Monday, 07 September 2026
  1. Home/
  2. Aaghar Nadeem Sahar/
  3. Aik Overseas Pakistani Ka Dukh

Aik Overseas Pakistani Ka Dukh

ارض مقدس کے سفر کی خواہش تو ایک طویل عرصے سے کر رہا تھا مگر اللہ رب العزت کے دربار سے منظوری میں وقت لگا۔ ہمارے ارد گرد ایسے افراد بھی ہوں گے جو عرصہ دراز تک سعودی عرب میں مقیم رہے مگر حج بیت اللہ یا عمرہ شریف کا سفر نصیب نہ ہوسکا، اسی لیے قبولیت بہت اہم ہے۔ جب منظوری ہو جاتی ہے، سارے راستے آسان ہو جاتے ہیں، آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کے لیے کہاں کہاں سے یقین کے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں، سفری اخراجات ہوں یا پھر وہاں کا قیام و طعام، سب کچھ انتہائی آسانی سے ممکن ہو جاتا ہے، پلک جھپکتے ہی سب کچھ آسان ہوجاتا ہے۔

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، ایک طویل عرصے سے خواہش تو تھی مگر کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی اور جب منظوری ہوئی تو سب کچھ ایک ہفتے میں طے پا گیا اوریہ سب کیسے ہوا، ایک عاصی، سیاہ کار، اس سرزمین پر کیسے پہنچ گیا، مجھے کچھ علم نہیں۔ اپنے دامن کو دیکھتا ہوں تو گناہوں اور ندامت کے سوا کچھ نہیں اور اس کی رحمت کی طرف دیکھتا ہوں تو شکرانے کے آنسو ہیں جو رکنے کا نام نہیں لے رہے، تمام التجائیں اشکوں میں ڈھل رہی ہیں۔

میری خواہش اور کوشش تو یہ تھی کہ مجھے لاہور سے فلائی کرنا پڑے اور قومی ایئر لائن ہو مگر ایجنٹ نے یہ مشورہ دیا کہ سعودی ایئرلائن اچھی بھی ہے اور پرسکون بھی، اس ایئرلائن میں وزن کا ایشو بھی نہیں ہوتا، آپ آسانی سے پچاس کلو تک کا وزن لا سکتے ہیں، مجھے یہ مشورہ پسند آیا، سعودی ایئرلائن بے شک مہنگی ہے مگر سفر پرسکون ہونا چاہیے۔ پاکستان سے بین الاقوامی سفر کے دوران ایک بڑا اور گھمبیر مسئلہ بورڈنگ ہے، پاکستانی ہوائی اڈوں پر ایف آئی اے کی جانب سے ایسے بے تحاشا افراد آف لوڈ کیے جا چکے جن کے بارے سکیورٹی اداروں کو خدشہ تھا کہ یہ عمرے پر جا کر واپس نہیں آئیں گے یا پھر ایسے نوجوان جو سٹڈی ویزوں کے بہانے نکلتے ہیں اور پھر دوسرے ممالک سے ڈنکی لگاتے ہوئے یورپ و امریکہ کی طرف نکل جاتے ہیں۔

یہ واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، پاکستان سے آئے روز ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑ رہے ہیں، ایسے نوجوانوں کی بھی ایک کثیر تعداد ہے جو عمرے پر جاتے ہیں مگر واپس آنے کی بجائے غیر قانونی راستوں سے کہیں اور نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، ہمارے سکیورٹی ادارے اس بات پر تو سختی کر رہے ہیں کہ نوجوان غیر قانونی طریقے سے ملک نہ چھوڑیں مگر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ لاکھوں کی تعداد میں ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

میں اس سفر کے دوران ایسے نوجوانوں سے بھی ملا جو سعودی عرب میں مقیم ہیں، وہ سعودی عرب سے لاکھوں روپے لگا کر یورپ تو جانا چاہتے ہیں مگر پاکستان نہیں آنا چاہتے، ایسے نوجوانوں کی بھی وہاں کثیر تعداد ہے جو غیرقانونی طور پر مقیم ہے مگر انھیں آپ جتنا بھی سمجھا لیں، وہ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے۔ وہ لاکھوں روپے کما رہے ہیں مگر پاکستان ایک روپیہ بھی انویسٹ نہیں کرنا چاہتے، ان کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ محب وطن بنیں اور اپنے ملک میں بزنس کریں، وہ قہقہ لگا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

میں وہاں ایک ایم فل کمپیوٹر سائنس نوجوان سے ملا، وہ تین سال پہلے آزاد ویزے پر پاکستان سے سعودی عرب آیا تھا، اب وہ سات آٹھ ملین روپے دے کر یورپ جانے کی کوشش میں مصروف تھا، اس حوالے سے اس کی ڈیل بھی کنفرم ہو چکی تھی۔ میں نے اسے کہا بھائی! آپ پڑھے لکھے ہیں، آپ جو ملین روپے لگا کر یورپ جا رہے ہیں، وہی پیسہ پاکستان میں جا کر انویسٹ کریں، اس سے آپ کا ملک بھی مضبوط ہوگا اور آپ کی فیملی اور بچے بھی آپ کے پاس ہوں گے، وہ میری بات سن کر حیران بھی ہوا اور طنزیہ قہقہہ بھی لگایا۔ کہنے لگا سر! چلیں مان لیا کہ میں یہی کام کر لیتا ہوں، کیا آپ مجھے گارنٹی دیں گے کہ میرا بزنس، میری فیملی اور میری جان، وہاں سب کچھ محفوظ رہے گا؟

میں اس سفر کے دوران مختلف ممالک سے آئے زائرین سے بھی ملا، کچھ سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کی اور کچھ سے اردو میں، بنگالی اور انڈین اچھی اردو جانتے ہیں، کچھ مصری اور ترکش نوجوان بھی ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے دکھائی دیے، ایک اندونیشین نوجوان جو اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا، سے بھی مختصر بات ہوئی۔ ایک دن طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر نفل ادا کرکے بیٹھا ہی تھا کہ ساتھ بیٹھے ایک انڈونیشین نوجوان نے سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا، اس کے ساتھ اس کی پارٹنر تھی، میں نے سلام کا جواب دیا تو بات چیت شروع ہوگئی۔

میں اس سے انگریزی میں بات کر رہا تھا اور وہ اپنی زبان میں، اسے انگریزی نہیں آتی تھی مگر اس کی پارٹنر انگریزی میں بات کر سکتی تھی جو ہم دونوں کے درمیان مترجم کا کردار ادا کر رہی تھی۔ میں نے جب اپنے تعارف میں بتایا کہ میں ایک ادارے میں استاد ہوں اور پی ایچ ڈی سکالر ہوں، تو وہ بہت خوش ہوا، اس نے بتایا کہ وہ بھی اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے اور عربی زبان روانی سے بول سکتا ہے۔ میں نے اسے سوال کیا کہ آپ پی ایچ ڈی سکالر ہیں، کیا اتنی بھی انگریزی نہیں جانتے کہ ہم بات چیت کر سکیں؟ اس کی پارٹنر نے جب اسے بتایا کہ میں انگریزی کے بارے یہ بات کر رہا ہوں تو وہ ہنسا اور بولا "ہم اپنی زبان اور ثقافت سے بہت محبت کرتے ہیں اور مجھے ذرا بھی عجیب نہیں لگ رہا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی"۔

اس کی پارٹنر کو بھی اتنی ہی انگریزی آتی تھی جتنی مجھے، یعنی حسب ضرورت۔ مجھے یہ بات اچھی لگی کہ وہ لوگ اپنی زبان و ثقافت کے بارے کتنے سنجیدہ ہیں۔ یہ خوبی میں نے عربیوں میں بھی دیکھی، میں حرم کے اندر اور مارکیٹ میں شاپنگ کے دوران، اگر کسی عربی سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کرتا وہ کسی پاکستانی، انڈین یا بنگالی کو میرے سامنے کر دیتے اور وہ ہم سے اردو میں مکالمہ کرتا۔ آپ کو سعودی عرب میں تقریباً ہر دکان پر، پاکستانی، بنگالی اور انڈین مل جائیں گے اور اس کی بنیادہ وجہ یہ ہے کہ عربی خود اپنی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہیں بول سکتے، یہ میرا تجربہ ہے، ممکن ہے ایسے عربی نوجوان بھی ہوں جو انگریزی روانی سے جانتے ہیں، مجھے اکیس دنوں میں ایک بھی عربی ایسا نہیں ملا جو انگریزی جانتا ہو۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui