مرحوم ڈاکٹر تیمور حسن تیمور جتنے عمدہ شاعر تھے، اتنے ہی عمدہ انسان تھے، ان کا اندازِ تکلم اور اندازِ فکر، ہم دوستوں میں اکثر زیر بحث رہتا، انھوں نے جلتے ہوئے سماج اور شہر پر درجنوں شعر کہے مگر ان کی ایک غزل جس نے بہت مقبولیت حاصل کی، اس کا مطلع کچھ یوں ہے: مجھ کو کہانیاں نہ سنا، شہر کو بچا؍باتوں سے میرا دل نہ لبھا، شہر کو بچا۔ یہ ایسے اشعار ہیں جو ہر دور میں پڑھے اور لکھے جا سکتے ہیں کیوں کہ یہ سماج اب جہاں پہنچ چکا ہے، اس کی واپسی جلدی ممکن نہیں لگ رہی، اللہ کرے یہ سماج بدلے اور میرے لوگوں کی خوشیاں واپس آئیں مگر بظاہر ایسا لگ نہیں رہا۔
موجودہ سیاسی بحران نے میرے ملک کی جڑوں کوجتنا کھوکھلا کر دیا ہے، اس کی جلدی بہتری کے امکانات نظر نہیں آ رہے، خیر آج میرا موضوع سیاسی نہیں، ادبی ہے کیوں کہ ہم اپنے پیارے دوست اور سوہنے شاعر تیمورحسن تیمور کو یاد کر رہے ہیں۔ تیمور کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا، ان سے محبت کرنے والوں اور ان کے مداحین کی فہرست بہت طویل ہے اور اس کی وجہ ان کا مثبت اورمحبت بھرا رویہ ہے، وہ جس سے بھی ملتے، اس کو یوں محسوس ہوتا جیسے تیمور صرف میرا قریبی دوست ہوں۔ وہ محفل میں ہوتے تو مرکز نگاہ ہوتے، ان کے قہقے، ان کی شاعری اور ان کا دبنگ لہجہ، محفل میں کسی اور کو بولنے نہ دیتا تھا، ہم سب دوست ان کے اسی مزاج کی وجہ سے ان سے محبت کرتے تھے، وہ ہمارے دوست بھی تھے، محسن بھی اور استاد بھی۔
ان کے قریبی احباب میں ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی، ڈاکٹر عارف مغل، رانا حسین ناہر، مظفر بلوچ، عمران تبسم اور آصف وٹو کا شمار ہوتا ہے۔ راقم اور ضمیر حیدر ضمیر کے ساتھ ان کی نشست و برخاست کا معاملہ ہی الگ تھا۔ اگرچہ وہ ہمیں بے پناہ محبت کیا کرتے تھے مگر جب کوئی بات ان کے مزاج کے خلاف ہو جاتی، انتہائی اونچی آواز میں ڈانٹ بھی دیا کرتے تھے اور یہی ڈانٹ ہمیں ان کے اور قریب کر دیتی۔ تیمور حسن تیمور کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس گزر چکاہے، ہم سب دوستوں کی خواہش تھی کہ ان کی پہلی برسی کے موقع پران کے لیے ایک یادگار مشاعرے کا اہتمام ہونا چاہیے اور اس خواہش کا اظہار ہم دوستوں نے جب اسلامیہ گریجویٹ کالج سوال لائنز کے پرنسپل ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی سے کیا تو انھوں نے فوراً کہا کہ یہ ادارہ حاضر ہے۔ نیازی صاحب خود بھی ایک اہم نقاد اور شاعر ہیں، ان کی طرف سے ایسی سپورٹ کسی نعمت سے کم نہیں لگی، یوں ڈاکٹر عارف مغل نے فاران اردو مجلس کے تحت مشاعرے کی تیاری شروع کر دی، شعراء کے انتخاب سے لے کر ہال کی تزئین و آرائش اور ہائی ٹی تک، میرے ان دوستوں نے تیمور سے محبت کا حق ادا کر دیا، رانا حسین ناہر ہوں یا پھر ضمیر حیدر ضمیر، مشاعرے کی کامیابی کے لیے ان دوستوں نے انتہائی احسن اقدامات کیے۔
مجھے اس مشاعرے میں شعرائے کرام کے انتخاب پر بہت خوشی ہوئی، ایسے قلم کاروں کا انتخاب کیا گیا جو شاعر بھی ہیں اور مشاعرے کی فضا اور اداب سے واقف بھی، ورنہ ہمارے ہاں مشاعرہ اب اسٹیج ڈرامہ بنتا جا رہا ہے، جو جتنی زیادہ "لڈیاں "ڈالتا ہے، ہال میں بیٹھی معزز خواتین اور یونیورسٹی کی لڑکیوں پر جملے کستا ہے، ان کے نام بے ہودہ شعر کرتا ہے، وہ زیادہ پاپولر ہو رہا ہے اور جب اس ساری صورت حال پر ہمارے سنجیدہ ادیب تنقید کرتے ہیں تو دفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ"شاعر کوئی مبلغ تھوڑا ہوتا ہے، اسے شاعر ہی سمجھیں"۔
حیرت ہے مجھے اس دفاع پر، رمضان المبارک میں حضرت شاعرصاحب"نعت گو"بن جاتے ہیں، محرم الحرام کے مہینے میں "سلام و مناقب"کہنا شروع کر دیتے ہیں، اپنے عقیدے اور مسلک کی تشہیر کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں سوچتے کہ ہم تو شاعر ہیں اور شاعر تو امن پسند ہوتا ہے، بلکہ بعض تو اپنے مسلکی نظریے پر شعر کہتے ہوئے مخالف سمت کی مقدسات کی توہین تک کر دیتے ہیں، تب انھیں یاد نہیں آتا کہ ہم تو شاعر ہیں اور جب ان کا محاسبہ ہونے لگے تو یہ لبرل اور ماڈرن بن جاتے ہیں۔ شاعر، شاعر ہوتا ہے، اسے شاعر ہی رہنا چاہیے مگر کیا شاعر کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ مشاعرے کی تہذیبی و ثقافتی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ الائو کا "جشن لاہور"ہو یاپھر اسلامیہ کالج کا یہ مشاعرہ، دونوں واقعی مشاعرے تھے۔
بیاد تیمور حسن تیمورمشاعرے میں کئی اہم نام قلم کار شریک تھے، صدارت کا منصب محترم نذیر قیصر کے پاس تھا، ایک ایسا شاعرجس کی شاعری کے چرچے پاک و ہند میں ہیں، ان کا تیمور کی محبت کے لیے تشریف لانا اور مشاعرے کو رونق بخشنا، اعزاز ہے۔ سعود عثمانی، شاہین عباس، عرفان صادق، سجاد بلوچ، عنبرین صلاح الدین، صائمہ آفتاب، خالد ندیم شانی، زیب النساء واثق اور تیمور حسن تیمور کے صاحبزادے ارمغان تیمور اس تاریخی اور یادگار مشاعرے کا حصہ تھے۔ معزز شاعروں نے تیمور حسن تیمور کو یاد بھی کیا اور اپنی شاعری سے بھی نوازا، سامعین میں اساتذہ بھی تھے اور طالب علموں کی کثیر تعداد بھی، سب نے بہ جم کر مشاعرہ سنا جس سے مشاعرے کی فضا کو چار چاند لگ گئے ورنہ مشاعروں کے جو حالات ہو چکے، اس کا مختصر سا اظہار درج بالا پیراگراف میں کر چکا۔
میری خواہش تو تھی کہ مشاعرے میں شریک شعرائے کرام کے شعروں سے آپ کو سرشار کرتا مگر آج ہم تیمور حسن تیمور کو یاد کر رہے ہیں لہٰذا آخر میں تیمور بھائی چند شعر پڑھیں:
مجھ کو کہانیاں نہ سنا، شہر کو بچا
باتوں سے میرا دل نہ لبھا، شہر کو بچا
تو اس لیے شہر کا حاکم کہ شہر ہے
اس کی بقا میں تیری بقا، شہر کو بچا
میرے تحفظات حفاظت سے ہیں جڑے
میرے تحفظات مٹا، شہر کو بچا
تو چاہتا ہے گھر ترا محفوظ ہو اگر
پھر صرف اپنا گھر نہ بچا، شہر کو بچا
تاریخ دان لکھے گا تیمورؔ یہ ضرور
اک شخص تھا جو کہتا رہا، شہر کو بچا