Monday, 28 September 2026
  1. Home/
  2. Aaghar Nadeem Sahar/
  3. Labbaik Ki Sada

Labbaik Ki Sada

جدہ ایئرپورٹ پر اترتے ہی سم کارڈ کی تلاش شروع کر دی، ہمیں پاکستان سے روانہ ہوتے ہوئے کچھ دوستوں نے مشورہ دیا تھا کہ نئی سم ایئرپورٹ سے مل جائے گی، ہمیں یہ بھی یہ بات پسند آئی مگر جب ایئرپورٹ پر مختلف کمپنی کی کیمپوں سے سم کارڈ کے ریٹ پوچھے تو ہوش اڑ گئے، جس کمپنی نے سب سے کم ریٹ بتایا، وہ ایک سو چالیس ریال تھا یعنی پاکستانی تقریباً دس ہزار۔ کچھ کمپنیوں سے ہم نے بات کرنے کی کوشش بھی کی مگر بے سود، خیر ہم سم خریدے بغیر ایئرپورٹ سے باہر نکل آئے جہاں لیموزین ہمارے انتظار میں تھی، لیموزین کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں کہ جو گاڑیاں پاکستان میں صرف ایلیٹ کلاس کے پاس ہوتی ہیں، سعودی عرب میں وہ ٹیکسی کے طور پر چلتی ہیں اور یہ بات میرے لیے نئی بھی تھی اور حیران کن بھی۔

لیموزین کا ڈرائیو پاکستانی تھا، ایک طویل عرصے سے یہاں مقیم تھا اور جدہ سے مکہ ٹیکسی چلاتا تھا، ٹیکسی کمپنی کی تھی، یہ تنخواہ پر ملازم تھا۔ وہاں ٹیکسی ڈرائیورز کے کوائف، ٹیکسی میں لگی سکرین پر مسلسل چل رہے ہوتے ہیں یعنی آپ مکمل محفوظ ہوتے ہیں۔

ہمیں پاکستان سے جاتے ہوئے دوستوں سے بہت سی احتیاطی تدابیر بتائی تھیں، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ کبھی کسی سیاہ فام کے ساتھ اکیلے سفر نہیں کرنا، ان کے بارے یہ بات بہت مشہور ہو چکی کہ یہ راستے میں لوگوں کو گھیر کر پیسے یا سامان چھیننے اور دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے افراد حرم کی حدود میں انتہائی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو سادہ لوح زائرین کو لوٹتے ہیں، انھیں ورغلا کر سامان چھینتے ہیں اور یہاں تک کہ سیاہ فام بھکاریوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ سیاہ فام افراد کا تعلق کسی ایک ملک یا شہر سے نہیں بلکہ یہ مختلف ممالک سے یہاں آتے ہیں، جیسا کہ نائجیریا، گھانا، ایتھوپیا، صومالیہ، کینیا، سوڈان، جنوبی افریقہ اور بہت سے دیگر افریقی ممالک، اس لیے ہم کسی ایک ملک پر یہ الزام نہیں دھرتے۔

سعودی حکومت نے اس حوالے سے انتہائی سخت قانون بھی بنا رکھے ہیں اور ایک ہیلپ لائن 911 بھی شروع کی ہے جس کا مقصد ایسے لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے جو حرم کی حدود میں بھیک مانگتے ہیں۔ بھیک مانگنے کی بات آئی تو پاکستان پر بھی ایسے الزمات لگتے رہے بلکہ سعودی حکومت نے جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع پر پابندی بھی لگائے رکھی، ان علاقوں سے لوگ عمرے یا حج پر جاتے ہیں اور اس کے بعد وہاں بھکاری بن کر دیہاڑی لگاتے نظر آتے ہیں۔ اب وہ پابندی تو کسی حد تک نرم ہو چکی مگر ابھی بھی ایسے لوگ آپ کو اپنے ارد گرد نظر آ جائیں گے جن کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں سے ہے، وہ لوگ عمرے کے ویزے پر وہاں گئے اور پھر گداگری کا پیشہ اپنا لیا۔

حرم کی سیکیورٹی اب اس حوالے سے بہت الرٹ رہتی ہے، انھیں حرم میں سیاہ فام باشندے بھیک مانگتے، اشیا بیچتے اگر نظر آجائیں تو وہ انھیں ڈنڈے سے بھگاتے ہیں۔ ایک دن نماز عشا ادا کرنے کے بعد ہوٹل کی جانب گامزن تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ درجنوں سیام فام عورتیں اور مرد، سامان اٹھائے بھاگ رہے ہیں، میں نے ایک پاکستانی سے پوچھا یہ کیا کہانی ہے، اس نے کہا پولیس کا ڈر، حرم کی سیکیورٹی انھیں اجازت نہیں دیتی کہ یہ حدود حرم میں خرید و فروخت کریں یا پھر لوگوں سے پیسے مانگیں۔

جدہ سے مکہ کا سفر، لبیک کی صدا کے ساتھ جاری رہا، میں گاڑی کے شیشوں سے اس سرزمین کو رشک سے دیکھ رہا تھا جہاں میرے آقا کریم ﷺ اور آپ کے پیارے اصحابؓ نے سفر کیا، جنگوں کا سفر، ہجرت کا سفر، تجارت کا سفر، کئی بار آنکھیں نم ہوئیں، کئی بار دل نے کہا، گاڑی سے اتر جاؤ اورپیدل چلو، اس زمین کو اپنی آنکھوں سے بوسہ دو، جوتے اتار دو، یہ مقدس زمین ہے۔ گاڑی آدھا گھنٹہ چلی تھی کہ حرم کی حدود شروع ہوگئی، مکہ ٹاور نظر آیا تو دل تیزی سے دھڑکنے لگا، میں نے لبیک کی صدا لگانا شروع کر دی، والدہ ماجدہ کو بھی بتا دیا کہ ہم حرم کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں، وہ اشکوں کے ساتھ تلبیہ پڑھنے لگیں، گاڑی ہجرہ روڈ کے ایک پرانے ہوٹل کے دروازے پر رکی، ہم نے سامان اتارا اور لابی میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد پاکستانی ایجنٹ آئے جنھوں نے ہمیں کمروں تک پہنچایا، ایک گھنٹہ کمرے میں آرام کیا اور بیت اللہ کی جانب چل پڑے۔

سفر کی تھکاوٹ بھی تھی اور نیند بھی مگر بیت اللہ کو دیکھنے کی تڑپ نے ساری تھکاوٹ اور نیند ختم کر دی، اب بس ایک ہی خواہش تھی کہ جلد از جلد بیت اللہ کے پاس پہنچ جاؤں اور غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹ جاؤں، کوئی مجھے واپس نہ بلائے، کوئی مجھے روکے نہ، اتنے آنسو بہاؤں کہ آنکھوں کا نیر ختم ہو جائے، ہچکی بندھ جائے اور جب واپس پلٹوں تو جھولی بھری ہوئی ہو۔ ہجرہ روڈ سے کبوتر چوک پہنچے تو لوگوں کا جم غفیر سامنے تھا، لبیک کی صدائیں روح کو سرشار کر رہی تھیں، ہر کوئی اشک بہا رہا تھا، میں اس خوبصورت منظر کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے قید کررہا تھا۔ کوئی کبوتروں کو دانہ ڈال رہا ہے، کوئی زائرین میں پانی کی بوتلیں بانٹ رہا ہے، کوئی کھانا بانٹ رہا ہے، ہر کوئی حسب توفیق ثواب کمانے میں مصروف تھا۔ ظہر کی اذان ہونے لگی، قدم تیز کر دیے کہ نماز حرم میں جا کر پڑھیں گے، باب فہد کے قریب پہنچے تو نظری جھکا لیں، ہم سنتے آئے تھے کہ پہلی نظر بیت اللہ پڑے تو جو دل میں مانگ لو، پلک جھپکے بغیر جو مانگو گے، اللہ کی طرف سے عطا ہوگا، ہم نے نظریں جھکا لیں، والدہ اور زوجہ کو بھی نظریں نیچی رکھنے کا کہا۔

باب فہد سے سیدھا بیت اللہ کے صحن میں جانے کے لیے ہر کوئی جلدی میں تھا، ہم بھی اس عظیم گھر کی زیارت کے لیے تڑپ رہے تھے، قدم تیز تیز بھرے تاکہ منٹوں کا سفر، سیکنڈز میں طے ہو، صحن سے نیچے اترنے لگے تو راستہ بند تھا کیوں کہ نماز کا وقت تھا، نماز کے دوران کچھ دیر کے لیے بیت اللہ کے صحن کو بند کر دیا جاتا ہے، ہم مطاف میں کھڑے ہو گئے، بیت اللہ کو نظر بھر کے دیکھا، آنکھوں سے چشمہ ندامت جاری ہوگیا، جتنی دعائیں یاد کی تھیں، سب بھول گئیں، بس سامنے اللہ رب العزت کا گھر تھا اور ہم تھے۔ دماغ میں سید صبیح الدین صبیح کی حمد "کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر"کے اشعار گونج رہے تھے "دیکھے تو دیکھے جاؤں برابراللہ اکبر اللہ اکبر"۔

خانہ کعبہ کا رعب و جلال اور خوبصورتی دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے، آپ کچھ دیر کے لیے تصور کریں زمین پر بیت اللہ، آسمان پر عین اس کے اوپر بیت المعمور اور پھر مرشد کریم ﷺ کی وہ حدیث، بیت اللہ کو دیکھنے والے پر بھی بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں، طواف کرنے والے پر ساٹھ اور یہاں نماز پڑھنے والے پر چالیس، یعنی بیت اللہ میں اللہ کی ایک سو بیس رحمتیں ہمہ وقت نازل ہوتی رہتی ہیں، ہم نے ان رحمتوں کے برسنے کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا اور دل سے ایک ہی دعا نکلی، ایک خدائے ذو الجلال، اپنے گھر بار بار بلانا کیوں اسے دیکھنا ثواب بھی ہے روحانی شفا بھی۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui