میں نے اپنے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا ڈی ایچ اے میں گھر کی شفٹنگ کے بعد یہ ہماری پہلی بکرا عید تھی، پہلے ہمیں اندرون شہر یا ڈی ایچ اے سے باہر کے کچھ رہائشی علاقوں میں اپنی مرضی کا گند ڈالنے کی کُھلی چُھٹی تھی، چنانچہ ہم نے سوچ رکھا تھا "ڈی ایچ اے میں بھی اپنے قربانی کے جانوروں کو ہم گھر سے باہر باندھیں گے، شام کو حسب معمول اُن کی رسیاں پکڑ کر اُنہیں گھمائیں گے تاکہ وہ ہمسایوں کے قیمتی پودوں پر کُھلے دل سے حملہ آور ہو سکیں، علاوہ ازیں وہ گھر کے باہر یا جگہ جگہ جو لِد کریں گے اُسے ڈی ایچ اے کا عملہ دن میں کم از کم دو تین بار ضرور اُٹھا کے لے جائے گا"۔
ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں تھا، ہمیں پہلے ہی روز اندازہ ہوگیا تھا یہاں بندے کا پُتر بن کے رہنا پڑے گا، یہاں اپنی مرضی کی چَولیں ہم نہیں مار سکیں گے، پہلے ہی روز ہمارے ڈرائیور نے گھر سے باہر گاڑی دھوئی ہمیں اس کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا یہ رولز کی خلاف ورزی ہے، اب گھر کے اندر گاڑی دھوتے ہوئے بھی ہمارا ڈرائیور انتہائی محتاط رہتا ہے، عید قربان سے ایک روز پہلے اپنے ایک محلے دار ریٹائرڈ کرنل صاحب سے میں نے پوچھا "ہمارے لئے قُربانی کے کیا قواعد ضوابط ہیں؟"۔ اُنہوں نے اُس کی تفصیل مجھے بتا دی، پھر میں نے اُن سے پوچھا "آپ کے لئے کیا قواعد و ضوابط ہیں؟" وہ جواب میں مُسکرا دئیے۔
میں نے شکر ادا کیا وہ بُرا نہیں مان گئے ورنہ ممکن تھا اُن کے لوگ مجھے بھی کوئی بیل بکرا سمجھ کر ذبح کر دیتے، قواعد و ضوابط یا رولز کی خلاف ورزی کے جُرمانے سے بچنے کے لئے اس بار ہم نے اپنی قربانی اپنے چھوٹے بھائی ہارون بٹ کے گھر واقع مسلم ٹاون میں کی۔ یہ درست ہے "سُتھرا پنجاب" کی ٹیم نے عیدالاضحی پر صفائی کا اچھا انتظام کیا تھا، پنجاب سرکار نے کچھ سرکاری قلم کاروں سے اس کی مداح سرائی کرائی تو کسی کو بھی بُرا نہیں لگا کیونکہ لاہور میں صفائی کا انتظام واقعی اچھا تھا، اس کا کریڈٹ خاکروبوں یا صفائی ورکروں کو دیتے ہوئے میں اس لئے ڈرتا ہوں کہیں چیف منسٹر یا چیف سیکریٹری اس کا بُرا نہ مان جائیں کہ ہمارا کریڈٹ خاکروبوں کو کیوں دیا جا رہا ہے؟
ہمارے بھائی محسن گورایا نے اپنے کالم میں اس کا کریڈٹ چیف سیکریٹری پنجاب کو دیا اُنہوں نے آگے سے سی ایم کو دے دیا، جس کا صاف صاف مطلب یہ تھا اپنی نوکری یا تابعداری پکی کرنے کے فن پر وہ ہلکی سی زد بھی نہیں پڑنے دینا چاہتے، چاہے اس معاملے میں عزت مکمل طور پر ہی کیوں نہ چلی جائے، لاہور کی بڑی بڑی شاہراہوں پر یا گلی محلوں میں ہمیں اُس طرح اوجھڑیاں کلیجیاں بکھری نظر نہیں آئیں جسے بکرا عید کی "شان" سمجھا جاتا ہے، حال ہی میں سُتھرا پنجاب کا ایک بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آیا ہے، ممکن ہے اُس کے اثرات زائل کرنے کے لئے اس بار اس ادارے سے زیادہ کام لیا گیا ہو، بیشمار علاقوں میں قربانی کی کھالیں بھی سُتھرا پنجاب کے کارکنوں نے وصول کیں، کھال اُتارنا ایک فن ہوتا ہے، عید پر قصائی ہمارے جانوروں کی اس صفائی سے کھالیں اُتار رہے تھے مجھے لگا یہ کوئی ریٹائرڈ بیوروکریٹ یعنی "بیورو کرپٹ" ہیں۔
اُنہوں نے بتایا وہ اُس سے بھی آگے کی توپیں ہیں جو بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو تگنی کا ناچ نچواتی ہیں، میں خوفزدہ ہو کے فوراً اندر گیا اور بیگم سے کہا گھر کا قیمتی سامان فوراً اِدھر اُدھر کر دو، بلکہ ہو سکے تو پورا گھر ہی اِدھر اُدھر کر دو قبضے کا خطرہ ہے، ساتھ عزت کا بھی ہے، اس بار میں نے محسوس کیا قربانی کے جانوروں نے زیادہ شور شرابا نہیں کیا جو اکثر عید کی رات کو اپنا حق سمجھ کر وہ کرتے ہیں، یہ صبر اُنہوں نے شاید پاکستان کی "پچیس کروڑ بھیڑ بکریوں" سے سیکھا ہوگا جو خاموشی سے ذبح ہونے میں کوئی عار نہیں سمجھتیں، اس بار گوشت لینے والے مستحقین کی تعداد بہت زیادہ تھی، ہمیں گوشت تقسیم کرنے گھر سے باہر نہیں جانا پڑا، لوگ گھر میں ہی آ گئے تھے، بچوں اور خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی تھی، ایک مائی کو میں نے بیل کا گوشت دیا وہ کہنے لگی "مجھے بکرے اور اُونٹ کا بھی دیں"، میں نے پوچھا "آپ نے سارے گوشت لے کے کیا کرنا ہے؟"، وہ بولی "اپنے عزیزوں کی دعوت کرنی ہے آپ نے بھی لازمی آنا ہے"۔
ہمارے ہی گوشت پر ہماری دعوت کی اس بات پر مجھے بڑے مزے کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ہمارے ایک مشہور شاعر جو ہر معاملے میں دیر کر دیتے تھے ایک بار بیمار ہو گئے، میں، عطاالحق قاسمی، حسن رضوی اور اجمل نیازی اُن کی عیادت کے لئے گئے ساتھ بطور فروٹ "دم والے پانی" کی ایک بوتل بھی لے گئے، بوتل دیکھ کر اُن کی باچھیں کھل گئیں، اُنہوں نے وہ بوتل اپنے بیڈ کے نیچے رکھ لی، حسن رضوی نے اُن سے کہا "نیازی صاحب اے بوتل ذرا میز تے رکھو، اسی وی دو گھونٹ پی لئیے"، وہ بولے "آندیاں ای منگ پا دتی جے"، "ساہڈی بوتل ساہنوں ای میاوں" کا جو مظاہرہ اُنہوں نے اُس وقت کیا ہمارا ہنس ہنس کے بُرا حال ہوگیا۔
ایک اور مائی نے گوشت کے ساتھ کلیجی پھیپھڑا بھی مانگا، میں نے سوچا شاید پکانا ہوگا، وہ بولی "پکانا نہیں اس کا صدقہ دینا ہے کیونکہ اس بار ہمیں اچھا خاصا گوشت اکٹھا ہوگیا ہے یہ نہ ہو کسی کی نظر لگ جائے"۔ پچھلی بار میں جب اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر گوشت تقسیم کر رہا تھا ایک پردہ دار خاتون کو میں نے شاپر بھر کر دیا، وہ کہنے لگی "آدھا کر دیں"، میں بڑا حیران ہوا، میں نے اُس سے پوچھا "بی بی لوگ تو کہتے ہیں پورا بھر دیں آپ آدھا کیوں کرا رہی ہیں؟"، وہ بولی "میرے پاس اتنا گوشت پکانے کا سامان ہی نہیں ہے، نہ اتنے پیسے ہیں جس سے میں سامان خرید سکوں، نہ کوئی فریزر یا فریج ہے جس میں اتنا گوشت میں محفوظ کر سکوں"۔
اُسی رات میں نے اپنے بیٹے سے کہا "اگلی عید پر جب مستحقین گوشت لینے آئیں آپ نے اُنہیں ساتھ ایک ہزار روپے بھی دینے ہیں تاکہ وہ گوشت پکانے کا سامان خرید سکیں"۔ علاوہ ازیں اُنہیں صرف گوشت یا ایک ہزار روپے ہی نہیں دینے اُن کی خدمت بھی کرنی ہے جیسے اپنے دوسرے مہمانوں کی ہم کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بار شدید گرمی کے پیش نظر ہم نے اپنے بلکہ اللہ کے ان مہمانوں کے لئے ستو اور نمکیں و میٹھی لسی کا اہتمام بھی کر رکھا تھا۔
اللہ جانتا ہے یہ بات میں نمود و نمائش کے لئے نہیں کر رہا، میں صرف اپنے دوستوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں اگر وہ چاہیں وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس سے قربانی کا ثواب ممکن ہے کئی گنا بڑھ جائے اور ہمارے کئی گناہ بھی معاف ہو جائیں۔ آخر میں مجھے اپنے دوست دلدار پرویز بھٹی کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے، عید قربان پر اُن کی بیگم نے اُن سے پوچھا "دلدار آج گوشت وچ کی پائیے؟"، وہ بولے "اج گوشت وچ گوشت پا لئیے"۔