زندگی کیا ہے؟ اور اس کے کیا معنی ہیں؟ ہم اکثر ایسے سوالات سے دوچار رہتے ہیں۔ شب و روز کی محنت و مشقت کا مقصد کیا ہے؟ یہ خیالات ہمیں بہت پریشان رکھتے ہیں اور ایسی صورت میں زندگی کے کوئی خاص معنی نہیں رہ جاتے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جن کا دن بس اپنی اور اپنے سے جڑے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں ہی گزر جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو زندگی بالکل بے معنی معلوم ہوتی ہے اور وہ اکثر پراگندہ خیال رہتے ہیں۔ پھر انھیں یہ بات بھی ستاتی ہے کہ آخر اس زندگی کے کیا معنی متعین کریں؟ کہ اس ایک جیسی اور با مشقت زندگی کے سفر میں کسی قدم پر سکون حاصل ہو سکے اور اگر اس طرح کی زندگی کے کوئی معنی ہیں بھی تو وہ کیا ہیں؟
اس گروہ میں آنے والے لوگوں کی حیات کے تانے بانے براہِ راست یونان کی ایک دیومالائی کہانی (THE MYTH OF SYSIPHUS)کے کردار سے جا ملتے ہیں۔
یہ ایک ایسی اساطیری کہانی ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقت کو کیسے قبول کیا جاتا ہے اور زندگی کے خود کوئی متعین معنی موجود نہیں مگر ہمیں خود اسے کوئی معنی دینے ہوتے ہیں جس سے ہمارے لیے زندگی کو گزارنا کچھ حد تک آسان ہو جاتا ہے۔
یہ کہانی ایک یونانی بادشاہ SYSIPHUS کے متعلق ہے جسے یونانی خداؤں کی جانب سے ایک سزا ملتی ہے کہ وہ اب اپنی ساری زندگی جہنم میں بسر کرے گا، مگر اس سزا میں ایک خاص چیز شامل تھی اور وہ یہ تھی کہ اسےایک بھاری پتھر اٹھا کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر رکھنا ہوگا اور اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے اسے جہنم سے آزاد کردیا جائے۔
SYSIPHUSکو یہ کام آسان لگا اور وہ اس بھاری پتھر کو اٹھا کر پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر جب اس نے پتھر کو وہاں رکھا تو اسے یہ گمان ہوا کہ اس کی ذمہ داری مکمل ہوگئی ہے لیکن اسی لمحے یونانی خداؤں نے اس بھاری پتھر کو نیچے پھینک دیا۔
بادشاہ کو لگا کہ اس کے ساتھ یونانی خداؤں نے شرارت کی ہے۔ اس نے پھر پتھر کو اٹھایا اور پہاڑ کے اوپر لے جاکر رکھ دیا، مگر پہلی دفعہ کی طرح اس بار بھی وہی ہوا، پتھر کو پھر نیچے لڑھکا دیا گیا۔
کئی مرتبہ اسی عمل سے گزرنے کے بعد (کہ وہ پتھر کو پہاڑ پر لے جا کر رکھتا اور پھر اسے نیچے دھکیل دیا جاتا ہے) اس کی سمجھ میں آگیا کہ وہ ایک بے معنی مشقت میں جکڑا جا چکا ہے، یعنی یہ ایک سعئی بے حاصل ہے۔ اب وہ یہ عمل بار بار کرتا رہا اور پتھر کو نیچےگرتےدیکھتے رہا۔
پتھر کے گر جانے کے بعد جب ہمارا کردار پہاڑ سے نیچے اتر رہا ہوتا ہے تبھی وہ ہماری توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ کیوں کہ اسی واپسی میں اس کا شعور اسے بیدار کرتا ہے کہ اس کی ذات ایک پتھر کو بار بار اٹھا کر خود بھی پتھر کی سی ہو چکی ہے۔ وہ انھی قدموں پھر کر اس مشقت کو دہرانے کے لیے چل نکلتا ہے۔ اب وہ سمجھنا شروع کرتا ہے کہ اس سزا کی نہ کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معنی بنتی ہے، بس یہ ایک عمل ہے جو اسے بار بار دہرانا ہے اور وہ اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے کہ اب اس کی زندگی ایک دائرہ بن چکی ہے جس میں اسے چکر لگاتے رہنا ہے۔
غور و فکر کا یہ لمحہ اس پر شعور کے نئے در وا کر دیتا ہے اوروہ اپنی موجودہ بے معنویت کی حقیقت کو قبول کرکے اپنی تقدیر سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔
اس دیومالاکو جب ایک فرانسیسی ناول نگار ALBERT CAMUS سمجھاتے ہیں تو ایک فقرے میں اس کہانی میں دکھائی جانے والی بے معنویت کو معنویت میں بدل دیتے ہیں:
"ONE MUST IMAGINE SYSIPHUS HAPPY. "
اگر ہم اس فقرے کو ذہن میں رکھتےہوئے یہ سوچ لیں کہ سسی فس خوش تھا اور اپنی اس بے مقصدیت اور سعئی بے حاصل میں وہ مسرت حاصل کر چکا تھا، تو انسانی زندگی بھی سسی فس کی کہانی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
ہر دن ایک سی مشقت اوریہ سوچناکہ کیا اس سب کے کوئی معنی ہیں؟ اور اگر ہیں بھی تو کیا ہیں؟ ایسی الجھن میں ہماری مدد ALBERT CAMUS کا یہ فقرہ ہی کر سکتا ہے۔ اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ اپنے حالات کو قبول کرکے اس زندگی کے خود کوئی معنی متعین کرلیں۔ کیوں کہ زندگی کے کوئی طے شدہ معنی موجود نہیں ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے حساب سے ایک بے معنی مشقت میں جکڑا ہوا ہے اور یہ سوال کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کا کیا مقصد ہے؟ ہمیشہ جوں کا توں قائم رہے گا۔