Sunday, 02 August 2026
  1. Home/
  2. Tayeba Zia/
  3. Siasi Taqreer Au Karve Sach

Siasi Taqreer Au Karve Sach

سوال کڑوا ہے مگر جب وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے منہ سے کچھ کڑوے سچ سنے تو سوچا ایک کڑوا سچ ہم بھی پوچھ لیں۔ محسن نقوی صاحب فرماتے ہیں کہ نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار اور مواقع دئیے جائیں۔ تو جناب۔ اس پر کڑوا سوال یہ ہے کہ جب ہر بار ہر دور میں خوشامدی، سفارشی یاخاندانی تعلقات ہی عہدوں پربھرتی کئیے جاتے رہیں گے تو کرپٹ نظام کا جرم کس پر ڈالا جا سکتا ہے۔ میرٹ کی دھجیاں اڑانے میں کسی نے کسر نہیں چھوڑی۔ ریاست اور سیاست کے گٹھ جوڑ کا نام سسٹم ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے کہا کہ "ہم جس نظام کے تحت رہ رہے ہیں وہ ناکام (Collapse) ہو چکا ہے" اور اسے زبردستی گھسیٹنے سے ملکی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ پچھلے 70 سال سے جو نظام چل رہا ہے وہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بجٹ منفی میں بناتے ہیں اور ہر سال مزید قرضے لینے پر بحث تو کرتے ہیں، لیکن بنیادی اصلاحات اور نظام کی درستی کی طرف قدم نہیں بڑھاتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شفافیت، میرٹ، مساوی روزگار کے مواقع اور عدل و انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں اور اس کے لیے تمام سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر دیرپا اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اکنامک سمٹ کے دوران دیا گیا یہ بیان اس وقت میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث اور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام مفلوج اور تباہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس نظام کی بروقت اور بنیادی اصلاح نہ کی گئی تو یہ مزید نہیں چلے گا۔ ان کے بیان کا سب سے زیادہ متنازعہ اور چونکا دینے والا حصہ کاکروچ سے متعلق تھاکہ اگر عوام یا نوجوان اپنی طاقت کو پہچان کر یکجا ہو گئے، تو یہ پورا بوسیدہ نظام تلپٹ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ حکومت اور ریاست نوجوانوں کو جائز روزگار اور ان کا حق دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ حالات ہاتھ سے نکل جائیں اور لوگ اپنے حقوق کے لیے خود متحد ہوں، نظام کو ٹھیک کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔۔ محسن نقوی صاحب کی تقریر سے بس اتنی سمجھ آئی ہے کہ یہ " پیغام "تھا۔

اپنے وزیراعظم کی چار سالہ کارکردگی کا سرعام پوسٹ مارٹم کرنے والا اتنا طاقتور وزیر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے یہ درس بلا سبب نہیں دیا، عوام کو شاید کسی نئے بندوبست کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی صاحب تو اس نظام کے سب سے پاورفل عہدے انجوائے کر رہے ہیں۔ بے شک فیلڈ مارشل صاحب کی محنت اور ملک کے لئے بے لوث بھاگ دوڑ بے مثال ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بھی فیلڈ مارشل صاحب کے بہت بڑے مداح ہیں پھر وزیر داخلہ کو تنقیدی تقریر کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟

یوتھ المعروف کاکروچ کے نہ سنبھالے جانے کا ڈراوا سابق وزیر اعظم بھی دیتا رہا اور آج وزیر داخلہ بھی دے رہے ہیں۔ یوتھ کی نہ پہلے سنی گئی اور بقول وزیر داخلہ آج بھی یوتھ لاوارث ہے تو سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پیغام کیپس پشت ہونے کیا والا ہے؟ تجزیہ کاروں کے نزدیک محسن نقوی کے بیان کی دو تشریحات ہیں ایک تو یہ کہ وزیراعظم پاکستان کو اسکا علم ہے کہ طے کیا جا چکاہے کہ نئے صوبے بنانے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت موجودہ صوبوں کو اتنے وسائل دینے ہیں کہ وفاق کے پاس بھی کچھ رقم بچ جائے۔

تیسرا پاکستان کا مستقبل زراعت سے منسک ہے۔ باہر سے کوئی سرمایہ کاری تب ہی آئے گی جب ہم نے نئے نہری نظام کو قائم کرنا ہے جس پر سندھ میں احتجاج ہوا تھا۔ وفاقی کابینہ کے لوگوں کو اس چیز کا علم ہے۔ تقریر بلا سبب نہیں تھی، ہشیار باش تھی۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui