Friday, 21 August 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Bazm Mein Chapqalish Bala Ki Hai

Bazm Mein Chapqalish Bala Ki Hai

سہارن پور، ہندوستان سے مدرسہ مظاہر علوم کے استاذ اور مجلہ "آئینہ مظاہر علوم" کے مدیر مولانا ناصرالدین مظاہری رقم طراز ہیں: "بعد سلام ونیازِ مقرون استفسار ہے کہ آج کل اُردو کے پڑھے لکھے حلقوں میں باہمی ناچاقی، طناطنی اور شکر رنجی کے مترادف کے طور پر چپقلش، کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ ازراہِ کرم اس لفظ کی لغوی و تاریخی تفصیل سے آگاہ فرمائیے کہ چپقلش، اصل میں کس زبان کا لفظ ہے؟ یہ اُردو میں کس ذریعے سے پہنچا اور یہاں آکر اس کے معنی میں کس طرح وسعت پیدا ہوئی؟ نیز اس کی وجہ تسمیہ یا وجوہِ تسمیہ کیا ہیں؟"

استادِ محترم کا دیا ہوا پرچۂ سوالات حل کرنے سے پہلے ایک پیچیدہ لفظ کا پیچھا کرلیتے ہیں۔ خط کی ابتدا میں مولانا نے لفظ "مقرون" استعمال فرمایا ہے۔ مقرون کے معنی ہیں ملاہوا، جڑا ہوا یا متصل۔ وہ چیزیں جو باہم پیوست اور مربوط ہوں۔ مقرون، ہی کے خاندان کا ایک لفظ قرین، یا قریں، ہمارے ہاں عام استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے معنی بھی قریب، پاس، ملا ہوا اور مماثل ہیں۔ دوست اور ہم نشین کو بھی قرین، کہا جاتا ہے۔ جس بات کو عقل قبول کرلیتی ہو اُسے قرینِ قیاس، کہا جاتا ہے۔ قیاس اور اندازے کو قرینہ، بھی کہتے ہیں۔ مثلاً:

"قرینہ یہ کہتا ہے کہ زید وہاں ضرور گیا ہوگا"۔

یہی قرینہ، ڈھنگ، سلیقہ، شکل، صورت اور وضع کے معنی بھی دیتا ہے۔ ذوقؔ کے حواس نہایت قرینے سے بے قرینہ ہوگئے تھے:

حواسِ خمسہ جو میرے قریں تھے
قرینے سے ہوئے سب بے قرینے

قدیم زمانے سے خطوط کے آغاز میں "سلامِ مسنون و نیازِ مقرون"لکھنے کا رواج چلتا چلا آرہا تھا۔ اس رواج میں رخنہ کیسے پڑا؟ اس پر ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ سو اپنا لکھا آپ پیش کرتے ہیں:

شاہ ولی اللہؒ کے زمانے تک برعظیم کے مسلمانوں میں فقط آداب و تسلیمات، ہی کا رواج تھا۔ آداب بجا لاتا ہوں۔ تسلیم۔ تسلیمات۔ سلام عرض ہے۔ چچا جان قبلہ! سلامِ مسنون۔ ابّا سلام۔ امّاں سلام۔ چھوٹے خالوسلام۔ بڑی خالہ سلام۔ وغیرہ وغیرہ!

ایک روز شاہ ولی اللہؒ کی محفل میں ایک نوجوان تشریف لائے۔ آتے ہی گرج دار آواز میں فرمایا:

"السّلامُ علیکُم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، "

یہ نوجوان بعد کو شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے شاگرد ہوئے اور "امیرتحریکِ مجاہدین" بنے۔ شاہ ولی اللہؒ، سید احمدؒ کے منہ سے سلام کے یہ کلمات سن کر حد درجہ مسرور ہوئے اور نہایت مسرت آگیں لہجے میں جواب دیا:

"وعلیکُم السّلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، "

اس کے بعد آپؒ نے حاضرین سے فرمایا: "سلام کرنے کا مسنون طریقہ یہی ہے"۔

پھر اپنے شاگردوں، مریدوں، معتقدین اور متوسّلین کو حکم دیا: "آیندہ ہرشخص بہ طریق سنّتِ نبویﷺ سلام کیا کرے"۔

یوں شاہ ولی اللہؒ اورآپ کے پیروکاروں نے ایک بھولی بسری سنّت کا احیا کردیا۔ اُنھوں نے اِن کلماتِ سَلام کو اِس قدر رواج دیا کہ اب ہمارے معاشرے میں یہ کلمات قطعاً اجنبی نہیں رہے۔ انتہائی معروف اور مانوس کلمات ہیں۔ اب پُرانا طریقہ ٔ سلام ہی بیش تر غیر معروف اور نامانوس ہوچکا ہے۔ پھر بھی ہمارے جو قارئین اپنی قدامت پرستی پر ڈٹے رہنا چاہتے ہیں، اُنھیں سلامِ مسنون و نیازِ مقرون۔

خیر، جدت و قدامت کی چپقلش تو چلتی رہے گی۔ چلتے رہنے دیجے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ چپقلش، ہے کس زبان کا لفظ؟ اِن ہی کالموں میں ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اُردو کے جن الفاظ میں چ ق، اورچ غ، کا امتزاج نظر آئے تو جان لیجے اور پہچان لیجے کہ ان میں سے اکثر الفاظ ترکی الاصل ہیں۔ مثلاً چِق، چاق، ناچاقی، چاقو، چقندر، چقماق، قینچی، چُغا، چَغتائی، چُغد (اُلّو)، چُغل اور چُغلی وغیرہ۔

چپقلش، بھی ترکی یا چَغتائی زبان سے اُردو میں آیا ہے۔ کس ذریعے سے آیا؟ کہا جاتا ہے کہ مغل ترک اپنے مقر، سے چلے (یعنی جائے قرار سے) تو اس لفظ کو ساتھ لے کر چلے۔ جہاں جہاں وہ گئے یہ لفظ بھی گیا۔ برعظیم میں آئے تو اسے ساتھ لے کر آئے۔ سچ پوچھیے تو مغلوں ہی نے اسے صحیح معنوں میں برتا۔ اس لفظ کے جو گہرے اثرات ہمارے مغل شہزادوں پر پڑے، تاریخ نے انھیں محفوظ کررکھا ہے۔

چپقلش، کے چ، پر زبر، پ، ساکن، ق، پر زبر اورل، کے نیچے زیر ہے۔ لیکن اس لفظ کے تلفظ پر اہلِ لغت میں بھی چپقلش ہے۔ بعض لغت نویسوں نے ل، کو زیر سے زبر کردیا ہے۔ پس قرینِ مصلحت یہی ہے کہ دونوں کو درست مانا جائے۔ کچھ لوگوں نے چپقلش، کو فارسی الاصل قرار دیا، مگر لغت نامہ دھخدا میں بھی اسے ترکی الاصل ہی قرار دیا گیا ہے اور اس کے دو تلفظ مزید بیان کیے گئے ہیں، ایک چپقولش اور دوسرا چپغولش۔ چپقلش، کے بنیادی معنی تو جنگِ شمشیر، کے ہیں، یعنی تلوار کی لڑائی یا تلوار کے دو ہاتھ۔ مگر مولانا نے جو معنی بیان کیے ہیں اُن کے علاوہ چپقلش، کے مفہوم میں آپس کی خوں ریزجنگ، قضیہ، ہنگامہ، کشمکش، تکرار، لڑائی، جھگڑا، مخالفت، کشیدگی، پرخاش، تکدُّر، بھیڑ بھاڑ، کثرتِ انبوہ کی وجہ سے دھکم پیل اور گتھم گتھا ہونا وغیرہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ جیسے: "صدر بازار میں بڑی چپقلش ہے"۔

مظاہری صاحب نے پوچھا ہے کہ "اُردو میں آکر اس کے معنی میں کس طرح وسعت پیدا ہوئی؟"

تو عرض یہ ہے کہ اُردو زبان میں آنے کے بعد اس کے مفہوم میں وسعت نہیں تنگی پیدا ہوگئی ہے۔ اب ہماری زبان میں چپقلش، کا لفظ محض باہمی نزاع، آپس کی کشاکش اور کھینچا تانی کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ ہنگامے اور بھیڑبھاڑ وغیرہ کے لیے نہیں۔ نہ جانے دیگر معنوں سے لوگوں کو کیا چپقلش ہے۔

شاعروں میں چپقلش کے قصے تو آپ نے بہت سنے ہوں گے، لیکن بعض شاعروں کے بعض اشعار میں بھی چپقلش، موجود ہے۔ مثلاً قائمؔ چاند پوری کوچۂ محبوب میں پہنچ کر اس چپقلش میں پڑگئے کہ

کس طرح کوئی گزرے تری رہ سے کہ پیارے
ہر گام پہ اس کوچے میں ہے چپقلشِ دل

اُدھر اخترؔ بھی یہ کہتے ہوئے محفل محبوب سے دوڑلیے کہ

ایک تم اور لاکھ غمزہ و ناز
بزم میں چپقلش بلا کی ہے

جب کہ مولانا الطاف حسین حالیؔ حسبِ عادت و حسبِ عداوت عشق، کی پونچھ پکڑے کھڑے ہوئے ہیں کہ "اے عشق تونے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا" اور محض قوموں کو تناول کرنے یا فقط قیسؔ و کوہکنؔ کی جان لے لینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ

عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی
عقل و خرد کا تو نے خاکا اُڑا کے چھوڑا

یہاں چپقلش، کا لفظ اپنے بنیادی معنوں میں استعمال ہوتانظر آ رہا ہے، یعنی جنگِ شمشیر یا تلوار سے دو دو ہاتھ۔

امید ہے کہ گرامی قدر مولانا ناصرالدین مظاہری اس لفظ کا کچا چٹھا جان لینے کے بعد اب چھڑی ہاتھ میں لے کر اس لفظ کو اپنے کمرۂ جماعت میں بلائیں گے اور اسے اس کے کرتوتوں کی سخت سزا دیں گے، نیز مرغا بنائیں گے۔ مولانا کا خط ایک بار پھر پڑھ کر دیکھیے۔ اُن کی تفتیش کے تیور تو ایسے ہی لگ رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس لفظ سے اُن کی پُرانی چپقلش ہے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui