Saturday, 25 April 2026
  1. Home/
  2. Abdullah Tariq Sohail/
  3. Bayania Daba Liya

Bayania Daba Liya

ایرانی ذرائع سے یہ دلچسپ خبر آئی ہے کہ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامہ ای کی تصویر اس لئے جاری نہیں کی جا رہی کہ اس صورت میں دشمن ان پر جادو کر سکتے ہیں۔ جس طرح سے سائنسی علوم میں اضافہ ہو رہا ہے لگتا ہے جادوئی علوم بھی ترقی کر رہے ہیں۔ پہلے سنتے تھے کہ جادو کے لئے ضروری ہے کہ جس آدمی کو شکار کرنا ہو، اس کے جسم سے چھونے والی کوئی چیز جادو گر کے پاس ہو۔ مثلاً اس آدمی کا پہنا ہوا کوئی کپڑا، بالوں میں پھیری جانے والی کنگھی، زیر استعمال تولیہ، جوتے وغیرہ یا اس کے بال اور ناخن لیکن پچھلے کچھ عرصے سے پتہ چلا کہ تصویر بھی کافی ہے۔

تصویر جادوگر کو دو، وہ اُس پر جادو کرے گا اور کارگر ہوگا۔ لیکن یہاں معاملہ کچھ مختلف لگتا ہے۔ اوپر دی گئی خبر پاسداران انقلاب کے ذرائع نے دی لیکن انہی ذرائع نے ایک دوسری خبر بھی دی ہے۔ یہ کہ 28 فروری کے امریکی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے اور مصنوعی ٹانگ ان کے لئے بنوائی جا رہی ہے۔ ایک بازو بھی ناکارہ ہوگیا اور یہ کہ ان کا چہرہ بُری طرح جھلس گیا ہے۔ خاص طور سے ان کے ہونٹ تو بالکل ہی جل گئے وہ بول نہیں سکتے نہ کچھ سن سکتے ہیں، صرف ایک ہاتھ کے ذریعے اشاروں سے بات کرتے ہیں۔

جھلسا ہوا چہرہ جادو کے لئے پوری شناخت نہیں دے سکتا۔ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ ایسی حالت میں ان کی تصویر بنائی نہیں جاسکتی اور یہی وجہ ہے کہ اب تک مجتبیٰ خامنہ ای صاحب منظر عام پر آئے نہ انکی تصویر۔ اورکاروبار حکومت دراصل پاسداران کے سربراہ جنرل وحیدی ہی چلا رہے ہیں۔

جہاں تک جادو کی بات ہے جاننے والے جانتے ہیں کہ کسی پر ایک بار ہوجائے تو اس سے چھٹکارے میں بہت محنت اور وقت لگتا ہے لیکن ابھی ہوا نہ ہو، ہونے والا ہوتو پنج وقتیہ نمازی، باوضو رہنے والے آدمی کو چند دعاؤں کا ورد اور سورۃ البقرہ کی تلاوت ہی کافی ہے، جادو نہیں ہوگا۔ ہفتے میں نہ سہی، ہفتے میں ایک بار پوری سورۃ البقرہ تلاوت کر لی جائے تو جادوسے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ پوری سورۃ ایک ہی بار پڑھنا ضروری نہیں، تین دن میں اس کی تلاوت مکمل کر لی جائے تو بھی مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں سنی، شیعہ والوں کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ پاسداران کا خیال اس طرف کیوں نہیں گیا؟

مرشداتی جماعت کے غل غپاڑہ بریگیڈ کے غل غپاڑے سے معلوم ہواہے کہ "تتاپا" یعنی تحریک تحفظ پاکستان نے مرشد سے دغا بازی کی ہے۔ انہوں نے مرشد کا بیانیہ مرشد سے لے لیا لیکن آگے چلانے کے بجائے دبا کر بیٹھ گئے۔ یوں بیانیہ ہی غائب ہوگیا اور مرشد تین سال سے جیل میں سڑ رہے ہیں اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ عوام الناس بھی ان کو بھول بھال گئے۔

بیانیہ مرشد کے پاس نہیں رہا جن کو مرشد نے دیا وہ اسے دبا کر بیٹھ گئے۔ اس صورت حال پرایک واقعہ یاد آیا جو فلم بین حلقوں، بالخصوص پرانی فلموں کے شائقین کے لئے مزے کا باعث ہوگا۔

بھارت میں اگر چوٹی کے پانچ سات اداکاروں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں ایک نام کنہیا لال کا ہوگا۔ ایسا نیچرل اداکار کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ بھارت کی اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین "لیجنڈ" فلم "مدرانڈیا" کی کامیابی کا باعث اگر تین عوامل قرار دیئے جائیں تو ایک عامل یعنی ایک یہی کنہیا لال ترپاکھئی تھے۔ سکرپٹ میں لکھے مکالموں میں اپنے الفاظ کا اضافہ کرکے فلم ڈائریکٹر اور رائٹر کو حیران کردیتے تھے۔ کہتے ہیں صحافت میں الفاظ کے بادشاہ آغا شورش کاشمیری تھے تو فلم میں کنہیا لال، دونوں اتفاق سے ہم عصر بھی تھے۔

کنہیا لال بڑی عمر کے ہو گئے۔ ایک فلم میں انہوں نے ہیروئن کا باب بننا تھا۔ ہیروئن نئی تھی اور کنہیا لال کے بارے میں ٹھیک سے نہیں جانتی تھی۔ اس نے کنہیا لال کو دیکھا تو بڑی ناک بھوں چڑھائی، یہ گنوار سا دیہاتی میرا باپ بنے گا۔ نہیں باپ بدلو، یہ باپ مجھے نہیں چاہئے۔ بڑی مشکل سے اسے آمادہ کیا گیا، سین شروع ہوا، سین یہ تھا کہ ہیروئن بتا کر نہیں گئی، واپس آئی تو باپ اس کی باز پرس کرتا ہے، کہاں گئی تھی، کیوں گئی تھی وغیرہ وغیرہ۔

کنہیا لال نے اپنی جادوگری دکھائی ایسی مکالمہ آرائی کی کہ سارا سیٹ مسحور ہوگیا۔ ہیروئن تومارے حیرت کے سکتے میں آگئی۔ کنہیا لال کے مکالمے ختم ہوئے، ہیروئن کی باری تھی لیکن وہ توسکتے میں تھی، کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی۔ ڈائریکٹر نے یہ صورتحال دیکھ کر "کٹ" کرنا چاہا لیکن کنہیا لال نے معاملہ سنبھال لیا اور ہیروئن کے مکالمے اپنے لہجے میں بولنا شروع کر دیئے۔ یعنی یوں کہ ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ تم اب کیا کہوگی، کیا بہانہ بنا آئی یہ بات کرونگی، میں یہ اعتراض کرونگا، تو پھر یوں کہوگی، پھر یہ بولو گی یعنی سکرپٹ میں لکھے ہیروئن کے سبھی مکالمات کنہیا لال نے اپنی طرف سے ادا کر دیئے۔ سین ہیروئن کے کچھ بولے بنا ہی مکمل ہوگیا۔ "کٹ" کی ضرورت ہی نہ پڑی۔

مرشد کے معاملے میں بات کچھ اور ہوگئی۔ یہاں مرشد جو مکالمے بولنے سے قاصر تھا۔ وہ "تتاپا" نے بولنے تھے۔ لیکن تتاپا دغا دے چکا۔ مکالمے دبا لئے، نہ مرشد بول سکا نہ تتاپا نے بولے، نتیجہ یہ کہ "سین" غارت ہوگیا۔ سین کے غارت ہونے کا صدمہ غل غپاڑہ بریگیڈ کے دردناک غل غپاڑے سے آشکار ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais