے ہیں۔ کون سی کلاس میں ہیں اور اگر آپ نے بدقسمتی سے بچوں کا ذکر کر دیا تو سمجھ لیجیے۔ ان کی مکمل تعلیمی، طبی، نفسیاتی اور معاشرتی تاریخ بھی طلب کی جا سکتی ہے۔

یعنی پہلے فارم بھرو۔ پھر بات ہو سکتی ہے۔ یہ محض تجسس نہیں۔ یہ دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت ہے۔ ہم نے عجیب معاشرہ بنا لیا ہے جہاں ہمیں دوسروں کے بارے میں جاننے کا حق تو بہت محسوس ہوتا ہے مگر اپنی حدود کا احساس بہت کم۔ کسی کا آپ کو جاننا اس کی زندگی کی تفتیش کا اجازت نامہ نہیں دوستی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اس کے گھر، شادی، بچوں، آمدن اور رشتوں کی مکمل تفصیل معلوم ہونی چاہیے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ذاتی معلومات صرف گپ شپ نہیں ہوتیں۔ کسی کے گھر کے حالات، بچوں کے اسکول، روزمرہ معمولات، آنے جانے کے اوقات اور خاندانی معاملات کے بارے میں معلومات غلط شخص کے ہاتھ میں خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی ذہنیت کی ایک اور شکل ہے۔ اپنا پیٹ دکھانا۔ یعنی کچھ نہیں تو بس اپنی ہی ہانکتے جاؤ۔ گویا دوائے دل کی بجائے وبائے دل کی اصطلاح استعمال کی جانا چاہیے۔

ہر تجدید نئے شر کا استعارہ ہے۔ سب سے خطرناک صورت دوسروں کی حدود کی پامالی ہے۔ کسی کے پاس سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر اسے ہاتھ لگانا۔ بے ہنگم ٹریفک میں کسی کو لاتیں گھونسے مارنا۔ یہ سب بھی اسی بنیادی بیماری کی علامت ہے کہ مجھے تمہاری حدود کی پرواہ نہیں۔ ایک شخص سوالوں کے ذریعے آپ کی نجی زندگی میں گھستا ہے۔ دوسرا ہاتھ بڑھا کر۔ دونوں صورتوں میں دوسرے انسان کی مرضی، عزت اور حدود کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالانکہ تہذیب کا مطلب یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کی اپنی جگہ دی جائے۔ ہر سوال کا جواب ضروری نہیں۔ ہر راز جاننا ضروری نہیں۔

ہر بات آگے پہنچانا ضروری نہیں اور ہر تعلق ہمیں دوسرے کی نجی زندگی میں داخل ہونے کا حق نہیں دیتا۔ کسی کا آپ کو جاننا، آپ کو اس کی زندگی میں داخلے کا پاس نہیں دیتا۔ کسی سے واقفیت اس کے گھر کی تفتیش کا لائسنس نہیں۔ کسی سے سلام دعا، اس کے ازدواجی معاملات پوچھنے کی اجازت نہیں اور کسی کے ساتھ کام کرنے کا مطلب اس کے بچوں، آمدن، رشتوں اور گھریلو حالات کی فائل کھولنے کا اختیار نہیں۔ کبھی کبھی کسی سے صرف اتنا پوچھ لینا کافی ہوتا ہے۔ آپ خیریت سے ہیں۔ وہ کہے، الحمدللہ تو بات ختم۔

یہ ضروری نہیں کہ اگلا سوال ہو۔ اچھا مگر اصل میں ہوا کیا تھا۔ کیونکہ شاید کچھ لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ ان کے پاس باتیں بہت ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی زندگی میں بات کرنے کو کچھ کم ہے۔ اس لیے وہ دوسروں کی زندگی سے مواد اکٹھا کرتے رہتے ہیں اور یوں دوسروں کے راز ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ کسی کی نجی بات جان لینے سے آپ اہم نہیں ہوجاتے۔ کسی کے گھر کی خبر رکھنے سے آپ معتبر نہیں بن جاتے اور کسی کی زندگی میں جھانکنے سے آپ کی اپنی زندگی بڑی نہیں ہوجاتی اور اگر واقعی بات پیٹ میں نہیں ٹکتی تو حجام کی طرح درخت تلاش کرنے کے بجائے پیٹ درد کی دوا لیجیے۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui