Sunday, 27 September 2026
  1. Home/
  2. Umar Khan Jozvi/
  3. Ehtejaji Siasat, Awam Ka Kya Qasoor?

Ehtejaji Siasat, Awam Ka Kya Qasoor?

وہ فیملی کوایک سائیڈپربٹھاکر کافی دیر سے ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے، ان کی بے چینی اور بے قراری کو ہم نے کئی بار نوٹ کیالیکن پھر ہم آپس کی گپ شپ اور اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے۔ یہ ہمارے آبائی ضلع بٹگرام کے ویگن اڈے کا ایک منظر تھا۔ ہم چاردوست اڈے کے فرنٹ پر قائم ایک ہوٹل میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ وہی نوجوان دوڑتے ہوئے اچانک ہماری طرف آئے اور پشتو میں پوچھنے لگے۔ روراپنڈی اسلام آباد گاڑی بہ کم زائے نہ ملاوشی؟ یعنی بھائی راولپنڈی اسلام آبادکی گاڑی کہاں سے ملے گی؟

ہم نے سامنے پنڈی والے سٹینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاوہاں سے مل جائے گی۔ نوجوان نے بے بسی سے نفی میں سر ہلایا اور بولا۔ وہاں سے گاڑی نہیں جاتی۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے کنٹینر لگا کرتمام راستے بند کردیئے ہیں۔ ہماری ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے اورہمیں ہرحال میں راولپنڈی جاناہے۔ پنڈی میں میراخالہ زادبھائی چھت سے گر گیا ہے اوراس وقت ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں داخل ہے۔ ہمارا وہاں پہنچنا بہت ضروری ہے۔ میں نے یہاں اڈے میں ایک گاڑی والے سے بات کی تو وہ پنڈی تک بارہ ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں۔

میرادل ودماغ پھٹ رہاہے، خداراآپ لوگ کچھ کریں۔ بظاہرتووہ نوجوان ہمارے آگے کھڑا تھامگر یوں لگ رہا تھاکہ جیسے وہ ہمارے آگے نہیں کسی بند راستے کے سامنے کھڑا ہو۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، لہجے میں التجا اور چہرے پر وہ بے بسی تھی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ نہ پی ٹی آئی کا کارکن تھااورنہ حکومت کاکوئی مخالف۔ اس کے ہاتھ میں کوئی جھنڈابھی نہیں تھانہ اس کی زبان پرکوئی سیاسی نعرہ تھا۔ آپ یقین جانیں اس کے ہاتھ اورسینے پرکسی قائداورلیڈرکی تصویربھی نہیں تھی۔ اس کے پاس صرف ایک ضرورت تھی اوراس ضرورت کے تحت انہیں ہرحال میں راولپنڈی پہنچنا تھامگرآگے راستے میں پوری سیاست کھڑی تھی۔

ایک طرف سیاسی احتجاج ولانگ مارچ کا اعلان تھااوردوسری طرف حکومت کے کنٹینر تھے۔ ایک طرف سیاسی مطالبات تھے، دوسری طرف ریاستی انتظامات۔ ایک طرف کارکن اپنے قائد کے لئے سڑکوں پر آنے کی تیاریوں میں مصروف تھے اوردوسری طرف حکومت انہیں روکنے کے لئے شاہراہیں اورموٹرویزبند کرنے کی تیاری میں مگن تھی۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایساشخص کھڑا تھاجس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھامگرپھربھی اسی سیاست نے اس کی زندگی کا سب سے اہم راستہ بند کردیا تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک شخص کانہیں اس طرح کے حالات سے آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کوگزرناپڑرہاہے۔

غریب عوام کی مجبوری، بے بسی اورلاچاری سے دل کھول کرکھیلنے کایہ کھیل کوئی نیانہیں۔ اس بدقسمت ملک میں جب بھی کوئی سیاسی جماعت احتجاج کا اعلان کرتی ہے تو چند گھنٹوں یا دنوں کے لئے پورا ملک ایک عجیب سی کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے۔ حکومت سکیورٹی انتظامات بڑھاتی ہے، کنٹینر منگوائے جاتے ہیں، راستے بند کئے جاتے ہیں، موبائل سروس کی بندش کی خبریں آتی ہیں، پولیس کی نفری بڑھائی جاتی ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ سیاسی کارکنوں کے لئے تویہ مزاحمت اورانجوائمنٹ کا وقت ہوتا ہے لیکن عام آدمی کے لئے یہ زندگی کا ایک اور مشکل دن بن کرسامنے آتا ہے۔

وہ نوجوان بھی شائد اسی دن یہ سوچ کر گھر سے نکلا ہوگا کہ چند گھنٹوں میں وہ پنڈی پہنچ جائے گا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ راستے میں کوئی سیاسی مسئلہ اس کی ذاتی ایمرجنسی سے بڑا بن کر کھڑا ہوجائے گا۔ اسے شائدیہ بھی معلوم نہ ہوکہ حکومت کے نزدیک یہ چند بند راستے "امن و امان" کے لئے ضروری ہیں اور احتجاج کرنے والوں کے نزدیک انہی راستوں پر آنا "سیاسی جدوجہد"او رکامیابی ہے۔ وہ توصرف اتناجانتاتھا کہ ایک طرف اس کا زخمی عزیز ہسپتال میں پڑا ہے اور دوسری طرف وہ خود راستہ تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ یہی آج پاکستان کے ایک عام اورہر شہری کا المیہ ہے۔

ہماری سیاست میں عوام سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے مگر عملی سیاست میں سب سے کم اہم کردار بھی اکثر عوام ہی کا ہوتا ہے۔ حکومت کے خلاف احتجاج ہو تو بھی عوام اورحکومت کا دفاع ہو توبھی عوام مگر جب فیصلہ کرنے کا وقت آئے کہ احتجاج کہاں ہوگا، راستے کتنی دیر بند رہیں گے، کاروبار کتنا متاثر ہوگا، مریض کیسے ہسپتال پہنچیں گے، مزدور کی دیہاڑی کا کیا ہوگا، مسافر کہاں جائیں گے؟ توپھر یہی عوام اچانک کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف کے لئے احتجاج کرنا چاہتی ہے ایک نہیں ہزاراورلاکھ بارکرے۔ احتجاج جمہوری سیاست کا حصہ ہے۔

اپنے قائد کی رہائی یا اپنے مطالبات کے لئے آواز اٹھانا بھی سیاسی حق ہے لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے کہ عام شہری کی زندگی اجیرن نہ ہو۔ دوسری طرف حکومت کابھی فرض ہے کہ امن و امان قائم رکھے۔ کسی احتجاج کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے مگر ریاستی اختیار استعمال کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہر سیاسی احتجاج کے جواب میں پورے شہر اور پورے راستے کو بند کردیا جائے کیونکہ کنٹینر صرف احتجاج کرنے والوں کا راستہ نہیں روکتے۔ وہ ایمبولینس، مزدور، طالب علم، مسافراورتاجرکا راستہ بھی روکتے ہیں۔ یہی کنٹینرکبھی کبھی ایسے شخص کا راستہ بھی روک لیتے ہیں جو آخری بار اپنے کسی پیارے کا چہرہ دیکھنے کے لئے ہسپتال پہنچنا چاہتا ہو۔

ملک صرف سیاسی کارکنوں کا نہیں ہوتا۔ ملک ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان لوگوں کا بھی جو صبح دفتر جاتے ہیں اور شام کو گھر واپس آتے ہیں۔ یہ ملک ان کابھی ہے جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور اس ملک کے مالک وہ لوگ بھی ہیں جو صرف امن اورسکون سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں کو شائدیہ بات پھرسے یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کی زندگی ان کے سیاسی کیلنڈر کے مطابق نہیں چلتی۔ اس کے گھر میں بچہ بیمار ہو تو اسے جلسے کی تاریخ نہیں دیکھنی ہوتی۔ اسے نوکری پر پہنچنا ہو تو اسے احتجاج کا شیڈول معلوم نہیں ہوتا۔ اسے ہسپتال جانا ہو تو اسے یہ نہیں معلوم کہ آج حکومت نے کس سڑک پر کنٹینر کھڑا کیا ہے۔ وہ صرف آگے بڑھنے اورمنزل تک پہنچنے کے لئے راستہ چاہتا ہے اور یہی اس کاوہ بنیادی حق ہے جو ہماری سیاسی کشمکش بار بار اس سے چھین رہاہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن شائد یہ سمجھتے ہیں کہ کپتان کے نام پر نعرے لگانا اور سڑکوں پر نکلنا ایک بڑی سیاسی خدمت ہے اورحکومت کوشائد یہ لگے کہ کنٹینروں کے ذریعے راستے بند کرکے احتجاج کو روک لینا ریاستی کامیابی ہے مگر حقیقت میں احتجاج کایہ کھیل اس ملک کے غریب عوام کے لئے وہ کالا اڑدھاہے جوانتہائی خاموشی کے ساتھ ان کونگل رہاہے۔ دنیاچاندپرپہنچ گئی مگرہم ابھی تک احتجاج، لانگ مارچ اورکنٹینرکی سیاست سے باہرنہیں نکل سکے۔ آخرہم کب یہ سمجھیں گے کہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ شہریوں کو تکلیف دینے کے بغیربھی ہوتاہے اورہم کب یہ تسلیم کریں گے کہ حکومت کی طاقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ اس نے کتنے کنٹینر کھڑے کردیئے بلکہ یہ ہے کہ اس نے احتجاج، مظاہروں اورلانگ مارچ کے باوجود شہریوں کی زندگی کو کس قدرآسان بناکر معمول پر رکھا؟ سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کی لڑائی میں آج بھی سب سے زیادہ رگڑا عام آدمی ہی کھا رہا ہے۔

ایک طرف کارکن ہر دوسرے دن کپتان کے نام پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں تودوسری طرف حکومت وفاقی دارالحکومت سمیت دوسرے شہروں میں کنٹینر لگا کررہی سہی کسرنکال دیتی ہے۔ حکومت اوراپوزیشن کی مرضی یہ آپس میں چاہے جوبھی کھیل کھیلیں لیکن خداراغریب عوام کواپنے اس کھیل کاایندھن نہ بنائیں۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui